مرے دکھوں کا مداوا نہیں کرے گا وہ 106

یوں ہی کاغذ نہیں چمکتا ہے

ساگر سرفراز

یوں ہی کاغذ نہیں چمکتا ہے
چاند میری غزل کا مصرع ہے
قافیہ تنگ ہے بہت لیکن
میں نے تو راستہ نکالا ہے
یہ گزارے سے کب گزرتی ہے
زندگی کا یہی تو رونا ہے
پھیل جاتا ہے زہر کی مانند
ہجر انساں کو مار دیتا ہے
گو بظاہر وہ ہنس رہا ہے پر
دیکھ اندر سے کتنا ٹوٹا ہے
کون رہتا ہے یاں ہمیشہ کو
یہ جہاں عارضی ٹھکانہ ہے
زندگی آخری سفر کے لئے
چار کاندھوں پہ چل کے جانا ہے
مجھ کو معلوم ہے مرے دشمن
تو مری شاعری سے جلتا ہے
اینٹ پتھر سے گھر نہیں بنتا
اس میں تھوڑا سا پیار لگتا ہے
تلخیاں آگئ ہیں لہجوں میں
کس نے رشتوں میں زہر گھولا ہے
آپ میری برائیاں کیجئے
خیر مجھ کو کیا فرق پڑتا ہے
تو مرے فن کا اعتراف تو کر
ہجر کو شعر میں جو ڈالا ہے
ہائے! اتنا برا نہیں ساگر
یار! لوگوں نے جتنا سمجھا ہے
ساگر سرفراز۔۔حاجن سوناوری کشمیر۔
7006402814

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں