میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا 105

محبّت سے جو ملے ہوتے

(ظفر صدیقی)

محبّت سے جو ملے ہوتے
تو نہ شکوے گلے ہوتے
وہ جو مسکرا دیا ہوتا
تو آج نہ یہ فاسلے ہوتے
اسنے لگا دیا ہوتا مرہم
تو گھاؤ آج یہ بھرے ہوتے
درخت کو دے رہے ہوتے پانی
پھول آج یہ سب کھلے ہوتے
دل کو بنا لیا ہوتا پتھر
تو آج نہ ٹوٹ رہے ہوتے
عشق جو ہمنے نہ کیا ہوتا
چین کی نیند سو چکے ہوتے
ہو گئے ہوتے ہم بھی بے ایمان
تو آج محلوں میں رہ رہے ہوتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں