ہم نے دیکھا بالیقیں رات کے پچھلے پہر 118

غزل”

بلال صہبا

دل لگی کو یوں ہوا ہے عاشقی کا سامنا
گو سیاہ شب کو ہوا ہے روشنی کا سامنا
شیخ جی سے ہمنوائی اپنی بہتر تھی مگر
جانے کیسے ہو گیا ہے میکشی کا سامنا
رنگ لائی قیس کی وہ آشنائی اسقدر
ہر گھڑی رہتا ہے مجھ کو رفتگی کا سامنا
یہ بتایا مست حالی کا سبب اس شخص نے
بس لڑکپن میں ہوا ہے شاعری کا سامنا
ان لبوں سے دور رہکر وائے دریا نے کہا
اب قیامت تک رہے گا تشنگی کا سامنا
عشق کے مٹکے سے پینے کا یہی انجام ہے
طور جل کر ہی ہوا ہے بے خودی کا سامنا
جبّہ تسبیح کلّاہ پہنے مُلّے صہبا مل گئے
خرقہ پوشوں میں ہوا ہے بس ولی کا سامنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں