148

غزل

منظر زیدی

تیری پلکوں سے موتی چرالوں اگر، تیری نظروں کا مجھکو اشارہ ملے
اپنی آنکھوں میں تجھکو بسالوں اگر، تیری باہوں کا مجھکو سہارا ملے

’کـورونا ‘نے ہمکو ستایا بہت، موت کے ہم اندھیروں میں غرق ہو گئے
ڈوب کر بھی مگر ہم ابھر آئینگے ، گر یقیں ہو سہارا تمہارا ملے

رُوٹھ کر آج دنیا سے وہ کیا گیا ، ساری دنیا یہ ویران سی ہو گئی
موت کو بھی گلے سے لگالو ں اگر، بعد مرنے کے اسکا نظارہ ملے

زندگی سے وہ اتنا پریشان ہے ، موت کی بھی دعا مانگتا ہے مگر
اتنا بزدل ہے وہ سوچتا ہے یہی ، ڈوبنے کے لئے بھی کنارہ ملے

سونی راہوں پہ تنہا جو چلتے رہے، دو قدم آگے بڑھنا بھی مشکل ہوا
ایسا لگتا ہے منزل کے نزدیک ہیں، راستے میں جو کوئی ہمار ا ملے

آخری وقت میں مجھکو آیا خیال ، کسقدر مجھ سے منظر ؔ گناہ ہو گئے
ان گناہوں کی اپنے تلافی کروں ، مجھکو جیون اگر یہ دوبار ہ ملے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں