مے گو مشکل 97

غزل

آفاقؔ دلنوی۔۔دلنہ بارہمولہ کشمیر

ماہ نے جب سے بے وفائی کی
شبِ ظلمت نے ہمنوائی کی
درد بھی قدرے مسکرا کے اٹھا
ہنستے زخموں نے پیشوائی کی
جان جانا تو عین ممکن ہے
قاتلوں سے جو آشنائی کی
دے کوئی آسرا حیاتی کا
بجھتی سانسوں نے لب کشائی کی
حالِ دل خط میں لکھ دیا جاناں
خونِ دل جس کی روشنائی کی
میں مرا بھی تو کیا برا ہوگا
زندگانی نے حق ادائی کی
یار کے پر جمال چہرے پر
بیری چلمن نے داروغائی کی
وصل کی شام کس طرح ملتی
صبح قسمت میں تھی جدائی کی
کیا ستی سر کی داستان کہوں
ایک روداد ہے تباہی کی
عقل آفاؔق کیا لڑاتا میں

 

آفاقؔ دلنوی۔۔دلنہ بارہمولہ کشمیر
7006087267وہ غمِ عشق کی فدائی کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں