موج 118

اُردو زبان

آفاقؔ دلنوی کشمیری

سن! اے اردو زباں کے ترجماں
سن!
تم اس شیریں زباں سے
عدو کا خوب تعارف کرانا
یہ کہنا
سن اے بھائی میرے
تم اپنے زور اور طاقت کے بل پر
اس گنگا جمنی تہذیب و تمدن کی
مفسر ہند آریائی زباں کو
مٹانے پہ بتاؤ کیوں تلے ہو
تم اپنی دوہری حکمت کے تابع
اسے کیوں کر رہے ہو
یہ وہ میراث یے جس کو ولؔی نے
جگر کا خون دے دے کر ہے سینچا
جسے آشفتہ نوا میؔر نے گردوں پہ کھینچا
جسے غالؔب نے آبِ خضر کے ساغر پلائے
جسے اقباؔل نے شاہین کے تیور سکھائے
جسے حالؔی نے خستہ حالتوں سے آزاد کر کے
نئی منزل کی جانب گامزن ہونے کی راہیں ہیں دکھائیں
جسے منشی نے دیہاتوں سے لاکر
شہر کے بام و در سے ہے ملایا
جسے سعادت حسن منٹو نے
دیارِ زندگی کے خشک و تر سے ہے گزارا
‏جسے سرسید احمد خان نے علومِ نو سے ہے آگاہ کرایا
‏وہ جس کے آئینے میں داؔغ، حسرؔت، جوؔش ،موؔمن ، ذوؔق، فاؔنی اور جگؔر نے
‏رخِ معشوق کے جلوے سجائے
‏وہ جس کو فیض احمد فیضؔ نے کنجِ قفس میں گنگنایا
‏وہ جس کی روشنائی میں ہے آغا حشؔر، شورؔش ، جکسبؔت و تنہاؔ کا تخیل جگمگاتا
‏وہ جس میں فراؔز، قتیؔل ، کیفؔی ، پرویؔن، شکیؔل ، مجاؔز ، شہرؔیار و ساحؔر کے ترانے گونجتے ہیں
‏وہ جس کو ہر عہد میں اہل شر نے
‏خدانخواستہ جڑ سے مٹانے کے ارادے کر لئے ہیں
‏مگر جبروت اور ویوہار اس کا
‏یہ اپنے جانی دشمن کو بھی چھاتی سے لگا کر
‏رواداری کی راہوں پہ ابھی تک گامزن ہے

آفاقؔ دلنوی کشمیری
دلنہ بارہمولہ کشمیر
رابطہ نمبر 7006087267

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں