کاش ایسے بھی مراحل سے وہ گزرے ہوتے 101

جب خیال و فکر کی دنیا پہ چھا جاتا ہے شک

غزل

منظر زیدی

جب خیال و فکر کی دنیا پہ چھا جاتا ہے شک
ذہن کے روشن چراغوں کو بجھا جاتا ہے شک
جب کسی بھی آدمی کے دل میں آ جاتا ہے شک
رفتہ رفتہ مثلِ دیمک اسکو کھا جاتا ہے شک
اک ذرا سی بات پر اپنے بھی بیگانے بنیں
دل پہ لکھے نام تک اکثر مٹا جاتا ہے شک
مختلف رنگوں میں ڈھل جاتا ہے پانی کا بدن
جھیل کی سطح پہ جب کائی جما جاتا ہے شک
وقت کے دھارے سے بھی ہے تیز تر اس شک کی دھار
ایک پل میں خون کے آنسو رُلا جاتا ہے شک
انتہائے غیض میں پاگل سے ہو جاتے ہیں سب
جب ذرا سی شہ کسی گوشے سے پا جاتا ہے شک
جب یہ رکھتا ہے کبھی شہرِ نگاراں میں قدم
اہلِ دل کو دیکھ کر دامن بچا جاتا ہے شک
لاکھ قسمیں کھائیے منظر ؔ مگر سب ہے فضول
دل میں کانوں سے اتر کر جب سما جاتا ہے شک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں