طاق میں روشن دیا سا ہے یہاں 155

غــــــزل

بلال صہباؔ

عجب اثرات اس خنجر میں دیکھے
شگوفے کھل اٹھے بنجر میں دیکھے
“نہیں” کچھ راز بھی رکھتا ہے خود میں
“سوا” کی آنکھ سے مَندَر میں دیکھے
کبھی جو دید کی حسرت میں رویا
بدلتے اشک بھی گوہر میں دیکھے
خرد کو بام پر رکھ کر یقیناً
کھلے گل عشق سے اخگر میں دیکھے
چھپا ہے وہ حجابوں میں اگر چہ
عیاں جلوے یہاں پیکر میں دیکھے
نظر وہ سب جبیں میں آگئے ہیں
مَلک نے جو نشاں اختر میں دیکھے
محبت کے سفر میں ہم سے صہبا
ہزاروں رہنما ششدر میں دیکھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں