آفاق دلنوی
تری محبت میں اے ستمگر میں جان اپنی لٹا رہا ہوں
وفا کی دنیا کا پاسباں ہوں وفا میں خود کو مٹا رہا ہوں
میں شامِ فرقت کے غم کا مارا چلا ہوں بے آس بے سہارا
لو آج تیری گلی سے ظالم میں لاش اپنی اٹھا رہا ہوں
پڑے جو تیری نظر کے پالے رہے نہ قابو میں ہوش والے
میں عاشقوں کی صفوں میں شامل چراغِ ہستی بجھا رہا ہوں
خیال تیرا کبھی جو آئے جگر مرا چیر کے ہی جائے
ترے تصور کے آئینے کو شگافِ حسرت دکھا رہا ہوں
زمانے بھر کے ستم سہے ہیں تری محبت کے راستے میں
تری قرابت کی چاہتوں میں میں خود کو سولی چڑھا رہا ہوں
وصالِ جاناں کی حسرتوں میں پڑا ہوں رستے میں سر بریدہ
لہو جگر کا پلا پلا کر چراغِ ہستی جلا رہا ہوں
کسی سے آفاق دل لگا کر نظر چرانا بری ادا ہے
تجھے چرانی ہے تو چرا لے میں بس تجھی پہ جما رہا ہوں
آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کشمیر
7006087267 فون نمبر
