غزل 86

غزل

جاوید عارف

پت جھڑ میں موجِ تند نہ بکھرا گئی مجھے
کچھ دھوپ ہی بہار کی جھلسا گئی مجھے

حیرت نہیں کہ چاک قبائیں عدو نے کی
سازش کسی عزیز کی چونکا گئی مجھے

الزام میں نصیب کو دیتا رہا عبث
اپنی نظر ہی آپ یہاں کھا گئی مجھے

دو پل ملی نجات غموں کے حصار سے
صورت کوئی خیال میں بہلا گئی مجھے

احسان زندگی پہ کیے لاکھ بدلے میں
زنجیر اک قصور پہ پہنا گئی مجھے

آئی نہیں پلٹ کے بہاریں کبھی مگر
اک عمر انتظار میں تڑپا گئی مجھے

عارف وکیل کس لیے ہے التماس کیا
مجرم مری ذات ہی ٹھہرا گئی مجھے

جاوید عارف
شوپیان کشمیر۔۱۹۲۳۰۳
فون نمبر=7006800298

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں