افسانہ نگار: پرویز مانوس
جُوں ہی یہ خبر گاؤں میں پھیل گئی کہ اشرف چچا کا انتقال ہو گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے اشرف کے مکان کے سامنے لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہو گئی _کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ اکلوتے بیٹے راشد کے پہنچنے کا انتظار کرلیا جائے کیونکہ امام صاحب نے ٹیلی فون کرکے اُسے اطلاع دے دی تھی _لیکن دوبئی سے یہاں پہنچنے میں کافی وقت درکار تھا _ادھر گرمیوں کا بے رحم مہینہ رواں تھا اس لئے اشرف میاں کی میت کو زیادہ دیر تک اس حالت میں رکھنا مناسب بھی نہیں تھا لہذا گاؤں کے کچھ سرکردہ لوگوں کے فیصلے کے مطابق مسجد کے متولی کی سرپرستی میں چند نوجوانوں کو اشرف کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری سونپی گئی اور پھر شام تک اُس کے جسد خاکی کو سپرد خاک کردیا گیا۔۔۔۔،،
اُس کا پورا نام محمد اشرف خان تھا _اُس کا جنم اسی گاؤں میں ہوا تھا اور یہیں پر اُس نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی لیکن مجبوری کے باعث حصول روزگار کے لئے اُسے اپنے خوبصورت گاؤں سے ہجرت کرکے پُر خلوص لوگوں سے دُور شہر میں عارضی رہائش اختیار کرنا پڑی ،جہاں وہ شہر کے بڑے اسپتال میں بطورِ کمپونڈر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا ،اُس کے ساتھ اُس کی شریک حیات راحتی بھی تھی _
اشرف نہایت ہی دیندار ،شریف النفس ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر مزاج بھی تھا _اسی لئے اُس نے اپنے اخلاق سے اسپتال کے تمام عملہ کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا _
کہتے ہیں خُدا اپنے نیک بندے کو آزمائش میں ڈالتا ہے _یہی کچھ اشرف کے ساتھ بھی ہورہا تھا _عمر کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد بھی کا کی زندگی کی ڈالی پر اولاد کا پھول نہ کھل سکا،لیکن اس کے باوجود اُس کا اعتقاد ذرا بھی نہیں ڈگمگایا _اُس کو خُدا وند کریم کی ذات پر پورا بھروسہ تھا _وہ کہتا تھا،، اس میں بھی الللہ تعالی نے بہتری کی گنجائش رکھی ہوگی۔۔۔۔،،
دسمبر کا مہینہ تھا _ برستی بارشوں اور یخ بستہ ہواؤں نے تمام شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا ،شام کا ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل رہا تھا _اشرف اپنی ڈیوٹی ختم کرکے چھتری لئے اپنے سرکاری کواٹر کی جانب قدم بڑھا رہا تھا کہ اُس کی نظر کُتیا کے اُس پلے پر مرکوز ہوگئی جو سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے دبی آواز میں فریاد کررہا تھا _وہ پوری طرح بھیگ چُکا تھا۔اُس کو اس حالت میں دیکھ کر اشرف کے دل میں ہمدردی کا دریا ٹھاٹھیں مارنے لگا _وہ اُسے گود میں اُٹھا کر گھر لے آیا ،اُس کے ہاتھوں میں کُتے کا پِلا دیکھ کر راحتی حیران رہ گئی اور پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔،،اس کو کس لئے اُٹھا لائے۔۔۔۔ اشرف کی زبان سے سارا ماجرا سُننے کے بعد راحتی کو بھی اُس بے زبان معصوم پر ترس آگیا اور وہ پِلے کو گھر میں رکھنے کے لئے تیار ہوگئی _پھر دونوں شوہر اور بیوی اُس بے زبان کی جان بچانے میں مصروف ہوگئے _جب پلے کو تھوڑی سی گرمی محسوس ہوئی تو اُس نے برتن میں رکھا ہوا دُودھ پی کر اُن دونوں کی جانب تشکر آمیز نظروں سے دیکھا ،جیسے کہہ رہا ہو کہ “میں اس احسان کا بدلہ کس طرح چُکا پاؤں گا”اُسے اپنی ٹانگوں پر چلتا پھرتا دیکھ کر دونوں شوہر بیوی خوش تھے کہ اُن کی کوششوں سے ایک بے زبان کی جان بچ گئی _ بس پھر کیا تھا اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اُس پلے نے اشرف کی دہلیز پر ڈیرا ڈال دیا _دن بھر گھوم پھر کر اسی ٹھکانے پر پہنچ جاتا _رفتہ رفتہ وہ پِلا جوان ہوکر ایک سڈول بدن کُتیا کی صورت میں سامنے آگیا _ جب بھی شام کو اشرف گھر لوٹتا تو کُتیا اُس کے قدموں میں اپنے آپ کو بچھا کر دُم ہلا ہلا کر اپنی خوشی اور محبت کا والہانہ اظہار کرتی _۔
اشرف اور راحتی کو بھی اس کُتیا سے بے انتہا لگاؤ ہوگیا تھا _ بے اولاد ہونے کے سبب راحتی کے دل میں اُس کے تئیں ممتا اور بھی اُمنڈ پڑی _وہ دل و جان سے اُس کی دیکھ بھال کرتی _کبھی بھی اس کے آگے جھوٹا کھانا نہ ڈالتی _۔پھر ایک دن خُدا کی رحمت جوش میں آئی تو اُس نے راشد کی صورت میں ایک اولاد اشرف میاں کو عطا کردی _ یہ دیکھ کر دونوں نے دربارِ الہی میں سر بہ سجود ہو کر شکر بجا لایا اور اُس معصوم کو الللہ کا انعام سمجھ کر اُس کی بہت اچھی طرح تربیت کی _ اُسے نازونعم سے پال پوس کر اُنگلی پکڑ کر چلنا سکھایا _ پھر عمر کے زینے طے کرتے ہوئے وہ پورے آٹھ برس کا ہوگیا ۔۔۔۔،
راحتی کا بس چلتا تو وہ راشد کو ایک پل کے لئے بھی آنکھوں سے دُور نہ ہونے دیتی ،لیکن تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسکول جانا بھی لازمی تھا _اسی لئے راحتی اسکول سے چُھٹی کے وقت تک بڑی بے تابی سے اُس کی راہ تکتی رہتی _ راشد نے ہوش سنبھالا تو اپنے سامنے اشرف راحتی ،اُن کے چند جانکاروں کے علاوہ اس کُتیا کو پایا _ اُسے بھی اشرف اور راحتی سے بے پناہ محبت تھی _اس گھر میں اگر اُسے کسی سے نفرت تھی تو وہ تھی یہ کُتیا _اپنے سیاہ رنگ سے ہی وہ اُسے منحوس لگتی تھی کیونکہ گھر والوں سے ملنے والے پیار میں وہ برابر کی شریک رہتی _اسی لئے وہ راشد کو ایک آنکھ نہ بھاتی _جب دیکھو وہ باپ سے ایک ہی رٹ لگا ئے رہتا کہ وہ اس کُتے جو یہاں سی کہیں دُور چھوڑ آئے یا پھر اسے زہر دے کر مار ڈالیں ” یہ مجھے اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔،،
بیٹے کی ضد دیکھ کر اشرف پریشان ہوجاتا پھر ٹال مٹول کرکے بڑے بڑے دُلار سے سمجھاتے ہوتے کہتا ،،بیٹا ! یہ بے زبان بہت ہی وفادار ہے ،یہ تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچائے گی، ہم نے اس کو باکل تمہاری طرح بڑے پیار سے پالا ہے ، اتنے سالوں بعد اسے خود سے دُور کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ، اگر دیکھا جائے تو اس گھر میں تمہارے آنے کا ایک سبب یہ کُتیا بھی ہے ، اب تو یہ بیچاری لاغر ہوچکی ہے،،
اشرف دل ہی دل میں سوچتا کہ وہ اس معصوم سے سے اس بے زبان کُتیا کی اہمیت کیا بیان کرے _ ابھی نادان ہے نظامِ قدرت کو کیسے سمجھ پائے گا _راشد کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ کھیلنے کا بھی بے حد شوق تھا اور کرکٹ اُس کا پسندیدہ کھیل تھا _ ایک روز کرکٹ کھیل کر وہ گھر لوٹا تو حسب معمول کُتیا نے اس کا استقبال کیا اور فرط مسرت سے اُس کے پیروں کو چاٹنے لگی _ راشد دِر دِر کرتا رہا لیکن وہ راشد پر جیسے واری ہونے پر تُلی ہوئی تھی _ وہ کبھی راشد کی ٹانگوں سے لپٹ جاتی تو کبھی زمین پر لیٹ کر کروٹیں بدلنے لگتی _ دُم ہلا ہلا کر اُس کو اپنی جانب متوجہ کرتی ،جب راشد کی ایک نہ چلی تو جھنجھلاہٹ میں اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ،ہاتھ میں پکڑا ہوا بلاّ اور سے کُتیا کے سر پر دے مارا _ تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد کُتیا کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔۔۔۔!
اشرف اور راحتی نے جب یہ منظر دیکھا تو دونوں سر پکڑ کر بیٹھ گئےب راشد کو ڈانٹ پلانے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے تھے _لیکن اندر ہی اندرکئی روز تک وہ کُتیا کی جُدائی کا غم محسوس کرتے رہے _
ایک شام اشرف اپنے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ راشد اُس کے قریب آکر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد پوچھ بیٹھا،،ڈیڈو.! وہ پیار سے باپ کو اسی نام سے پکارتا تھا ،آپ اس کاپی پر اکثر کیا لکھتے رہتے ہیں ؟
اشرف نے اس معصوم کے سوال کا بڑے پیار سے جواب دیتے ہوئے کہا ،،بیٹے اسے کاپی نہیں ڈائری کہتے ہیں _،،
“آپ اس میں کیا لکھتے ہیں ” راشد نے ڈائری پر اُچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
بیٹا ! میں اس ڈائری میں اپنی زندگی کے تمام واقعات درج کرتا ہوں – کیوں ڈیڈو ؟
بیٹا یوں سمجھ لو کہ یہ میرا شوق ہے _
ڈیڈو.! ڈائری کیوں لکھتے ہیں ؟ کیا آپ کو ٹیچر نے کہا ہے ؟
نہیں بیٹا ! کچھ لوگ ڈائری اس لئے لکھتے ہیں تاکہ بعد میں وہ اپنی زندگی کی تلخ و شیریں یادوں کو کتان ب کی صورت میں منظر عام پر لا سکیں۔۔۔۔، ڈیڈو مجھے سُناؤ نا آپ نے اس میں کیا لکھا ہے ؟ کہتے ہوئے راشد اشرف کے ہاتھ سے ڈائری جھپٹ کر بھاگ گیا تو اشرف بھی اس کے پیچھے ،ارے ارے کیا کرتے ہو بیٹا پھٹ جائے گی ،کہتے ہوئے دوڑ پڑا۔۔۔۔ ،،
پھر اشرف نے راشد کے گال تھپتھپا کر بہلاتے ہوئے کہا ،،دیکھو بیٹا اچھے بچے ضد نہیں کرتے ،اس ڈائری میں تمہاری زندگی کا بھی اہم ذکر ہے ،جب تم بڑے ہوجاؤ گے اُس وقت پڑھ لینا ،ٹھیک ہے ؟
ٹھیک ہے ڈیڈو! پھر میں اس کی کتاب بناؤں گا _ ہاں ٹھیک ہے میرا بچہّ ،کہہ کر اشرف نے راشد کے ہاتھوں سے ڈائری لے کر صندوق میں رکھ دی _
راشد نے ڈائری دے تو دی لیکن اُس کے ذہن میں یہ تجسس برقرار رہا کہ اس کی زندگی کا کون سا اہم واقعہ اس میں درج ہے ۔۔۔۔،،
وقت پر لگا کر خلاؤں میں محو پرواز رہا _ دن ،مہینے ، ہفتے ،برسوں میں ڈھل گئے _ اب راشد ایک ایک گبرو جوان بن گیا تھا _ اسکول کی پڑھائی ختم کرکے اب وہ کالج میں پہنچ چُکا تھا ،جہاں اس کی ضروریات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا _ اُس کو یہاں تک پہنچانے میں اشرف اور راحتی کو نہ جانے اپنی کتنی خواہشات کا گلا گھونٹنا پڑا لیکن انہوں نے راشد کو کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا _ تنگ دستی کے باوجود راشد کے لئے سائیکل سے لے کر موٹر سائیکل اور موبائل فون سے لے کر لیپ ٹاپ تک وقت کے مطابق ہر چیز دستیاب رکھی ۔۔۔۔
بی ٹیک کرنے کے بعد راشد نے دوبئی جاکر کام کرنے کی ضد کی تو اشرف اور راحتی نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اُس سونے کے جزیرے پر جو بھی گیا وہ پھر لوٹ کر نہیں آیا _کیونکہ دولت کا دیو اپنی گرفت میں بُری طرح جکڑ لیتا ہے _پھر ہم دونوں بھی پیری کی طرف رواں دواں ہیں کیا معلوم سانس کی یہ ڈور کب ٹوٹ جائے ،پھر تمہارے ہاتھ کی مٹی بھی نصیب نہیں ہوگی _جواب میں راشد نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ،،کیا آپ مجھے اسقدر نا سمجھ اور احسان فراموش سمجھتے ہیں کہ میں اپنے فرشتہ صفت اور بزرگ والدین کو فراموش کردون گا ؟ کہتے ہوئے راشد کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں _ یہ دیکھتے ہی راحتی کے دل میں ممتا کا سمندر موجیں مارنے لگا اور اس نے اشرف کو سمجھایا کہ ہمارا جو کچھ ہے اسی کا تو ہے اگر اس کا مستقبل سنوارنے میں یہ کام آتا ہے تو بُرا کیا ہے _ہم اس کی جُدائی برداشت کرلیں گے _راشد کو اپنی خواہشات پوری کرنے سے روکنے کا ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا ہے ۔۔۔۔،،
ہاں رہ کر جب اسے گھر کی یاد ستائے گی تو یہ جلدی ٹھنڈا ہوکر لوٹ آئے گا _راحتی کی بات کو اشرف نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے راحتیھے کے تمام زیورات کے فروخت اور اپنے پراونڈنٹ فنڈ سے حاصل ہونے والی رقم کے دوش پر راشد کو خواہش کے مطابق سوار کرکے سونے کے جزیرے کی جانب روانہ کردیا ،جہاں وہ ایک نجی کمپنی میں بطور انجیئر کام کرنے لگا۔۔۔۔ ،،
ادھر ملازمت سے بعد از سبکدوشی اشرف اپنے آبائی گاؤں ،جہاں اُس کی جڑیں پیوست تھیں ،واپس لوٹ آیا _یہاں آتے ہی راحتی خُدا کو پیاری ہو گئی اور اشرف تنہا رہ گیا _راشد ماں کی میت کو کاندھا بھی نہ دے سکا ۔۔۔۔
ایک عرصہ شہر میں رہنے کے بہ سبب گاؤں والوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اشرف کا ایک بیٹا بھی ہے ،جو دوبئی میں نوکری کرتا ہے ، گاؤں والوں کو اس بات پر اچنبہ ہوا اور ہت طرف چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اُس کی تو کوئی اولاد ہی نہیں تھی پھر یہ بیٹا کہاں سے ہوا ؟
اس کا جواب تو راحتی کے بعد اشرف ہی دے سکتا تھا جو مصلحتاً چُپ تھا _اب تو وہ ضعیف العمر تھا اور اپنے چھوٹے سے مکان میں تنہا ہی رہتا تھا _مسجد کا متولی ،جو کہ اشرف کا لنگوٹیا تھا اُسے اپنے گھر سے کھانا پینا بھیجتا تھا _رفتہ رفتہ اشرف میاں کی قوت سماعت اور قوتِ بصارت بھی جوان دیتی جارہی تھی _اس لئے راشد متولی ہی ٹیلی فون کرنے باپ کی خریت سے آگاہ کرتا رہتا تھا اور تا روپیہ پیسہ بھی اُسی کے نام بھیجتا تھا ۔۔۔۔،،
گزشتہ کئی روز سے اشرف میاں کی طبیعت کچھ ناساز تھی _ڈاکٹر نے اُسے ادویات کے ساتھ ساتھ مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا ،اسی لئے وہ پھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا -بس کبھی کبھار متولی خود ہی آکر اشرف میاں کی خبر گیری کرتا ورنہ اُن کا ملازم ہی اُس کی دیکھ بھال پر مامور تھا ۔۔۔۔،،
آج صبح جب ملازم چائے لے کر کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ اشرف میاں ساکت ہے اور کُھلی آنکھیں چھت کی جانب اس طرح اٹکی ہوئی ہیں جیسے ادھوری حسرت کو تک رہی ہوں _ملازم نے پہلے تو پُکارا ،جب جواب نہ آیا تو ہلایا لیکن اشرف کی سانسیں بند ہو چکی تھیں ۔۔۔۔،،
اشرف میاں کو اس دُنیا سے گئے آج پورے پانچ روز ہو چکے تھے کہ اُس کا بیٹا راشد اپنے عیال سمیت ایک لمبی کار میں آ پہنچا ۔۔۔۔تعزیت کے بعد متولی اور گاؤں کے سرکردہ لوگوں نے اشرف کا کچھ سامان راشد کے سپرد کیا اور خود وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔،،کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی _راشد، اُس کی بیوی اور دو بچےایک پُرانے زنگ آلود صندوق کے ارد گرد بیٹھے بڑے غور سے کچھ دیکھ رہے تھے _اُن کو تو اس صندوق سے کوئی دلچسپی نہ تھی البتہ راشد کی متجس نظریں باپ کے سامان میں وہ ڈائری تلاش کررہی تھیں جس کو کتابی صورت دینے کا فیصلہ اُس نے بہت پہلے کر لیا تھا ۔۔۔۔،صندوق کا سامان اِدھر اُدھر کرنے کے بعد اُس کو وہ پُرانی ڈائری جس کے آدھے سے زیادو اوراق دھیمک چاٹ چُکی تھی، مل ہی گئی _چند تحریں پڑھنےکے بعد اُس کی چہرے پر مُسکراہٹ پھیل گئی، اُسے کتابی صورت دینے کا اُس کا ارادہ اور بھی مستحکم ہوگیا۔۔۔۔ دفعتاً ایک ورق پر تحریر پڑھتے پڑھتے اُس کے اوسان خطا ہو گئے، حلق خشک ہونے کے ساتھ ساتھ ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوگئیں ۔۔۔۔ اُس نے پھر ایک بار تحریر پڑھنی شروع کی ،لکھا تھا _،،آج علی الصبح بعد از نمازِ فجر ہمارے کانوں سے گھر کا دروازہ کھرچنے کی صدا ٹکرائی، ہم دونوں نے کواڑ کھول کر دیکھا تو ہماری پالتو کُتیا اپنے مُنہ میں ایک نوزائید بچے کو دبائے دہلیز پر کھڑ ی تھی _ ہم نے خُدا کی امانت سمجھ کر اُس بچے کو قبول کرکے اُس کا نام راشد رکھا ۔۔۔۔،،
������
