ساگر سرفراز
یوں ہی کاغذ نہیں چمکتا ہے
چاند میری غزل کا مصرع ہے
قافیہ تنگ ہے بہت لیکن
میں نے تو راستہ نکالا ہے
یہ گزارے سے کب گزرتی ہے
زندگی کا یہی تو رونا ہے
پھیل جاتا ہے زہر کی مانند
ہجر انساں کو مار دیتا ہے
گو بظاہر وہ ہنس رہا ہے پر
دیکھ اندر سے کتنا ٹوٹا ہے
کون رہتا ہے یاں ہمیشہ کو
یہ جہاں عارضی ٹھکانہ ہے
زندگی آخری سفر کے لئے
چار کاندھوں پہ چل کے جانا ہے
مجھ کو معلوم ہے مرے دشمن
تو مری شاعری سے جلتا ہے
اینٹ پتھر سے گھر نہیں بنتا
اس میں تھوڑا سا پیار لگتا ہے
تلخیاں آگئ ہیں لہجوں میں
کس نے رشتوں میں زہر گھولا ہے
آپ میری برائیاں کیجئے
خیر مجھ کو کیا فرق پڑتا ہے
تو مرے فن کا اعتراف تو کر
ہجر کو شعر میں جو ڈالا ہے
ہائے! اتنا برا نہیں ساگر
یار! لوگوں نے جتنا سمجھا ہے
ساگر سرفراز۔۔حاجن سوناوری کشمیر۔
7006402814
