از قلم: ملک منظور
لوگ اس دور کو علم و دانش کا دور کہتے ہیں ۔۔کہیں گے کیوں نہیں ۔آخر انسان نے ہر شعبے میں ترقی اسی علم کی وجہ سے ہی کی ہے ۔انسان نے اس حد تک ترقی کی ہے کہ اب کائینات کے خالق کی تلاش میں جھٹ گیا ۔کہنے کا مطلب صاف ہے انسان اس دنیا کا خالق و مالک خود بن بیٹھا ہے ۔علم سے انسان کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ زیادہ مہزب اور رحمدل بن جاتا ہے ۔لیکن ایسا تو نہیں دکھ رہا ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا بھر میں خون خرابا نہیں ہوتا ۔سکون اور اطمینان کے ساتھ لوگ زندگی بسر کررہے ہوتے ۔۔دنیا کو تباہ و برباد کرنے والے ہتھیار نہیں بنتے ۔آج میرے دوست کو یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری ملے گی ۔یونیورسٹی سے ہی بڑے بڑے سائنسدان نکلتے ہیں ۔۔لیکن آج کل ان دانشگاہوں سے ایسے انسان نہیں نکلتے جو انسانیت کے مسیحا اور امن کے پرستارہوتے ۔۔اگر یونیورسٹی اور کالجوں میں زیرتعلیم نوجوان امن و آشتی کے لئے کام نہیں کریں گے تو کون کرے گا ۔۔میں نے اپنے دوست سے کہہ دیا ہے کہ وہ اس مدعے پر بات کرے ۔۔۔شاید کوئی بدلاؤ آئے۔۔
یونیورسٹی کا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا ہے ۔بڑے بڑے دانشور کرسیوں پر براجمان ہیں ۔یونیورسٹی کے اسکالر بھی جمع ہوگئے ہیں ۔یونیورسیٹی میں اہم سالانہ اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں قومی سطح کے معزز مہمان بھی ہیں۔کرسیوں پر بیٹھے لوگ اپنی اپنی تقریر کا اعادہ کررہے ہیں۔سامنے ایک بڑا اسکرین لگا ہوا ہے ۔ڈائس انچارج ڈائس پر کھڑا ہوگیا ۔ایک ایک کرکے مقررین کو بلانے لگا۔
۔باری باری سب نے تقریر کی اور مختلف العنوان موضوعات پر روشنی ڈالی ۔اب آخر پر ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے والے نادم کی باری ہے ۔
ڈاائیس انچارج نے مائیک ہاتھ میں لے کر کہا :اب آخر میں ہماری یونیورسٹی کا ہونہار ،ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے والا زہین اور دور اندیش طالب علم نادم آپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرے گا۔۔۔نادم
نادم مجلس کے بیچ سے نکل کر ڈائیس پر کھڑا ہوا اور دانشوروں کی مجلس پر نظر ڈال کر کہنے لگا ۔۔۔
نادم :۔۔۔آج اس شاندار اجلاس میں میں آپ سب دانشوروں، عظیم ہستیوں،زیرک معلموں اور فلاسفروں کے زرخیز زہنوں کی توجہ ایک ایسی بات کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں۔جس پر نہ صرف غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کی بیخ کنی کے لئے کوششیں بھی ناگزیر ہیں
اسکرین چمک اٹھا تو
مجلس میں بیٹھے سب لوگوں کینظریں سکرین پر جم گئیں۔
نادم :۔۔۔آپ سب اس اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویر پر غور فرمائیں ۔۔۔یہ محض ایک پہاڑ ،میدان یا سمندر کی تصویر نہیں ہے۔۔۔بلکہ اس تصویر میں دکھائی دینے والی یہ لکیر سیما یعنی سرحد کہلاتی ہے۔اس سیما کے اس پار بھی ایک آدمی بندوق تانے کھڑا ہے اور اس پار بھی ۔ اس سیما نے منافرت اور منافقت کو پروان چڑھا کر ہماری زندگی جہنم بنادی ہے ۔۔۔
ایک سیما نے دو فوجیوں کو جنم دے کر دو ملکوں کو تخلیق کیا ۔۔۔پھر دو سیاستدان وجود میں آئے۔۔۔اسی طرح دو ملک اور دو حکمران خلق ہوئے۔۔۔۔حکمرانوں کی من مانیوں نے ہمارے دلوں میں نفرت،عداوت ،حسد ،بغز ،کینہ ،دشمنی اور نسلی ،مزہبی ،علاقائی اورلسانی امتیاز جیسی سیماؤں کو فروغ دیا ۔۔۔جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہم ۔۔۔۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔۔۔گولیاں برسا رہے ہیں۔۔۔۔۔ سامراجیت پنپ رہی ہے۔۔۔اقتصادی توازن میں بگاڑ پیدا ہوا ۔۔۔مہلک ہتھیاروں کے ایجاد کی دوڈ شروع ہوئی ۔۔۔۔دہشت گردی پروان چڑھی ۔۔۔۔جنگ وجدل نے تباہی مچائی۔۔۔۔دادا گری کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
یہ سب اس سیما کی وجہ سے ہوا ۔۔۔۔۔لوگ مفلسی کے شکنجے میں کراہ رہے ہیں۔۔ ۔۔۔لیکن ہم مہلک ہتھیار بنا رہے ہیں ۔۔
مجلس میں بیٹھے سب لوگ سر ہلاتے ہوئے ۔۔بالکل درست
پوچھا جاسکتا ہے کیوں ؟ تھوڑی خاموشی کے بعد۔۔
نادم ؛۔۔۔ ایک پہچان ،ایک انسان ،ایک زندگی ،ایک دنیا ،ایک جسم ،ایک نظام ،ایک خدا ،ایک زمین ،ایک آسمان ،ایک ہی خون ،ایک ہی ساخت اور ایک ہی طرز زندگی کے باوجود دو نظام اور دو حکمران کیوں ؟ یہ تفرق کیوں؟ ،لڑائی کیوں؟ جھگڑے کیوں؟ ،خون ریزی کیوں ؟،نفرت کیوں؟ عداوت کیوں ؟۔کس نے دیا جنم اس کو ؟
یقیناً آپ سب کا جواب یہی ہوگا ” سیما نے ”
آؤ اس سیما کو مٹائیں ۔دوریوں کو گھٹائیں۔۔نفرتوں اور عداوتوں کا قلع قمع کریں ۔بھائی چارے اور انسانیت کو فروغ دیں ۔۔۔۔
مجلس میں بیٹھے لوگوں نے تالیاں بجا کر تائید کی
نادم تقریر جاری رکھتے ہوئے ۔۔۔۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دانشگاہوں کے زریعے سیماوں کو مٹانے کی کوشش کریں ۔۔۔کیونکہ ان دانشگاہوں سے دنیا کی عظیم ہستیاں نکلتی ہیں ۔جو دنیا بھر میں انقلاب برپا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔دنیا کی ساری دانشگاہیں ایسا انقلاب لا سکتی ہیں ۔۔۔بشرطیکہ کوشش کی جائے ۔۔۔آج دنیا امن و آشتی کے لئے ترس رہی ہے ۔۔۔۔ہزاروں لوگ پناہ گزین ہیں ۔۔کیوں ؟
دنیا انسانوں سے ہے تو دنیا انسانوں کے لئے ہے ۔پھر پناہ گزین کیوں ۔؟ ویزا اور پاسپورٹ کیوں؟ بندشیں کیوں ؟ زرا غور کریں ۔۔۔ہمارے درمیان کتنی سرحدیں ہیں ۔۔۔سرحدوں کے اندر سرحدیں ۔جنسی امتیاز کی سرحد ۔۔مزہب کی سرحد۔۔رنگ و نسل کی سرحد۔۔علاقائی اور زبان کی سرحد۔امیری اور غریبی کی سرحد۔۔۔زات پات کی سرحد ۔۔اونچ نیچ کی سرحد۔۔۔ ان سرحدوں کو مٹانا ہے ؟پیار کو بڑھانا ہے۔۔۔آپسی بھائی چارے اور غیر جانبداری کو پروان چڑھانا ہے ۔۔۔
۔سرحدوں کو مٹانے سے انسانیت غلبہ پائے گی۔اورخوشحالی آئے گی ۔۔۔میں امید کرتا ہوں کہ اصلاح کی شروعات یہاں سے ہوگی ۔۔۔۔اور ہم سے ہوگی ۔۔
باقی شکریہ۔۔نادم نے تقریر مکمل کی ۔
ڈائس انچارج نے پھر سے مائیک ہاتھ میں لی ۔۔۔۔۔نادم کی سنہری باتوں کو سراہتے ہوئے کہا ۔۔۔۔دنیا کو واقعی لکیروں اور سرحدوں نے ڈانٹ دیا ہے ۔۔۔۔کتنا اچھا ہوگا اگر نفرتوں کو مٹا کر محبت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے ۔۔
مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام اختتام کیا گیا
مجلس میں شامل تمام شرکاء نے تالیاں بجا کر نادم کے خیالات کی تائید کی ۔لیکن جب سارے لوگ باہر نکلے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے ۔۔۔
۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔کیسے ہوگا ؟
یہ باتیں سن کر میرا خونکھول اٹھا ۔۔۔میں سوچنے لگا کیسے دانشور ہیں ۔۔
۔۔۔کچھ کرنے سے پہلے ہی ہتھیار چھوڑ دئیے ۔۔۔کوشش تو کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔بدلاو کی تحریک تو چلائی جاسکتی ہے۔۔۔۔یونیورسٹیاں اور کالج کلیدی کردار نبھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔آخر کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔۔۔۔ دنیا کے بڑے سے بڑے انقلابوں کی شروعات بھی کسی نہ کسی کی کوشش سے ہی ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔دنیا کتنی حسین ہوگی جب اس میں نہ سیما رہے گی اور نہ ہی منافست۔۔۔
ملک منظور قصبہ کھُل کولگام ۔۔۔۔9906598163
