مزاجِ خودی ہے زماں رقص میںہے 104

اُستاد کا کردار ہمارے سماج میں کیسا ہے ۔۔۔؟

توصیف رضا

چند روز پہلے ایک اُستاد کا معاملہ سامنے آیا جس پر کافی کچھ کہااور لکھا گيا اس لیے چند دلچسپ حقایق جاننے کے بعد میرے دل نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اور لکھوایا کہ اُستاد کا کردار ہمارے سماج میں کیسا ہے ۔یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اُستاد رہبر و رہنما ہوتا ہے جس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُستاد کا پیشہ پیغمبرانہ ہے اس بات کی دلیل میں ایک ہی بات کافی ہے کہ دو جہاں کے تاجور سلطانِ بحر و بر صل اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے اُستاد بنا کر بھیجاگيا اب ذرا حضور ﷺکی سیرت اور آج کے اس غير انسانی امر کا موازنہ کیجئےشاید آپ کے سارے اشقال دور ہوںگے ۔ مسلمانوں نے مشرقی علوم بلکہ فرض علوم چھوڈ کر مغربی علوم کو ترجیحات میں شامل کیا اس کی وجہ ہے اُستاد کی سختیاں اور نتیجتاً آج ہمارے قوم سے فارسی اور عربی جیسی زبانوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم کا نام و نشان مٹ رہا ہے وجہ ہے اُستاد کی غير شعوری کجد گری اور جابرانہ رویہ۔ اُستاد کا ہمدرد ہونا زیادہ موثر ہے اگر آپ کی نظر سے خلیل جبران، ارستو ، نپولین جیسے رہنماوں کی سیرت گزری ہو تو آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ اُستاد کی سیرت میں شفقت ہمدردی اور درگزر کیا معنی رکھتی ہے علم کا پہلا سبق اُستاد کے ساتھ مضبوط رشتے سے شروع ہوتا ہے۔
ہمارے قوم کو علم اور آگہی سے زیادہ حکمت اور دانائی کی ضرورت ہےمیں خود ایک اُستاد ہوں، کیا میرا تجربہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ آقائے دو جہاں ﷺنے جو اُستاد کے پڑھانے کا انداز پیش کیا وہ سب سے اعلی اور ارفع ہے خیالات کے تضاد میں جی رہا آج کا اُستاد اس قوم کی فکر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔۔۔کیوں کہ یہ جاہل قوم ہے جو محض علم کا دعوی کر رہی ہے۔
اُساتذہ قوم کی تعمیر و ترقّی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ اُساتِذہ کا شمار قوم کے باشعور طبقے میں ہوتا ہے۔ اُساتِذہ کے فرائضِ مَنْصَبِی میں تعمیرِ قوم، کردار سازی، تزکیۂ نفس، قیادت کی تیاری، طلبہ کو اعلیٰ نظریات سے مُتَّصِف کرنا، حق و باطل، جائز و نا جائز اور حلال و حرام کا شعور بیدار کر نا بھی شامل ہیں۔ انہی اہم ذمّہ داریوں کی وجہ سے اُستاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیاہے۔ کہتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے مُحافِظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے اساتذہ کی ہے۔استاد و معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اَخلاقی تَمَدُّنی اور اُخروی اور دنیوی نیکیوں حتیٰ کہ برائیوں کی چابی اس کے ہاتھ میں ہے اور ہمہ قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔ اس لئے اُستاد کا اُستاد ہونا ایک چیلینج ہے اُستاد کا کردار اس کے شاگردوں میں منتقل ہوتا ہے لہذا اُستاد اپنے کردار سے اس قوم کو سنوار بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے اُستاد کی ہمدردی پڑھنے والوں کے دل کو نرم کر سکتی ہے جو کہ آگے چل کر قوم میں ہمدردی پیدا کر سکتی ہے۔
استاد اور معلّم ہونا بہت عزّت و شرف کی بات ہے،جیسے کہ پہلے ہی کہا گيا کہ للہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ ؐکا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بنا کر بھیجا گیا۔(ابنِ ماجہ،ج 1،ص150،حدیث:229) شاید اسی ليـے نسلِ انسانی کی بہترین پرورش کی ذمّہ داری بنیادی طور پر دو لوگوں پر ڈالی گئی ہے ۔والدین اوراساتذہ پر۔ ۔۔میں نے ایک دانہ شخص سے سنا ہے کہ علم دو طریقوں سے حاصل ہوتا ہے ایک کتابوں سے اور دوسرا مشاہدوں سے مشاہدوں کا علم زیادہ اہم ہے کیوں کہ یہ علم کردار کے ذریعے منتقل ہوتا ہے شاگرد کے سامنے اُستاد کا کردار جسم میں روح کی حیثیت رکھتا ہے
استاد کاکردار و گفتارکامیاب ترین استاد وہ ہے جو اپنے علم پر پہلے خود عمل کرے تبھی طلبہ اس کی باتوں پر عمل کریں گے، کسی دانا کا قول ہے کہ عالِم جب اپنے علم پر عمل نہیں کرتا تو اس کی نصیحتیں دلوں سے اس طرح پھسل جاتی ہیں جس طرح سخت چٹان سے بارش کے قطرے پھسل جاتے ہیں۔استاد کو حُسنِ اَخلاق کا پیکر ہونا چاہئے تاکہ ذہین و غیر ذہین تمام طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سخت رَوَیّے والے اساتِذہ کے غیر ذہین شاگرد ناکامی ہی کی طرف گرتے جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ استاد کے سامنے اپنا ما فی الضّمیر (یعنی دلی بات) نہ کہہ سکنا اور سوال کرنے سے ڈرتے رہنا بھی ہوتی ہے۔وقت کی پابندی کا سب سے بڑا عملی نمونہ ایک استاد کو ہی ہونا چاہئے، کیونکہ جس قدر وہ پابندِ وقت ہوگا، اس کے شاگرد بھی وقت کی پابندی کریں گے، پھر یہی پابندِ وقت طالبِ علم عملی زندگی میں بھی وقت کے قدردان ثابت ہوں گے انسانی زندگی میں نشیب و فراز (اُتارچڑھاؤ) آتے رہتے ہیں، پریشانی، بیماری اور ضروریاتِ زندگی کے معامَلات ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن طبیعت کی ہلکی پھلکی ناسازی اور ایسے کام جو کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے ان کی وجہ سے چُھٹّی کرلینا یا درسگاہ دیر سے پہنچنا مُناسب نہیں، ایک اچّھے استاد کے پیشِ نظر قوم کا مستقبل ہوتا ہے جو ایک چھٹّی کیا ذرا سی تاخیر سے بھی متاثر ہوتا ہے۔
شاگرد سے غلطی ہونا تو ایک متوقع بات ہے اس کو ٹھیک کرنا یا سدھارنا استاد کے لئے فرض ہے مگر سختی بھی اسی حد تک جائز ہے جب تک اس کی حد ایک غير اخلاقی امر نہ بن جائے ۔ حال ہی میں پیش آیا واقعہ ہمارے مدرسوں میں روز کا معمول ہے اس کی بنیادی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ہمارے اساتذہ شاید اخلاقی تعلیم سے کوسوں دور ہیں جو کہ ہمارے سماج کے لئے ایک بدقسمتی ہے ۔ تعلیم دینا، ہمدردی کرنا، محبت سے پیش آنا ، مدد کرنا ، عیب پوشی کرنا ، ایک طرح سے شاخ تراشی کرنا جیسے اوصاف ایک کامیاب اور باوقار اُستاد کی علامات ہیں ۔ سائنس کے بڑے بڑے دانش گاہوں میں تعلیم تجرباتی دی جاتی ہے جس کوہم experimental methodology of learning کے نام سے جانتے ہے اس قسم کی تجربات سے طلبہ پڑھتے بھی ہیں اور تعلیم کو موثر طریقے پیش بھی کرتے ہیں ۔ اگر تعلیم کو ادب اور اخلاق سے دور رکھا جارہا ہے تو کسی بھی خاطر خواہ نتیجے کی اُمید رکھنا بھی بےکار ہے اُستاد کی محبت اس کی ویلوز اور ورچوز اس کی انٹیلی جینس سے زیادہ ضروری ہے لہذا اپنے رویئے کو بدل دیں تاکہ آپ کامیاب اُستاد بن سکیں۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں