نام تصنیف ۔۔اقبالؒ کی شاعری کے تخلیقی و فکری زاویے 106

منظر ذیدی کا شعری مجموعہ “غزل کی چھاؤں “تبصرہ

تبصرہ نگار :سبزار بٹ….اویل نورآباد

غزل اردو شاعری کی بہترین صنف ہے بلکہ اس صنف کو اردو شاعری کی آبرو ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اردو کے بیشر شعرائے کرام نے غزل کو اظہار رائے کا وسیلہ بنایا ہے ۔غزل انسانی جزبات اور احساسات کی ترجمان رہی ہے ۔موجودہ دور میں بھی مختلف شعراء غزل کی آبیاری کرنے میں لگے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ غزل سے اپنا نام روشن کرنے میں مصروف ہیں۔ ان شعراء میں منظر ذیدی کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ منظر ذیدی کی پیدائش یو پی کے ضلع بجنور میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم چاندپور کے نگر پالیکا کے اسکول سے ہوئی۔ جبکہ دسویں اور باریں جماعت کے امتحانات میرٹھ سے پاس کیے بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔ منظر ذیدی نے میرٹھ سے ماہنامہ روشنی اجرا کیا اس طرح سے انہیں ملک کے مختلف شعراء سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جس نے شاعری کے شوق کو مزید جلا بخشی ۔منظر ذہدی کی غزلیں اگر چہ ہند و پاک کے مختلف اخبارات کی زینت بنیں ہیں ۔تاہم حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ غزل کی چھاؤں نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔ ان کے شعری مجموعے کا مطالعہ کر کے میں کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بہت ہی سیدے سادے انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے شاعری میں راست طریقے سے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ منظر نے موجودہ دنیا کے مسائل جیسے قتل و غارت گری، ناانصافی، افلاس، فریب، ٹوٹتے رشتے، آج کے انسان کا دہرا معیار، محبوب کی یاد، اور محبت کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا یے۔ منظر نے لفظ یاد کو مختلف انداز میں استعمال کیا ہے۔ اور یاد کے حوالے سے اپنے خیالات کچھ اس طرح ظاہر کیے ہیں
بے وقت مجھکو منظر کیوں ہچکی آرہی ہے
بھولے سے ان کو شاید یاد آرہا ہوں میں
تیری قربت نے سکھائی تھی محبت مجھکو
اور تیری یاد نے اب مجھکو بنایا شاعر
مدت کے بعد سامنے پھر ان کو دیکھ کر
برسوں پرانی یاد کا ناسور پھٹ گیا
تیری تمام یادیں جو مجھکو عزیز تھیں
اس خط کے ساتھ آج وہ لوٹا رہا ہوں میں
مزکورہ شاعر نے محبت جیسا حسین موضوع اپنی شاعری میں بہت خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا ہے لکھتے ہیں کبھی محبوب کی تصویر اور کبھی محبوب کے خطوط میرے جینے کا آسرا ہیں
منظر یہی تو آج ہے جینے کا آسرا
تصویر تیری اور ترے لکھے ہوتے خطوط
ہم نے پودے کو چھوا تو شرم سے جھکتا گیا
چومتی ہے رات بھر شبنم تو شرماتا نہیں
دلاتا ہے کسی کی یاد اکثر راتوں میں
میری دیوار پر چسپاں کلنڈر میں بنا چہرا
فضا میں گھل سی رہی ہے عجیب سی خوشبو
گلاب جیسے کھلے ہوں کسی کے عارض پر
منظر ذیدی کی شاعری ترنم سے بھری پڑی ہے۔دل کرتا ہے کہ ان کی شاعری کو گنگناتے رہیں ۔نمونے کے طور پر ان کے یہ اشعار حاضر خدمت ہیں
اچانک دیکھ کر تم کو کہیں پاگل نہ ہو جاؤں
نظر کے سامنے آؤ مگر آہستہ آہستہ
کسی کی زندگی میں اس طرح شامل ہوا جائے
شجر پر جیسے لگتے ہیں ثمر آہستہ آہستہ
منظر ذیدی نے دنیا کی بے ثباتی اور ناپائداری اور موت کی حقیقت کا اظہار بھی بہت دلچسپ انداز کی کیا ہے لکھتے. ہیں
تم اپنی جرأت پرواز پر اتنا نہ اتراؤ
کہ جل جائیں گے سارے بال و پر آہستہ آہستہ
یہ جب سے موت کا سایہ دکھائی دیتا ہے
بدن ہواؤں میں ٹھہرا دکھائی دیتا ہے
منظر ذیدی چونکہ انجینئرنگ سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔لہذا انہوں نے اپنی شاعری میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات کو بہت اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
کل تک جو رینگتا تھا زمینوں کی گود میں
پہنچا ہے اب تو چاند پہ منظر یہ آدمی
تم فقط چاند کو انسان کی نہ منزل سمجھو
حوصلہ ہے ابھی سورج پہ کل یہ جائے گا
پانی میں جیسے برق چھپی ہے اس طرح
اندر سے کچھ ہے اور کچھ باہر یہ آدمی
ہماری پیاس کا عالم ہوا یہ صحرا میں
دکھائی ریت بھی دیتی ہے آب کی چادر
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج کا انسان دہرا معیار اپنا رہا ہے سامنے کچھ اور ہوتا ہے اور پیٹ پیچھے کچھ اور۔آجکل کے انسان کی زبان پر کچھ ہوتا ہے اور دل میں کچھ اور۔اسی دہرے معیار کو منظر ذہدی نے بہت ہی سیدے سادے انداز میں کچھ اس طرح پیش کیا ہے
ہمیں خط میں جو لکھتے تھے ملے مدت ہوئی تم سے
مگر جب گھر گئے ان کے تو انکا بجھ گیا چہرا
آجکل کل دنیا میں ہر طرف سے بدامنی ہی بدامنی نظر آتی ہے اس بدامنی اور انتشار سے متاثر ہوئے بغیر منظر نہ رہ سکے اس بات کو بھی انہوں نے اپنی غزل کا موضوع بنایا ہے کیونکہ غزل میں ایسی صلاحیت ہے کہ اس میں ہر طرح کا مضمون پیش کیا جاسکتا ہے ۔جیسے
کوئی سنتا نہ بری بات نہ جھگڑے ہوتے
کتنا اچھا تھا اگر آدمی بہرے ہوتے
وہ اک تالاب جو سوکھا پڑا تھا مدت سے
شہر کے دنگوں میں لاشوں سے بھر گیا ہوگا۔
امن و پیار کی ہر شاخ جلا دی لوگو
دل کے رشتوں کے بھرم کو نہ توڑو لوگو
اب فراق و فیض و ساحر ہیں نہ جوش
موت کا طوفان ہی سب کو بہا کر لے گیا
بس ان کے واسطے دنیا میں امن ہے باقی
سماعت اور بصارت سے ہیں جو کوسوں دور
منظر ذیدی نے اپنی شاعری میں تلمیع جیسی عمدہ صنعت کا بھی بہترین استعمال کیا ہے نمونے کے بطور ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
ہر طرف حسن کے بازار لگے کہ یارو
مصر سے آئے خریدار چلو تیز چلو
مزکورہ شاعر کی غزلوں میں منظر کشی اور محاکات کی بھی کمی نہیں ہے اس منظر کشی کا اندازہ مندرجہ ذیل اشعار سے لگا یا جا سکتا ہے۔
چندن کے پیڑوں پر جب جب سانپوں کو لٹکے دیکھا ہے
تیرے چہرے پر بکھری وہ تیری زلفیں یاد آتی ہیں
منظر ذیدی کا ماننا ہے کہ پہلے اپنا حق مانگنا چاہیے اور انکساری کا مظاہرہ کرنا چاہتی لیکن اگر مانگنے سے نہ ملے تو چھیننے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے لکھتے ہیں
بس ایک ہی بار پھیلا کے ہاتھ مانگیں گے
ملا نہ کچھ بھی تو پھر چھیننا بھی آتا ہے
منظر ذیدی نے اپنے نام منظر کو بہت ہی خوبصورتی سے بطور قافیہ استعمال کیا ہے ۔اپنی غزلوں میں انہوں نے اور بھی بہت سارے موضوعات پیش کٰے ہیں منظر ذیدی نے اپنے اس شعری مجموعے میں کرونا کا بھی ذکر کیا ہے جہاں پوری دنیا کرونا سے نمٹ رہی ہے وہاں منظر ذیدی نے اس وبائی مرض پر کچھ اس طرح سے اپنی بات رکھی ہے لکھتے ہیں
یہ جب سے موت کا سایا دکھائی دیتا ہے
بدن ہواؤں میں ٹھہرا دکھائی دیتا ہے
میں تم سے ملنا بھی چاہوں تو آ نہیں سکتا
ہر ایک سمت کرونا دکھائی دیتا ہے
مزکورہ شعری مجموعے میں انہوں نے ملک کی سابقہ وزیراعظم اندراگاندھی کو بھی ایک نظم میں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور اپنے کسی پیارے کے نام جنم دن نام کی نظم بھی تخلیق کی ہے۔ دیکھا جائے تو ان کا یہ شعری مجموعہ اردو شاعری میں ایک اچھے خاصے اضافے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے خود انجینئرنگ سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے اردو شعرو ادب کے تئیں جو دلچسپی دکھائی ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے ان کے اس شعری مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے روزمرہ زندگی کے مسائل اپنی شاعری میں بیش کئے ہیں اور انہوں نے سادگی سے کام لیا ہے اور اپنی شاعری میں بیجا حسن پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے
(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں