فردوس تسلیم رحمانی۔۔ باغِ ماہتاب
غم و اندوہ ہے ، اک ماتم بپا سرِ عام ہے
آہ و زاری کی طرز ہر سو مچا کہرام ہے
مانا ہر ذرّے کو مرعوب کیا ہے انسان نے
جو بھی ہے، بندہ ہے،کر گیا صد آشام ہے
یہ بھی سچ ہے خطاکار بہت ہیں یاں پر
کوئی تو ہے گریبانِ شفاف پر گمنام ہے
کیسا یہ بدلہ بپا کر گیا تٗو طول و عرض
منچلا اک ، مچلتا ہوا تِنکا سا بے لگام ہے
وہ جھلستے ہوئے شَو، دفن ہوتے یہ بدن
کس قدر کوفت بھرا واقعی یہ انجام ہے
سر پٹختے یہ عزادار کہاں ہیں گنتی میں
ان کے خِرمن سے عیاں برملا یہ پیام ہے
’’رب‘‘ تٗو جو چاہے وہ انداز نبھالیں گے ہم
روک لے، باندھ اسے کہ یہ اب بڑا بدنام ہے
