میں کون ہوں 107

میں کون ہوں

عاقب ابن امین

یہ عذب ہیں مسلسل میری روح پر میری ذات پر
کس سے کہوں میرا تعزيہ میرا آپ بھی نہ کرسکے
میرا آشیانہ لوٹ کر مجھے چھوڑ کے ویران پر
کس سے کہوں نہ معلوم مجھے طفلگی ہے کیا ذرا بتائیے
میں نے ساری عمر رنج میں تیر کھایں قلب پر
کس سے کہوں روداد میری نہ وقت ہیں مزید اب
اب سن لو میری داستان تحقیق کی بساط پر
کس سے کہوں میری بیٹیوں کی عسمتیں تار تار ہو رہی
رفق کی درندگی میری بیٹیوں کی جان انکی آن پر
کس سے کہوں شباب کی والدہ لرزتی ہیں ان کے خوف سے
یوں ہر جگہ بيابان کا گھیراؤ ہے میرے نفس پر
کس سے کہوں کیسے کہوں میں کون ہوں میں کون ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں