نظم کی چھت پر 222

ڈاکٹر درخشاں اندابی کی “ہتھیلی پہ سورج “…………….ایک جائزہ

از:- ڈاکٹر تمنّا کاشمیری

 

زندگی میں کچھ لوگ پہچان اور مقام حاصل کرنے کے لئے بے انتہا مشقت کرتےہیں لیکن منزل اُن سے پھر بھی کوسوں دُور رہتی ہے لیکن کچھ لوگوں کی تقدیر طلائی قلم سے لکھی ہوتی ہے جن کے پیچھے کی کامیابی خود ہی دوڑ پڑتی ہے، وہ چاہے زندگی کا سماجی ،سیاسی یا ادبی شعبہ ہو ۔یہاں پہچان بنانے میں وقت درکار ہوتا ہے، اگر شعر و ادب کی بات کی جائے تو ہزاروں لوگ قلم اُٹھا کر طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن چند ہی نام قارئین کے لبوں کو زینت اور دلوں کو فرحت بخشتےہیں ۔۔۔۔، ویسے تو شعر وادب جموں کشمیر کی فضاؤں میں رچا بسا ہے ۔یہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اُردو ادب کی آبیاری کرنے میں پیش پیش رہی ہیں جنہوں نے ریاستی اور قومی سطح پر نام کما کر جموں کشمیر کا سر فخر سے بُلند کیا ہے ، اس ضمن میں جب ہم دوسری پیڑی کی بات کرتے ہیں تو کچھ شاعرات کے نام بے ساختہ زبان پر مچل جاتے ہیں اور بالخصوص ُاُن کی جانب سے کشمیر کی نمائندگی کرنے میں اہلیان وادی فخر محسوس کرتے ہیں، ہر سال شعر و ادب کی ہزاروں کُتب چھپ کر منظر عام پر آتی ہیں لیکن اُن میں سے چند ہی مقبول ہوکر قارئین کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں، ایسا ہی ایک شعری مجموعہ “ہتھیلی پہ سورج” چند برس قبل منظر عام پر آکر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکا ہے اس مجموعہ کی خالق ڈاکٹر درخشاں اندرابی ہیں، جن سے میں آج تک نہیں ملی لیکن اُن کا مجموعہ ہاتھ لگ گیا اور نظموں نے بے حد متاثر کیا۔۔۔۔،،
ایمان سے معلوم نہیں کہ وہ ادبی ڈاکٹر ہیں یا میڈیکل کی، جو بھی ہو لیکن انہوں اپنے سماج اور معاشرے کی اس طریقے سے جراحی کی ہے کہ افراد کا سارا اندرون کھنکال کے رکھ دیا ہے،، سوچا اس پر کچھ لکھا جائے عام قاری تک اس شاعرہ کے بارے میں اپنے تاثرات پہنچا کر اپنا حق ادا کروں۔۔۔۔،،
اس مجموعہ پر اُردو ادب کی کئی مایہ ناز شخصیات نے اپنے تاثرات مرتب کئے ہیں جن میں ۔۔۔۔،چندر بھان خیال۔۔۔۔مخمور سعیدی ۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسر رئیس الدین رئیس اور تحریک ادب کے مدیر جاوید انور شامل ہیں۔
یہ مجموعہ فقط آزاد اور نثری نظموں پر مشتمل ہے، جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے شاعرہ کا مزاج ٹیکنالوجی کی دُنیا سے متاثر اور وابستہ ہے جہاں سائینس نے واقعی پوری دُنیا کو ایک عام انسان کی مُٹھی میں سمیٹ کے رکھ دیا ہے اور اب چاند پر رہائش کی باتیں کرنے کے بعد وہ دن دُور نہیں جب سائنس دان سورج کو بھی انسان کی ہتھیلی پر لا کر رکھ دیں گے، صحیح بھی ہے انسان کو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہے کیونکہ عہد اور وقت کے ساتھ زندگی اور ادب کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں، اور یہ فن درخشاں اندرابی کو بخوبی آتا ہے _درخشاں اندابی گزستہ پچیس برسوں سے شعر و ادب کی دُنیا میں قلم کی گُلکاریاں کرنے میں محو ہے، وہ جس قدر شکل و صورت سے خوبصورت ہیں اُسی طرح ان کی شاعری بھی بعد از مطالعہ قاری کے ذہن پر اچھے تاثرات چھوڑ جاتی ہے اُن کا تعلق جنتِ کشمیر سے ہے وہ بیک وقت کشمیری اور اردو میں طبع آزمائی کرتی ہیں اور اس وقت تک اُن کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آچکےہیں۔۔۔۔،،اُن کی شاعری سے متاثر ہوکر نامور اور معروف شاعر چندر بھان خیال رقمطراز ہیں۔۔۔۔،،
“درخشاں کی یہ نظمیں اس کے روشن اور درخشاں مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں _کیونکہ اس نے “ہتھیلی پہ سورج ” سجا لیا ہے، وہ اجالوں کے دیش میں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں جہاں اندھیرے خود خوف ذدہ ہوکر اس کے تعاقب میں ہیں _شاید وہ بھی کرن کرن روشنی کی آرزو مند ہیں _درخشاں اندرابی کی نظموں کا ذائقہ بھی خوب اور انوکھا ہے _نیم کی کڑواہٹ اور آم کی مٹھاس کو یکجا کرکے ایک نئی عبارت سامنے رکھ دی گئی ہے _ان نظموں کو پڑھتے ہوئے مجھے بارہا محسوس ہوا کہ وادئ کشمیر میں بکھرے ہوئے موجودہ نسوانی کرب و احتجاج کو ایسی زبان دے گئی ہے جس کی شعلگی قاری کو جھُلساتی نہیں ہے بلکہ چنار کے درختوں کی آگ کا لُطف عطا کرتی ہے _فکر کی وادی میں ہر نظم ایک الاؤ کی مانند سلگ رہی ہے _آگ چونکہ برفیلی ہے لہذا شاعرہ کے انداز فکر اور طرزِ بیاں میں ٹھنڈے ٹھنڈے سے ٹھہراؤ کا احساس ہوتا ہے، یہ شاعری دراصل “حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں “والی شاعری ہے _بلا شبہ ان نظموں کو پڑھنا مدتوں کے بعد غسل کے لُطف کا مترادف ہے۔ ”
کتاب کے عنوان سے ہی معلوم پڑتا ہے کہ شاعرہ اس سورج کی روشنی برسوں سے اندھیری غاروں میں حیات کاٹ رہے اُن اشخاص تک پہچانا چاہتی ہے جن کے حصے کی دھوپ اور روشنی اس بے درد سماج کے ٹھکیدار ہڑپ کر گئے اور اُنہیں گُھٹ گُھٹ کے جینے کے لئے چھوڑ گئے، وہ اپنی نظموں سے اُن کی رگوں میں جمی زندگی کی خواہشوں کو حدت فراہم کرنا چاہتی ہیں وہ اپنی نظموں سے سماج کی چھوٹی بڑی حقیقتوں کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں کہیں کہیں وہ معاشرے میں نسوانیت کے درد و کرب اور مردانہ نفساتی پیچیدگیوں کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ،ان کی نظموں میں وقت کے بیکراں سمندر میں ہچکولے کھارہی زندگی کی بے بس کشتی ساحل تک پہنچانے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے جس کی آج وادئ کشمیر میں بہت سخت ضرورت ہے ،ثبوت کے لئے پیش ہے اُن کی کتاب سے ایک نظم :-
آؤ یہ ساری پہاڑیاں کھود ڈالیں
ان پہاڑوں کے غار میں جلتے چراغ
کب کے بجھ گئے ہیں
اندھیروں کو سمجھائے رکھنا فریب ہے
فریب کی گھپاؤں سے
بہتان کی دُھول نکل رہی ہے
اور ڈھک رہی ہے ہماری
آزادی کی چاہ، کا وجود
آدھے ادھورے رشتوں کے
نیم مُردہ وجودوں کو
روند کر چلنا ضروری ہے
یہ رشتے ہمیں خود سے چُھپائے ہوئے ہیں
ہمیں خود کو تلاشنا ہے
یہ ساری پہاڑیاں کھود ڈالنی ہیں
مردارخور رشتے داری کی
رسیوں کی گھانٹھیں کھول کر
خیموں کو گرا دینا ہے
اور ڈھک لینا ہے
بانہوں میں بھر کر
قید کرنے کا ہیبت ناک ارادہ
پہاڑیاں کھودنے کے بعد
اپنی اونچائیوں پر چڑھ کر
خود کو دیکھنے کا مزا ہی اور ہے
(پہاڑیاں کھود ڈالیں)
ایسی ہی مثبت نظمیں سسک رہی زندگیوں کو جینے کا حوصلہ بخشتی ہیں، گمراہ لوگوں کو وقت کے ناخداؤں کی زنجیروں سے ٹکرانے کی جُرات فراہم کرتی ہیں، نوالوں کی تلاش میں دردرد بھٹکنے والوں کو روزی تک رسائی دیتی ہیں، کاہل انسانوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پرانے زخموں کو ماضی کی گہری قبر میں دفنا کر تابناک مستقبل کا استقبال کرو ،شاہین کی طرح اونچی اُڈان بھر کر آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرو کیونکہ اپنے آپ کو اونچائی پر دیکھنے کا مزا ہی اور ہے، اُن کی نظموں کو پڑھ کر کہنہ مشق اور استاد شاعر مخمور سعیدی لکھتے ہیں :-
“درخشاں کی نظمیں بھی اُن کی غزلوں کی طرح ہی اردو شاعری میں نئے لہجے کی تخلیقات ہیں _درخشاں کا انسانی نفسیات کا مطالعہ کافی گہرا ہے، اُن کی نظموں میں کائنات کے اسرا و رموز، عرفان و آگہی کی زبان بولتے ہیں۔یہ شاعری جلال و جمال کی شاعری ہے _اُنکی نظمیہ شاعری بھی اُن کی غزلوں کی طرح انسانی احساس کو ایم نئی لذت اور فرحت عطاکرتی ہے، اُن کی شستہ زبان، آسان لہجہ اور فکر انگیز اندازِ بیاں اُنہیں اردو دُنیا میں ایک درخشاں مقام عطا کرنے کے لئے کافی ہے، اس بات کا اندیہ اُن کی یہ نظم دیتی ہے “۔
آنکھ سورج سے دُھواں پھوٹ پڑا
ہر نظارے کے رُخ پہ تپتی رہی
دید کے نور کی سیاہ چادر
بوند بوند کہکشائیں جذب ہوئیں
گردشِ کائنات کے دوراں
ہر صدا یو بیان سے ٹوٹی
ایک احساس بے کیا اعلان
مالک رواء ولا شاھد
ایک چھوٹے سے سیارے زمین سے
ایک من کے اندھیرے کمرے میں
اک رِحل سے اُٹھا زریں پردہ
اور چند بے صدا سے لفظ بجے
ایسے ٹکرائے کہ چقمق سے جلا ایک دیا
نور کی زنجیر کی سبیل بنی
جس میں بندھ کر ایک احساس نے
اہنی خوش منظری پر حمد پڑھا ۔۔۔۔،،
(احساس )
ڈاکٹر درخشاں اندرابی کی نظموں کے مطالعہ کے بعد اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مذہب کا اصل جوہر ایمان ہوتا ہے جسے بے منت عقل رہزن قرار دیا گیا ہے جو انسان کے دل زندہ سے مخفی دولت چھین لیتا ہے اسی لئے وہ انسان کو یہ باور کراتی ہیں کہ حیات و کائنات کے رموز و اسرا جاننے کے لئے سبھی مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے طریقے سے عبادت میں محو رہ کر وحدت کی شراب ِ طہور پی لیں گے تو اپنے رب سے رابطہ کوئی مشکل نہیں کیونکہ ہر مذہب پسندی میں خدا اور اُس کی قدرت کاملہ اور حاکمیت پر جہاں غیر متزلزل ایمان ہوتا ہے، وہیں وسیع المشربی اور رواداری کا جذبہ بھی بدرجہ اتم کار فرما ہوتا ہے جو انسان کو تمام اضافی حدود و حصار سے بالا تر کر دیتا ہے، “توڑ دیں آئینے “نظم میں اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ملاحظہ ہو :-
آؤ توڑ دیں آئینے۔۔۔۔!
اور اپنی شکل کی قید میں بند
انّا کو آزاد کردیں
آؤ توڑ دیں آئینے ۔۔۔۔!
اور آس پاس کے عکس میں
دیکھ پائیں اپنا نہ ہونا
آؤ توڑ دیں آئینے ۔۔۔!
تاکہ برعکس کے آسیب سے
چھڑاپائیں خود کو
آؤ توڑ دیں آئینے ۔۔۔۔!
اور اپنی شکل کے ساتھ کردیں وابستہ
اوروں کی شکلیں
اور پھر خود سے ملنے کے لئے
اوروں کے چہروں میں ڈھونڈ یں
اپنے جیسا کچھ
کانچ کی ٹوٹن کے آسیب سے
بچنے کی صورتیں
بھٹک رہی ہیں
ہماری تنہائی کی وحشت میں
ادھر اُدھر
بے لگام خواہشوں کی طرح
آئینے توڑ کر
خود کو وہاں ڈھونڈیں
جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں ۔۔۔۔،،
“ہتھیلی پہ سورج ” میں شامل نظموں کے بارے میں برصغیر کے ممتاز قلمکار پروفیسر رئیس احمد رئیس رقمطراز ہیں :-
ڈاکٹر درخشاں اندرابی بھی نظم کی ایک ایسی ہی شاعرہ ہیں جو درونِ ذات اور کائنات پر مبنی اپنے تجربات و مشاہدات اور نازک ترین احساسات کو علامت و استعارات کی زبان میں کچھ ایسے دلکش اور موثر اسلوب میں بیان کرتی ہیں کہ ان کی جدت و ندرُت کا طلسم کدہ حیرت دلوں کا مسخر کر لیتا ہے _وہ اظہار بیان کے طور پر جو الفاظ اور استعارات انتخاب کرتی ہیں وہ ان کے موضوع اور خیال کی معنویت کے ترسیل و ابلاغ کی راہ میں رخنہ انداز نہیں ہوتے ہیں اور شاعرہ کے انرون میں ہلچل پیدا کرنے والے متلاطم جذ بات و احساسات قارئین کے دلوں میں خودبخود مُنتقل ہوکر اپنے شکنجے میں کس لیتے ہیں _الفاظ کی گرفت میں نہ آنے والے احساسات کو تخلیق کے سانچے میں وہی ڈھال سکتا ہے، جسے الفاظ سے من چاہے مفاہم برآمد کرنے کا ہُنر آتا ہو _درخشاں اندرابی ایک ایسی ماہرِ فن شاعرہ ہیں جنہوں نے درجنوں معرکتہ الآرا شاہکار نظمیں تخلیق کرکے اپنے آفریدگانہ و سخنورانہ اور خلاقانہ و ساحرانہ جمال و کمال کے دریا بہا دئیے ہیں _مشتے نمونہ از خروارے یہاں اُن کی شاندار نظم “رتجگا” کا حوالہ ہی کافی ہے، یہ نظم گزری ہوئی جاں افروز اور حیات بخش ساعتوں کی بازیافت کے تغافل سے منسوب ہے کہ رات اور تنہائی میں شب بیداری، ماضی کی اُجلے نقوش کی درخشانی و تابناکی سے حزن و یاس کی سیاہی کو اس کے منفی تاثرات سے محروم کرکے اپنی دلجمعی و خوشی کے بہانے تلاش کر ہی لیتی ہے میری باتوں کی تصدیق یہ نظم کرتی نظر آئے گی :-
اندھیرے کی پلکوں نے
آنکھوں سے ساری تھکان جھاڑ دی
اور اضطراب کرن کرن کاڑھتا رہا
جاگتی آنکھوں کی
ملائم سفید چادد میں رنگ برنگے نقش
پوری رات
ان ہی نقوش کی تعریف میں گُزری
رات کا دامن خالی ہوتا گیا
پوری رات
میں بھکارن کی طرح پڑی رہی
آنکھوں کی چوکھٹ پر
رت جگا
میری جلتی نندیائی آنکھوں پر
اوس کی بوند کی طرح گرا
رت جگا
میری صُبح کی تسبیح پر
پھیرتا رہا تہجد کی تھکان
رت جگا
میری کاہل کایا کو
اُجالے کے خلاف اُکساتا رہا
میں رات کے تہہ خانے میں
گُپ چُپ
اُجالے کے آبشار کے نیچے
نہارہی ہوں ۔۔۔۔،،
درخشاں اندرابی کی نظمیں کسی بھوکے کو روٹی چھیننے کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ زمین کا سینہ چیر کر اپنے حصے کی روٹی حاصل کرنے کی تقویت بخشتی ہے ۔۔۔۔ وقت کے اندھیروں سے مُنہ چھپابے کے بجائے سورج سے آنکھ ملانے کہ تلقین کرتی ہیں ۔۔۔۔راہِ حیات میں تھک کر ہار جانے کی بات نہیں کرتیں بلکہ اپنے روح پر تہجد کی چادر اوڑھ کر منزل کی جانب قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہیں ۔۔۔۔انسان کو جھوٹےخواب نہیں دکھاتیں بلکہ حقیقت کے سر چشمے کی تلاش میں سرگرداں رہنے کو جلا بخشتی ہیں ۔۔۔۔،،اُن کا علمی دامن وسیع اور قلب کشادہ ہے، یہ علم کسی کم وہبی زیادہ ہے ان کی نظموں کی خاصیت یہ ہے کہ خیال آفرینی کی بدولت اس میں تمام طرح کے موضوعات کو نظم کیا گیا ہے، اُنہوں نے اپنی نظموں میں تلمیحات اور استعاروں کی وساطت سے تقریباً سبھی موضوعات کو سمٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے، خواہ وہ سماجی مسائل ہوں یا اصلاحی پہلو، سیاسی معاملات کا ذکر ہو یا مذہبی عقائد کا بیان، نفسیات کی پیچیدگیوں کا معاملہ ہو یافکر کی کجروی کا، وہ ایک نباض کی طرح سماج اور فرد کی نبض پر اُنگلی رکھ کر درد و کرب اور چہرے کے تاثرات پڑھ کر قلم میں پروئے الفاظ کو نظم کی صورت میں صفحہ قرطاس پر اس طرح رقم کر دیتی ہیں کہ ہر قاری کو اُن میں اپنا درد محسوس ہوتا ہے، اپنا عکس محسوس ہوتا ہے اور پھر یہی الفاظ قاری کے لئے اکسیر کا کام کرتے ہیں ،اُن کی ایک نظم “اشتہاروں والی عورت”میں اُنہوں جس انداز سے صنف نازک کے مسائل اور درد و کرب کو استعاروں میں الفاظ کا جامہ پہنایا ہے یہ صرف درخشاں اندرابی کا ہی خاصا ہو سکتا ہے ،ہمارے معاشرے میں جس طرح بازار میں فروخت ہونے والی چیزوں پر صنف نازک کی نیم برہنہ تصاویروں کی شکل میں چسپا کر کے عورت کی روح کو پامال کیا جاتا ہے،بلاشبہ اُس کی ذمہ دار ایک عورت ہی ہے ،چونکہ اُس میں مزاحمت کرنے کا مادہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی فورم میں اپنا احتجاج درج کرا سکے کیونکہ وہاں مردوں کا غلبہ رہتا ہے اور اُن کی آواز نقار خانے میں طوطے کی طرح گھنگ ہو کر رہ جاتی ہے اس نظم میں اُنہوں نے جس طرح عورت کی آواز کو بلند کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرد کی صفات سے پوری طرح آشنا ہیں نظم ملالحطہ فر مائیں :-
چکّوں کی دوڑ جھیلتی ہے
اور خاموش گُھلتے گُھلتے
اپنی بڑھتی چکناہٹ پر اتراتی ہے
اشتہاروں والی عورت۔۔۔۔!
پارلیمنٹ کے ہنگامے میں
قائدین کے غوغا کے درمیان
دبی سہمی آئین کی زبان ہے
اشتہاروں والی عورت ۔۔۔۔!
اخبارات کی سچی خبروں میں
جھوٹے رنگدار اعداد و شمار کے بیچ
قلم کی آزادی کا تعارف ہے
اشتہاروں والی عورت ۔۔۔۔!
عورت کی حقوق کی آواز میں
اُبھر آئی مردانگی نے کہا کہ
آزادی کے پوسٹر پر چھپی ہے
اشتہاروں والی عورت ۔۔۔۔!
خالی کمان کے اعتراضات پر
تیر کی چھٹپٹاہٹ کا
وسیع و عریض حلقہ
نشانے کو کھا جاتا ہے تو بولتی ہے
اشتہاروں والی عورت ۔۔۔۔!
اشتہاروں والی عورت
مَدراؤں اور کالموں سے طلاق لے کر
مرتی ہے تو جنم لیتی ہے
اشتہاروں والی عورت۔۔۔۔!
(اشتہاروں والی عورت)
اس نظم جو چیز اُبھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ شاعرہ ہر محاز پر پُر اعتماد نظر آتی ہے اس کے اعتماد کا گراف کہیں گرتا ہوا نظر نہیں آتا ہر محاذ پر وہ مضبوط ارادے کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے جس کے سبب وہ روز مرہ کے موضوعات، احوال و کوائف اور حالات معاملات کو بڑی آسانی اور چابکدستی سے عام فہم انداز میں نظم کے مصرعوں میں ڈھال دیتی ہے، ان سے ان کی مشاقی، فنی اور فکری پختگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، اس نظم میں استمعال کیا گیا لفظ “چکناہٹ “اپنے اندر کتنی معنویت سمائے ہوئے ہے، عورت کے جسم کی چکناہٹ پر جب مرد کی نظر پھسلتی ہے تو کئی ان کہے الفاظ جنم لیتے ہیں، کئی وجود نمو پاتے ہیں اور اسی چکناہٹ سے عورت کے چہرے پر کئی بدنما اشتہار چسپاں ہوجاتے ہیں اس نظم میں شاعرہ نے عورت کے جسم کو جس طرح اُس چاک سے تشبہہ دی ہے جس پر قدرت کا کمہار دُنیا کے لئے گوشت پوست کے کھلونے بناتا ہے، اسی طرح اُس کی تجسیم کاری کو بھی ڈیفائن کرنے کی کوشش کی ہے وہ اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے، میری نظر میں اس نظم کا شمار اس دور کی بہترین نظموں میں ہونا چاہیے ۔۔۔۔،، یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ہر موضوع کو سنجیدگی، متانت اور حقائق کو پیشِ نظر رکھا ہے، جو کچھ وہ دیکھتی ہیں محسوس کرتی ہیں ان فنی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی نظموں میں برتننے کی کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا لفظی برتاؤ، عام فہم زبان، بیان کی سادگی، سلاست اور لہجے کی متانت دل گرفتہ کر لیتی ہے ،اس پیرائے میں اُن کی ایک اور نظم ملاحظہ ہو:-
پیار کا بھرا پورا دریا
جب میں نے اپنی
خواہشات کے دریا میں بہادیا
تو سفر کے پڑاؤ پر
من بھاؤنے نخلستان وجود میں آئے
جہاں میرے ساتھ ساتھ
ہر ڈیرے پر سُستانے بیٹھ جاتے ہیں
میرے اندر بڑھتے ہوئے جلوس
اور ہر بار سفر کی نئی شروعات پر
میں اپنا بوجھ کم کرکے چل نکلتی ہوں
سفر در سفر _۔۔۔۔!
کم ہوتے بوجھ کے بعد
جب آج میں
اپنی پیاس کے دریا میں
نہانے اُتری
تو میرا وزن پانی میں کم تھا
اب میں غسل کی مجبوری سے آزاد ہوں
اور اب آزادی کی احساس کا بوجھ
رفتہ رفتہ ہلکا کر رہی ہوں (بوجھ)
اس مجموعہ میں شامل ابتداعی نظم “امام عالی مقام کے لئے ایک نظم” میں شاعرہ نے جس بصیرت کا اظہار کیا ہے وہ ان کی کامیابی کا سنگ میل ہے اس میں سوز و گداز کے ساتھ ساتھ عقیدت کے جو روحانی رنگ بھرے ہیں اُسے قاری فوراً محسوس کرتا ہے اس نظم میں شاعرہ عشق مجازی سے گُزر کر بالآخر عشق حقیقی کی منزل تک پہنچ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس نظم پر عارفانہ رنگ غالب آگیا ہے۔۔۔،،ایک بند بطورِ نمونہ:-
اُسی اک کوکھ کے بسنے کا وہ اعلان کرتا ہے
وہی اعلان بنجر میں برف سوغات لاتا ہے
وہی اعلان سوکھے کھیت میں بوچھار کرتا ہے
وہی اعلان مشرق اور مغرب کو ملاتا ہے
وہی اعلان پھر ارض و سما میں پھیل جاتا ہے
نہ ہی پہچان کی کوئی بھی پھر تفریق بچتی ہے۔۔۔۔،،
بنارس سے شائع ہونے والے رسالے تحریکِ اردو کے مُدیر جاوید انور درخشاں کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں :-
درخشاں اندرابی سماجی ضرورتوں سے زیادہ روحانی ضرورتوں کو اپنی نظموں کا موضوع بناتی ہیں _ان موضوعات کو تخلیقی جامہ پہنانے کے لئے وہ تخلیقی عمل کی پیچیدگیوں کا کام میں لاتی ہیں، اس لئے ان کے یہاں علاماتی اور استعاراتی مطالبات غور و خوص کا تقاضا کرتے ہیں _ان کی نظمیں سوچے ہوئے خیالات کو نظم کرنے کے سلسلے میں لفظوں کے انتخاب کی اہنی دُنیا رکھتی ہیں جو مبالغے سے پاک اور اصلیت کے ایک نہیں کئی تصورات کو اپنے دائرہ اثر میں رکھتی ہیں _وہ شعری جمالیات کے کسی نئے تصور سے زیادہ تہذیب و ترقی کے ان تصورات سے علاقہ رکھتی ہیں جو ادب کی افادیت اور اس کے سماجی روک کے آئینے میں روحانی تسکین کے ذریعے فراہم کرتے ہیں، اُن کی ایک نظم “ذات کے علاقے میں ” اس کا واضح طور پر، اثر دکھائی دیتا ہے ایک بند حاضر ہے :-
میری ذات کے علاقے میں
سمتوں کا بھرم لا محدود میں کھو گئے ہیں
اُڑانیں مگر میرے پروں کے ساتھ جُڑی ہیں
اُڑانیں مجھے سے سفر کرواتی ہیں مُسلسل
سمتوں کے کھو جانے کے باوجود
تم۔۔۔۔اور پھر مجھ تک
ایسے میں ان دیکھا کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔!
درخشاں کی بعض نظموں میں گہری جذباتی کشمکش کے نشانات ملتے ہیں (بہت سی روئی دُھنک چکی ہے، احساس، جل رہی ہوں) وہ اُن کے عملی مسائل کے تناظر میں ایک آلہ کار کے طور پر برتنے کی کاوشوں کا ثمرہ ہے _ اُن کی ایک نظم “کرم پیلہ” جہاں المناک واقعات کے ایک تسلسُل کی جانب اشارہ کرتی ہے وہیں اس کے آگے تخلیقی لمحات میں زمان و مکان کی حدود سے آگے مادی رشتوں کی عُریا نیت کی توجہ گر بھی بن جاتی ہے ”
ابھی واضح نہیں ہیں
خال و خد ارض و سما کے
ابھی پانی تو ہے ہر سُو
روانی اُس میں باقی ہے
ابھی ہے روشنی لیکن
نابلد ہے وہ بصارت سے
ابھی اعلان ہے نہ عہد و پیماں
ابھی کرم و فضل نہ خلق و عطا ہے
ابھی سب کچھ عذابوں سے پرے ہے
ہے اک تسبیح زمانے گھومتی ہے
بہا جاتی ہے بے صورت وہ دریا
جہاں خالق ہے غوطہ زن مُسلسل
طہارت کے وہ پاکیزہ سے قطرے
میرے چہرے پہ گرتے جارہے ہیں
کہ عمرِ خلق کے دارے ارادے
میرا من طور کرتے جارہے ہیں،
(ہے اک تسبیح)
نظم پڑھ کر قاری کے لب سے آہ یا واہ نکلے تو سمجھ لینا چاہئے کہ شاعرہ نے سیدھا دل پر اثر کیا ہے اور اس میں استمعال شدہ الفاظ نے قلب و ذہن پر قبضہ کرلیا ہے،
ہتھیلی پہ سورج میں ایسی کتنی ہی نظمیں ہیں جن پر ایک ایک مضمون لکھنے کی گُنجائش موجود ہے، تھوریوں کے لئے ایک نظم، کتنی عجیب بات، عشق کی راہ، ہوشیار خبردار، عجب سی صورت ہے کشف کی یہ، جُدائی، برہنگی، سالم رشتہ، مکالمے سے رشتہ وغیرہ جو ان کے مختلف تصورات اور اس کے برتنے کے اسلوب کی ضمن میں حیرت انگیز مسرت سے دوچار کرتی ہیں اردو کے عصری دور میں جہاں پیچیدگی کے نام پر نثری عبارت کو دو تین ٹکڑوں میں لکھ کر نظم بنانے کا رحجان بھی موجود ہے، درخشاں اندرابی کی یہ با معنی نظمیں اردو ادب میں ان کے روشن مستقبل کی بشارت دیتی ہیں،
سب رنگ ہوئے ہیں بے رنگ
نکھرا ہوا ہے بس لال
تصویر ہے اک چہرہ
لالی میں نہایا لال
(کربلا)
ایسی ہی شاعری کی بدولت درخشاں اندرابی اپنے عہد کے تخلیق کاروں میں ممتاز اور منفرد مقام رکھتی ہیں اور ادبی حلقوں میں بڑی توجہ اور سنجیدگی سے پڑھی جاتی ہیں، ترنم ریاض کے بعد وہ ایسی دوسری نسوانی آواز ہے جو قومی سطح پر اپنی گونج برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی ہیں
بلاشبہ ہتھیلی پہ سورج اردو ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے……،،،،
از:- ڈاکٹر تمنّا کاشمیری
باغ مہتاب سرینگر
Mehmoodabhat8@gmail. com،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں