"ہاٹ اینڈکولڈچارجز" 139

“ہاٹ اینڈکولڈچارجز”

افسانہ نگار :خالد قمر

سمیر احمد نے اپنے باپ سے یہ بات چھیڑی کہ رمضان کا بیٹا سلمان پڑھنے کےلیے شاہی آباد گیا ہے۔سنا ہے وہاں پڑھائی بڑیڈھنگ سے ہوتی ہے۔شاہی آباد کا ماحول پڑھنے کےلیے سب سے بہتر اور اعلیٰ ہے۔پچھلےسال منظور کے بیٹے نے شاہی آباد سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری  حاصل کرتے ہی اعلیٰ محکمہ میں ملازمت حاصل کرلی۔اس بار سلمان بھی ڈگری لیکر ملازم بن کر ہی لوٹےگا۔سمیر کی باتیں سن کر اس کا باپ اس سوچ میں پڑگیا کہ کیا سمیر کوشاہی آبادبھیج کر وہ سچ میں ملازم بن جائےگا ۔لیکن دنیا سے بےخبر فاروق بٹ یہ نہیں جانتا تھا کہ شاہی آباد میں اتنی بے روزگاری ہے جتنی شاید دنیا کےکسی کونے میں نہیں ۔

بہرحال وقت آگیا کہ جب سمیر نے باپ کو سمجھایاکہ “بابا آپ پریشان نہ ہوں میں بہت بڑا افسر بن کے ہی لوٹوںگا،اور ہماری یہ غریبی جڑ سے ختم ہوگی۔اور بابا سنا ہے کہ وہاں پر فیس بھی دیگرریاستوںکی جامعات سے کم ہے۔ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا  چاہتا بابا۔مجھے اس بات کا احساس ہے کہ کس طرح آپ نے میری تربیت کی اور اس میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ بابا یہ غریبی بھی کیا آفت ہے کہ ہمیںایک ہی لباس پہن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے ،اور پیٹ کاٹ کر کچھ چاول کے دانے ہی کھانےپڑتے ہیں۔” وہ کچھ اور کہناچاہتاتھا لیکن باپ نے روکا اور بولا “آپ فکر مت کروآپ کے باپ نے آپ کی تعلیم کےلئے دولاکھ روپیہ پہلے ہی جمع کرکے رکھیں ہے۔ آپ تیاری کرو اور ایک بڑاآفیسر بن کر لوٹو”۔

وقت آگیا جب سمیر نے تمام دستاویزات کو اکٹھاکرکےآخری بار باپ کے ہاتھ میں دیا۔باپ نے کامیابی کی دعائیںدیں اور بیٹے کو الوداع کیا۔جس جامعہ میں سمیر نے داخلہ لیا تھا تو وہاں سے اس کو کہاگیا تھا کہ پانچ سال کے لئےآپ کو صرف ڈیڑھ لاکھ روپےجمع کروانے ہوں گے ۔اسی بات کو ذہن میں رکھکر وہ خوشی خوشی شاہی آباد میں داخل ہوگیا اور سوچا کہ پچاس ہزار کی بچت میرے لئے کافی ہے اس سے میںضروری اخراجات کوپورا کرسکوں گا۔وقت چلتا گیا اور سمیردرس و تدریس کی فکر میں دل و جان سے لگ گیا۔غریب کی محنت جب پوری ہو تو اس کے سامنےمشکلات و مصائب کتنےبھی ہوں وہ ڈرتانہیں۔اس بات کا اندازہ سمیر کے جوش اور جذبات سے دیکھا جاسکتا تھا۔پہلےسمسٹر کا نتیجہ سن کر سمیر کا باپ بہت خوش ہوا اور حقیقت کی دنیا سے خیالی دنیا میں پہنچ گیا ۔اور ساتھ ہی دیکھتا ہے کہ سمیرایک بہت اچھا ملازم بن کر گاوں میں داخل ہوکر گاوں کی ترقی کےلئےایک اسکول اپنے پیسوں سے قائم کرتاہے۔کچھ اور بھی دیکھناچاہتا ہے لیکن رزاق وہاں سے گزرجاتاہے اور سمیر کی کامیابی پر مبارکبادی پیش کرتاہے۔اوراس بات پر زور دیتا ہے کہ تو توغریب ہے اتنی رقم کہاں سے جمع کی۔دو وقت کا کھانا تو امیرگھرانوں میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن سمیرکے گھر کی طرف جب نظر پڑتی ہے تو یہاں چٹائی اور مٹی کے برتن گھر کی زینت بنی ہے ۔برتن میں کچھ چاول کے دانے ہیں اور آٹا ڈھائی سیر تک۔ روٹی خاص دنوں میں ہی  بنتی ہے۔اس کے بجائےوہ زیادہ تر ستوکھاکر ہی گزارہ کرتے ہیں ۔

ادھرتین سال گزرنے کو ہے اور سمیر کے پیسے کم پڑنےلگےہیں۔وہ اس سوچ میں مبتلا ہوگیا کہ مجھے پہلےہی رقم کے بارے میں کہا گیا تھا ۔پھر اتنےسارے پیسے کہاں خرچ ہوگئے۔حساب و کتاب کرنے کے بعد یہ اس مشکل میں پڑگیا کہ اسکالرشپ میں ملے رقم بھی غائب ہے۔پریشانی کی حالت میں ہی ان دوستوں کے پاس گیا جو امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے درخواست کی کہ اس کو اتنی زیادہ رقم کس چیز کےلئے خرچ ہوئی۔وہ تو امیر تھے ان کو پیسےلٹانے کی لت تھی وہ اس کے سوال کو سمجھ نہیں سکے۔ وہ باپ سے فون پر رابطہ کرنےکےلئے اٹھ کھڑا ہوا لیکن جونہی فون کو ہاتھ میں لیاتو باپ کی غربت سے کسمپرسی کی حالت یاد آگئی تو اس نے فون کو فورا نیچےرکھ دیا اور اس کے بارے میں سوچتا رہا کہ اب پیسوں کا  انتظام کہاں سے کرے۔وہ ان دوستوں سے مدد کی فرمائش کرنے لگا لیکن وہ تو اس بات کے پیچھے تھے کہ اس غریب سمیر کو کس  طرح پیچھے دھکیل دیا جائے ۔جب سمسٹرچہارم کا امتحان فارم نکلا تو اس پر رقم دیکھ کر اس کی روح کانپ اٹھی جب اس نے گیارہ سو پچاس کے بجائے چار ہزارروپے کی رسیددیکھی۔غریبی کی وجہ سے جو حالت ہوتی ہوگی وہ حالت سمیر میں دیکھی جاسکتی تھی۔وہ اعلٰیٰ حکام سے بات کرنے کےلئے گیا لیکن یہاں تک رسائی غریبوں کی نہیں بلکہ امیروں کی تھی۔اب صرف ایک راستہ تھاپڑھائی کو چھوڑ دینا یا پھر پیسوں کو جمع کروانا۔بیچارہ اسی خیال میں روتے روتے اسکول کی دیوار سے ٹکراگیا۔ایک چپراسی کی نظر اس پر پڑی وہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچااور سب حالات و واقعات سن کر اس کو  اعلٰی حکام تک لےآیا۔جب جامعہ کے آفیسر نے سارا معاملہ سنا تو وہ زور سے ہنس پڑا اور بولا”آوبچے یہ شاہی آباد ہے یہاں حالات و واقعات بدلتےرہتے ہیں اسی طرح جامعہ کا سرکیولر بھی بدلتا رہتا ہے۔ جس فیس کی آپ بات کررہے ہیں وہاں سے اب تک تین بار سرکیولر بدل دیا گیاہے۔

سمیر نے حساب و کتاب میں ایک موٹی رقم  کو الگ خانے میں رکھاتھا۔آنکھوںسے آنسوںٹپک ہی رہے تھے ۔اس نے آفیسر سے اس لہجہ میں بات کی کہ گویا وہ اس سے بھیک مانگنا چاہتا ہو اور اپنی تعلیم جاری رکھناچاہتاہو۔دھیمی آواز سے کہتا ہے کہ سر یہ موٹی رقم کس لیےمجھ سے لیےگیے ہیں تو آفیسر نے فائیل کھولی اور اس کی طرف آگےبڑھا کر بولا یہ تو “ہاٹ اینڈکولڈچارجز “ہیں۔ یہ سن کر سمیربیخودہوکرزمین پر گر پڑا ۔

خالد قمر

Khalidashraf67@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں