تحفظات اطفال کے مناسم 99

ہچکی

تحریر:- منظور ملک

زندگی کے رنگ‌ نرالے ہیں ۔یہ کب کون سا رنگ دکھائے گی پتہ ہی نہیں چلتا ۔جس چیز سے انسان ‌کو لگاؤ ہوتا ہے وہ چیز بکھر جاتی ہے اور جس انسان سے زندگی خوبصورت ہوتی ہے وہ بچھڑ جاتا ہے ۔جو آدمی ساری عمر غربت اور افلاس میں گزارتا ہے وہ اولاد کی بہار سے محروم رہتا ہے ۔اور خوشی دیکھنے سے پہلے ہی خا لق‌حقیقی اس کو بلاتا ہے ۔خوبصورتی بھی بلا اور بد صورتی عزاب ۔ غریب آدمی
جب تک صحتیاب رہتا ہے تب تک مفلسی ستاتی ہے پھر جب خوشحالی کی راہ ہموار ہوتی ہے تو بیمار ہوجاتا ہے ۔بات صحیح ہے کہ خوشیاں قسمت میں نہ ہوں تو دولت بھی بیکار۔
جو چیز مقدر میں نہ ہو وہ پاس ہوتے بھی نہیں ملتی ۔ایک چھوٹا سا نہ دکھنے والا کیڑا ایٹمی طاقتوں کو بےبس بنا دیتا ہے ۔جی ہاں ۔۔۔یہ دنیا کا‌ دستورہے ۔جو آیا اس کو جانا ہے۔لیکن جب کسی اپنے کے جانے میں کسی کی لاپرواہی شامل ہو تو درد دل میں ہی نہیں بلکہ جسم کے ہر حصے میں ہوتا ہے اور وہ درد تا حیات رہتا ہے ۔
جون کا مہینہ تھا ۔موسم بہت ہی خوشگوار اور صحت افزا تھا ۔کوئڑ کا ڈر عام لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں بڑھ رہا تھا۔لوگ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔۔لوگ بیماری کا اظہار کرنے سے ڈرتے تھے۔ میں صبح سویرے جب نیند سے جاگا ۔تو ماں نے کہا ۔۔ بیٹا تیرے باپ کو ہچکی لگی ہے ۔۔۔وہ پوری رات سویا نہیں ۔۔۔میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا ہچکی ابھی بھی جاری تھی ۔۔میں نے پوچھا ۔۔۔ابو ۔۔کیا مسئلہ ہے ؟
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا ۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوا۔۔۔۔ہچکی رکتی ہی نہیں ہے ۔۔میں نے کہا کوئی بات نہیں ۔۔بس توجہ ہٹانے کی کوشش کرو ۔۔۔تو ٹھیک ہوجاؤ گے۔۔۔۔میں نے ٹھنڈا پانی پلایا ۔۔۔منہ میں شکر ڈالی ۔۔۔۔تھوڑا افاقہ ہوا ۔۔۔۔لیکن پھر سے ہچکی شروع۔۔۔۔۔دن بھر مختلف حربے اپنائیے ۔بیٹیاں تتلیوں کی طرح ارد گرد گھومنے لگیں ۔۔ٹھنڈا گرم سب کچھ آزمایا ۔۔۔کبھی بیٹی کبھی بہو اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ،پلاتی رہیں ۔۔۔لیکن کچھ خاطر خواہ کمی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔اگلے دن ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے ۔۔۔۔۔اس نے دوائی دی اور ضروری ٹیسٹ کروا کر کہا ۔۔۔آدھے گھنٹے تک ہسپتال میں ہی ٹھہرو اور پھر مجھے بتانا ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کو نہ جانے کیوں ابو سے لگاؤ ہوا ۔۔۔ابو کا چہرہ تھا بھی نورانی ۔۔۔ماتھے پر سجدوں کے نشاں ۔۔۔سفید لمبی داڈھی۔۔گلابی گال۔۔لال ہونٹ ۔۔آنکھیں جھکی جھکی۔۔۔خدا نے اس کو رحمت اور ہدایت سے مالامال کیا تھا ۔۔۔۔آدھے گھنٹے کے بعد بھی جب افاقہ نہ ہوا ۔۔۔تو میں ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں گیا ۔۔۔اس نے پھر سے معاینہ کیا ۔۔۔اور کہا ۔۔۔۔۔یہ دوائی لے لو اور کل تک دیکھنا آرام آتا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔اگر آرام نہ ملا تو مجھے فون کرنا ۔۔۔ڈاکٹر صاحب کا یہ رویہ پیارا بھی تھا اور حیران کن بھی ۔۔۔۔۔ہم گھر لوٹے ۔۔۔لیکن امید کے بر عکس ابو کو راحت نہ ملی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کو فون کیا تو اس نے کہا ۔۔۔آپ اس کو میرے کلینک پر لاؤ ۔۔۔میں انڈاس کاپی کروں گا ۔۔۔۔انڈاس کاپی سے لگا کہ اس کے معدے میں ورم ہے اس لیے ڈاکٹر صاحب نے گھر میں گلوکوز بھرنے کی صلاح دی ۔۔۔ہم نے گھر آکر گلوکوز بھرنا شروع کیا ۔۔۔۔اس سے افاقہ ہوا اور ہم سب خوش ہوگئے ۔۔۔۔۔دو دن کے بعدجب میں نے ابو سے پوچھا ۔۔۔۔۔نماز ادا کرو گے ۔۔۔ اس نے فوراً حامی بھرلی اور کھڑا ہونے کی کوشش کی ۔۔میں نے مدد کیلئے ہاتھ بڑھایا تو معلوم ہوا کہ وہ ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا ۔۔اس کی ٹانگیں ٹکتی ہی نہیں تھیں ۔۔ڈاکٹر صاحب کو پھر فون کیا تو اس نے انجکشن لگانے کی تجویز دی ۔۔لیکن اس سے پہلے ہم انجکشن لگاتے اس کی سانس پھولنے لگی ۔۔میں نے ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر صاحب کو مطلع کیا تو اس نے فوراً ہسپتال لانے کی تاکید کی ۔۔۔
ہم نے گاڑی کا انتظام کیا اور شام کے آٹھ بجے میں اور میرے قریبی رشتے دار ابو کو لے کر ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے ۔۔۔۔۔وہاں ڈاکٹر صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔وہ فوراً اپنی گاڑی سے اترے اور ابو کا معائینہ کرنے لگے۔۔۔۔۔۔یہ حیران کن محبت تھی ۔۔۔ڈاکٹر صاحب کو نائٹ ڈیوٹی نہیں تھی ۔۔۔۔پھر بھی چار بجے سے آٹھ بجے تک انتظار کرتے رہے ۔۔۔ جب ڈاکٹر صاحب نے معاینہ کیا تو اس نے کہا ۔۔۔۔اس کی آکسیجن لیول کم ہوگئی ہے ۔۔۔اس کو جلدی ایڈمٹ کرو اور آکسیجن دو ۔۔۔اس نے دوایاں لکھیں اور کہا ۔۔۔۔۔میں کل پھر دیکھوں گا ۔۔۔ تب تک یہ دوایاں دے دو اور ہاں یاد رکھنا ایکسرے اور ای سی جی کی رپورٹ مجھے واٹس اپ پر بھیج دینا ۔۔۔۔ہم نے ابو کو ایڈمٹ کیا ۔۔۔دوایاں لائیں ۔۔۔ ایمرجنسی میں موجود نرسنگ سٹاف نے انجکشن لگائے ۔۔۔۔میں ایکسرے اور ای سی جی کے روم میں گیا اور انہیں جلدی جلدی ٹیسٹ کرنے کی گزارش کی ۔۔‌لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔۔۔۔۔نائٹ ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر صاحب سے معائینہ کرنے کی درخواست کی تو اس نے صرفِ نظر کیا ۔۔۔ہم رات بھر ابو کے اردگرد گھومتے رہے ۔۔۔نرسنگ سٹاف بھی دھیرے دھیرے غائب ہوتا گیا ۔۔۔۔۔رات کی ڈیوٹی پر ڈاکٹر صاحب نے بیمار کو دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔۔ابو رات بھر ہمیں نماز کی تلقین کرتا رہا ۔۔۔اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر نہ جانے خدا سے کیا مانگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اس نے ٹانگیں پھیلا دی ۔۔۔۔میں نےکہا ۔۔۔۔ابو ٹانگیں مت پھیلاؤ تو اس نے جواب دیا ۔۔۔۔بہن بھائیوں کا خیال رکھنا ۔۔۔۔نماز قائم رکھنا ۔۔۔۔۔اتنے میں صبح کی ازان ہوئی ۔۔وہ تہجد کا عادی تھا ۔۔۔لہذا اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔لیکن وہاں ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔۔ہم سوچ رہے تھے ۔۔۔تھوڑا سا افاقہ ہوگیا ہے ۔۔۔ہچکی رک گئی تھی۔۔۔۔لیکن اس نے نماز نماز اور نماز کے کلمات ادا کرتے کرتے اس فانی دنیا کو بڑےاطمینان اور مسکراتے مسکراتے الوداع کیا ۔۔۔ہم ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ آج نو دنوں کے بعد ابو نے تبسم کیا ۔۔۔۔۔اسی گفتگو میں ہم کھو گئے ۔۔۔۔اور ابو نے آخری تبسم کے ساتھ ہی پرواز کی تھی۔۔۔۔۔ہم نے ڈاکٹر صاحب کو بلایا ۔۔۔اس نے سارے ٹیم کو ۔۔۔۔۔ ساری مشینیں لائی گئیں ۔۔۔۔ٹیسٹ پر ٹیسٹ ۔۔۔۔لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔شاید اگر وہ رات کے پہلے پہر میں آتے اور معائینہ کرتے تو شاید ابو زندہ ہوتے ۔۔۔۔میرے من میں اس وقت ایک ہی خیال آیا ۔۔۔کہ کیا اس ڈاکٹر صاحب کو خدا بخشے گا ۔۔۔جس نے پوری رات میں ایک بار بھی بیمار کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔اس کو معلوم بھی نہیں تھا کہ ابو کب ایڈمٹ ہوئے اور کیوں ؟ نہ ہی اس کو محسوس ہوا کہ اس نے انجانے میں گناہ کبیرہ کیا ۔۔اس نے کاغذ پر بلا جھجک لکھا کہ ۔۔۔بیمار ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوگئے ۔۔حیرانگی کی بات تھی ۔ڈاکٹر صاحب بیماری‌ سے بھی نا آشنا تھے ۔
ابو تو چل بسے لیکن بات باقی رہ گئی ۔۔۔غلطی درج ہوگئی ۔۔۔ایک ایسی غلطی جس کی معافی نہیں بلکہ سزا یقینی ہے ۔۔۔کیوںکہ معاف کرنے والا اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔۔اب حساب و کتاب کے دن انصاف ہوگا ۔۔وہ غافل انسان ابھی زندہ ہے اور آخری ہچکی کے علاوہ عزاب خدا کا منتظر بھی۔۔۔۔بہر حال میں ابو کا جسدِ خاکی لے کر جب گھر پہنچا تو لوگوں کے بہت بڑے ہجوم نے ابو کو جلسے کی صورت میں گھر پہنچایا اور میں پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔گہر پہنچتے ہی ماں نے کہا ۔۔۔بیٹا ۔۔تونے باپ کے ساتھ کیا کیا ۔۔۔بہنوں نے سوال کیا ۔۔۔۔اب ہمارے لئے دعا کون کرے گا ۔۔۔پڑوسیوں نے پوچھا ۔۔۔۔اب ہمارے گھر کے دروازے پر دستک کون دے گا ۔۔۔بھائیوں نے گلے لگاکر کہا ۔۔۔۔اب ہماری پرواہ کون کرے گا ۔۔۔۔میں حیران و پریشان ہو کر سوچ رہا تھا ۔۔۔کہ ابو کے جانے سے تو رحمت کا سایہ اٹھ گیا ہے ۔۔۔۔اور اس کے جانے سے مجھ پر اتنی زمہ داریاں بھی آگئی ہیں جو اٹھانی ضروری ہیں تاکہ حق ادائی ہو ۔۔۔۔۔۔یہی تو اولاد صالح کی نشانی بھی ہے ۔۔۔والدین کے بعد ان کے قریبی رشتے داروں کا خیال رکھو۔۔۔یہاں تک کہ دوستوں کا بھی ۔۔۔۔
ملک منظور قصبہ کھُل کولگام۔۔۔۔۔۔9906598163

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں