افسانہ نگار: ملک منظور قصبہ کھُل کولگام
حبیب کے ہاتھ میں چلم اور چمٹی تھی وہ ایک بڑی سی کانگڑی سے آگ کے کوئلے چلم پر ڈال رہا تھا ۔پاس ہی میں حقہ اور تمباکو کا ڈبہ رکھا ہوا تھا ۔۔منہ میں حقے کی نلی اور کمرے میں دھواں ہی دھواں تھا ۔سامنے ایک گیس دان،پانی کی بالٹی اور چند برتن بکھرے پڑے تھے ۔حبیب کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار جاری تھی وہ اپنے بھائی سے کہہ رہا تھا
” اگر میرے باپ نے مجھے گھر جمائی نہ بنایا ہوتا ۔تو آج میری اتنی بری حالت نہیں ہوتی”
” ان کے پاس کیا تھا ۔نہ کھانے کےلئے برابر چاول اور نہ زمین قابل پیداوار ”
” اس بنجر زمین پر میں نے خون پسینہ بہایا ، دن رات محنت و مشقت کی تب جا کے یہ زرخیز بنی ”
” ان باغات کو میں نے خون سے سینچا ”
” یہ خوبصورت عالیشان مکان میں نے اپنے دم پر بنایا ”
” لیکن آج میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔میں تو بس ایک نوکر تھا ۔” اس کا بھائی چپ چاپ یہ باتیں سن رہا تھا
۔دراصل حبیب کو پچپن سال پہلے والدین نے گھر جمائی بنا کر اکبر کے گھر بھیجا تھا ۔تب وہ خوب صورت اور طاقتور نواجوان تھا اور جس گھر میں وہ جمائی بن کر آیا تھا ان کے پاس زمین تو تھی لیکن وہ بنجر کی مانند تھی
۔حبیب اپنے بھائی سے کہہ رہا
” میں نے پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش کی ۔ان کی شادیاں کیں ”
” میری بیٹیاں اپنے سسرال میں باغوں کی مالکن بنیں ”
” میری بہو بھی سب ذمین و جائیداد کی مالکن بنی ”
“لیکن میں آج تک اپنے ہاتھوں سے بنائیے ہوئے باغات کا کاشتکار بھی نہیں بن سکا ”
بھائی حبیب کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے
بھائی : دیکھو حبیب میاں بیوی کے درمیان ایسے چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ۔
حبیب : یہ چھوٹی بات نہیں ہے ، اس نے پوتے پوتیوں کے بیچ میں مجھے زلیل کیا ۔
۔ایک غلط فہمی کی وجہ سے میاں بیوی میں تو تو میں میں ہوا تھا ۔کسی نے حبیب کی بیوی سے کہا تھا کہ حبیب کے سی سی لون نکال کر زمین بینک میں گروی رکھے گا ۔تو دستخط مت کرنا ۔یہ گناہ مت کرنا ۔کیا پتہ کل کوئی اس قرض کو ادا کرے یا نہیں ۔اسی لئے بیوی نے اس کو گھر کے سبھی افراد کے سامنے کھری کھوٹی باتیں سنائیں تھی
بیوی :” تم اتنا زیادہ کیوں اچھلتے ہو”
“یہ مکان ،باغ اور کھیت تیرے باپ کے نہیں ہیں بلکہ اس کی مالکن میں خود ہوں اور یہ سب میرے باپ نے مجھے وراثت میں دیا ہے “تم اس کے حقدار نہیں ہو”
حبیب کہتا رہا کہ اس نے کوئی پلان نہیں بنایا ہے ۔لیکن زبان سے تیر نکل چکا تھا
حبیب کے لئے ۔یہ معمولی بات نہیں تھی ۔جس کھیت پر اس نے جوانی لٹائی تھی اور ثمردار بنایا تھا ۔آج وہ بے دخل ہوگیا ۔اسکا دل چھلنی ہوگیا اس کے سارے سپنے بکھر گئے ۔وہ اپنے پوتے پوتیوں میں شرمندگی محسوس کرنےلگا ۔اس پر غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے وہ ایک پل میں پرایا ہوگیا تھا ۔اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے وہ چلا چلا کر کہہ رہا تھا
” پچپن سال کے بعد بھی میں غیرآباد ہی رہا ”
۔میری بہو اپنا حق جتاسکتی ہے ۔میری بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں ۔وہ اپنے شوہروں کی جائیداد کی مالکن بنیں ہیں۔
” لیکن ان کا باپ اسی سال کی عمر میں بھی خالی ہاتھ ہے” ۔ وہ اونچی آواز میں بول رہا تھا کہ ” سچ ہی کہا ہے کسی نے “ایک گھر جمائی قبر کی دہلیز تک بیوی کی وراثت کا حقدار نہیں بن سکتا “۔
“میں اس گھر میں اب ایک پل بھی نہیں رہ سکتا” ۔
لیکن وہ جاتا تو جاتا کہاں ۔اس کے بھائی خود بوڈھے ہوگئے تھے ۔ان کے بچےاس کو اپنانے کے لئے تیار نہیں تھے ۔والدین فوت ہوگئے تھے ۔بیٹے کے اصرار پر اس نے ایک الگ کمرے میں تنہا رہنے کا فیصلہ کیا اور اسی کمرے میں خود کھانا پکا کر زندگی کے ستم افروز دن گزارنے لگا ۔وہ روتے ہوئے بھائی سے کہہ رہا تھا۔
” اگر وہ گھر جمائی نہ بنا ہوتا ۔تو اس کے پاس سب کچھ اپنا ہوتا ۔ گھر جمائی بننے سے بہتر تھا۔ کہ وہ کنوارہ ہی مرجاتا۔ ۔کیونکہ گھر جمائی نہ گھر کا رہتا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا ۔”
