محمد زاہد رضا بنارسی
کہکشاں جس کی ہے گردِ پا سوچیے
اس نبی ﷺ کا مرے مرتبہ سوچیے
لا مکاں تک بفیضِ حبیب خدا
پہنچی ہے مری فکر رسا سوچیے
میرے سرکار کے شہرِ پر نور کی
کتنی نورانی ہوگی فضا سوچیے
ہیں جہاں محوِ خواب آج بھی مصطفٰے
عظمتِ حجرئہ عائشہ سوچیے
اسکی تعریف ہم سے ہو ممکن نہیں
جس کی رب خود کرے ہے ثنا سوچیے
پل میں دوزخ سے جنّت کے باغات میں
کیسے حر کا ہوا داخلہ سوچیے
فکرِ دنیا تو ہم نے بہت کی مگر
آخرت کے لیے کیا کیا سوچیے
محمد زاہد رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج،
بھدوہی۔ یوپی۔ بھارت
