عاقب ابن امین
یہ عذب ہیں مسلسل میری روح پر میری ذات پر
کس سے کہوں میرا تعزيہ میرا آپ بھی نہ کرسکے
میرا آشیانہ لوٹ کر مجھے چھوڑ کے ویران پر
کس سے کہوں نہ معلوم مجھے طفلگی ہے کیا ذرا بتائیے
میں نے ساری عمر رنج میں تیر کھایں قلب پر
کس سے کہوں روداد میری نہ وقت ہیں مزید اب
اب سن لو میری داستان تحقیق کی بساط پر
کس سے کہوں میری بیٹیوں کی عسمتیں تار تار ہو رہی
رفق کی درندگی میری بیٹیوں کی جان انکی آن پر
کس سے کہوں شباب کی والدہ لرزتی ہیں ان کے خوف سے
یوں ہر جگہ بيابان کا گھیراؤ ہے میرے نفس پر
کس سے کہوں کیسے کہوں میں کون ہوں میں کون ہوں
