کاش ایسے بھی مراحل سے وہ گزرے ہوتے 116

جب رات کی تاریکی ماحول کو ڈستی ہے

غزل

منظر زیدی

جب رات کی تاریکی ماحول کو ڈستی ہے
گھبرا کے تبھی شبنم پھولو ں سے لپٹتی ہے
تصویر مری مجھکو آتی ہے نظر لوَ میں
جب رات کے آنچل میں اک شمع پگھلتی ہے
جیسے کوئی تربت پہ اک شمع جلا جائے
یوں یاد صنم تیری اب دل میں بھڑکتی ہے
کیا بات ہے مدّت سے آنکھوں کے سمندر میں
معصوم سی اک مچھلی راتوں کو مچلتی ہے
جھانکو نہ دریچے سے آسیب زدہ دل میں
اک روح مسافر کی مدّت سے بھٹکتی ہے
جب نام تیرا کوئی دوہرائے مرے آگے
گزرے ہوئے لمحوں سے اک ٹیس ابھرتی ہے
فوارے کی صورت سے تُو خود کو سمجھ ا ونچا
پل بھر کی بلندی ہے تا عمر کی پستی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں