انتساب عالمی پر ایک تبصرہ 177

انتساب عالمی پر ایک تبصرہ

مبصر:پروفیسر عزیزاللہ شیرانی
مولاناآزاد یونیورسٹی ، جودھپور (راج)
’’انتساب عالمی‘‘ سرونج ، مدھیہ پردیش بھارت کا معیاری ،تحقیقی ،تخلیقی، تبصراتی اور مکتوباتی سہ ماہی رسالہ ہے ۔ جس میں رسالہ کے ترتیب کار ڈاکٹر سیفی سرونجی ہیں۔
بیرونی ممالک میںاردو نظم قسط نمبر 5 بشکلِ اداریہ ڈاکٹر سیفی سرونجی کی کاوش فکر کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے سرسری تذکرے کے بعد منتخب شعراء کی آزادنظموںکی شمولیت کی ہے ۔
ڈاکٹرسیفی سرونجی نے نظموں کے تخلیقی پہلو پرجائزہ پیش کیا ہے۔
پروفیسر صغیرافراہیم (علی گڑھ) نے سرسید کے سفر پنجاب کے حوالے سے اپنے مضمون کا عنوان’ سرسید احمدخاں اتحاد واتفاق کے سفیر‘ رکھا ہے ۔الطاف حسین حالیؔ نے بھی ’حیاتِ جاوید‘ میں سرسید کے پنجاب سے رابطہ کاذکر کیا ہے ۔ جہاں سرسید پہلی مرتبہ 29 دسمبر1873ء میں تشریف لائے ۔ پروفیسر موصوف نے مقتدر محققین کے اقتباسات کے حوالوں کے ساتھ پنجاب اور سر سید کاتعلق خاص بتایا ہے جس سے سرسید کے فلاحی اور قومی خدمات کاپتہ چلتا ہے ۔
ڈاکٹر دائود احمد(لکھنو) نے عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے شاعر کیفی اعظمی کی شاعری پر پُر مغز مقالہ لکھا ہے ۔ ادب اطفال کے حوالے سے متین اچل پوری کی بچوں کی شاعری کا تعارف پیش کیا ہے۔
ذوالفقارا حسن (سرگودھا،پاکستان) نے عہد حاضر کے حساس رومانی شاعر نعمان شوق کی غزلوں خصوصا ً ان کا نیا شعری مجموعہ ’’جلتا شکارا ڈھونڈنے میں‘‘ خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے ۔
غیاث احمد گدی کی افسانہ نگاری پر احمدرشید (علی گڑھ) نے غیاث احمد کے علامتی افسانہ ’ایک خوں آشام صبح‘ ، ’پرندہ پکڑنے والی گاڑی ، اور پرند میں آزادی کی اہمیت بتائی ہے ۔ ان کے دیگر افسانوں پر اپنی رائے قائم کی ہے کہ افسانہ نگار کی فنی ہنر مندی کی داد دینی پڑتی ہے ۔ غیاث احمدگدی ایک جینوئن افسانہ نگار ہیں۔
ڈاکٹروسیم انور ساگر نے سماج اور تعلیم کے رشتہ کو تدریسی نکات اور درس گاہوں کے نصاب اور استادوں کی تدریسی ذمہ داریوں پر بچوں کی نفسیات کے مطابق تعلیم دینے پر زور دیا ہے ۔ براہِ راست یہ مضمون درس وتدریس کے نفسیاتی جائزے کو اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔
آپ نے تدریسی کتب اور متن پر تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے ۔ یہ مضمون اردو تعلیم کے حوالے سے انفرادی حیثیت رکھتا ہے ۔
ادب میں احتجاج کے موضوع پر اردو ہندی غزل میں خوب کیا گیا ہے ۔ احتجاج کو استعارہ کی شکل میں استعمال کیا ہے ۔ اس تنقیدی جائزہ میں ڈاکٹر مہندر اگروال (شیوپوری، مدھیہ پردیش)کی شاعری پر خان حسنین عاقب (مہاراشٹر) نے مدلل تبصراتی جائزہ لیا ہے ۔ اگروال کی بے باک زبان احتجاج کی ایک صورت ہے ۔ ملاحظہ کیجئے :
ہے جمہوریت کی کہانی میں شیطاں
اسے مارنے کے جتن کر رہا ہوں
محمدایوب واقف (ممبئی) نے’ اردو کا ایک پیدل سپاہی سیفی سرونجی‘ کی تیسری قسط سیفی کی مختصر سوانح اور شخصیت کا آئینہ ہے ۔ سیفی کی ’’آپ بیتی‘‘ یہ تو سچا قصہ ہے ۔ سیفی کی حقیقت پسندی اور تخلیقی رجحانات کے عروج کی سچی داستان ہے ۔
اس شمارے میں اردو کی ایک غیرمسلم کمسن شاعرہ مضمون وتبصرہ نگار اور انتساب عالمی کی نائب مدیرہ استوتی اگروال کی اردو سے محبتِ خاص اور اردو تہذیب کی پروردہ کا تعارف جناب انیس جاویدؔ نے کرایا ہے جو ایک قابل تحسین عمل ہے ۔
بیگ احساس کے افسانوی مجموعے ’’دخمہ‘‘ کے گیارہ افسانوں پر ایک تبصرہ توصیف احمد ڈار (سری نگر ،کشمیر) نے فرمایا ہے ۔ بیگ احساس کے افسانوں میں فطری جذبات کی عکاسی خوب ملتی ہے ۔ شاہکار افسانہ ’دخمہ‘ ہے جس میں راوی کی زبانی مشترکہ تہذیب اور مساوات کے منظرنامے پیش کیے گئے ہیں۔
شعری حصہ میں وصی مکرانی واجدی نیپال کی دو غزلیں ہیں۔ ایک شعر :
وہ آستن کا سانپ نکلا ہے سانپ کی صورت
جسے سمجھتا رہا گھر کے ممبروں کی طرح
افسانوی حصے میں ارمان شمسی (بنگلہ دیش) کاافسانہ ’’نطفہ‘‘ دلچسپ، عبرت آمیز اور حیرت انگیز حقیقت کا را ز کھولتا ہے ۔ جس میں ایک مجبور وبے بس عورت کی بچی کی تصویر نظر آتی ہے جو نطفۂ بے جا کانتیجہ ہے ۔
وحشی سعید (سری نگر) کا علامتی افسانہ ’خضر کیا سوچتا ہے‘ وُلر کے کنارے ایک فکریہ ہے زندگی کے سراب کا جسے وہ وُلر کے کنارے آخری سانسوں تک تلاشتا ہے ۔ بچپن ،جوانی اور بڑھاپے کی یادیں سمیٹنے کی سعی کرتا ہے۔
افسانہ ’سوالیہ نشان‘ تنویر احمدتماپوری (ریاض ، سعودی عرب) کا جدید معاشرہ کا المیہ ہے ۔ افسانہ کا یہ جملہ اس کی تصدیق کرتا ہے ’’جوان بیٹی کی بے راہ روی بھی پہلا ہی غم تھا۔‘‘ مغربی اور مشرقی معاشرہ کی بداعمالیوں کے منظر اور ان پر سوالیہ نشان اس افسانہ کا مقدر بن گیا۔
افسانہ مجبوری سرور غزالی(برلن، جرمنی) نے فوجی کیمپ اور فوجیوں کے المیے کو اس کی مجبوری سے تشبیہ دی ہے ۔ دوسری منی کہانی ’لذت‘ میں مذہبی تعصب اور نفرت کا پردہ فاش کیا ہے۔
افسانہ ’ہوم لیند‘ پروفیسر ریاض توحید ی کاشمیری کا وادی کشمیر کے بگڑتے حالات کی وضاحت کرتا ہے۔
اشتیاق سعید (ممبئی) نے اپنے افسانے ’جان میں جان‘ میں معاشرہ کی عریانی ازدواجی زندگی کے بگڑتے شیرازے اور بے بہرہ سماج کے چلن کو مختصر کہانی میں پیش کیا ہے۔ جو نسل در نسل پھیلتا ہو انظرآتاہے۔
عبدالستار (مظفرنگر) نے افسانہ ’تبسم‘ میں عورتوں کی تعلیم کے فروغ پر زور دیا ہے انہیں خود کفیل ہونے کی ترغیب دی ہے ۔
معز ہاشمی کی دو منی کہانیوں میں’کربِ خود کلامی‘اور’ المیہ‘ مشینی زندگی اور زندگی وموت کا فلسفہ بیان کیا ہے ۔
طنزانچے کے تحت مزاح نگار اسد رضا(اتراکھنڈ) کاطنزیہ مضمون ’’سب سے بڑا فن‘‘ میں پروفیسر اور مشاعروں کی سماعتوں پرطنز کیا ہے ۔
‘پختہ یقین‘میں بھی مشاعروں کی طرح سیمیناروں کے نظریۂ تجارت کا راز دریافت کرتے ہیں۔
نئی صنعت بھی مشاعرہ بازی میں اول آنے والے ڈرامہ بازوں پر طنزکیا ہے ۔ جو ایک ابھرتی ہوئی صنف ہے ۔
عصرِ حاضر کا بین الاقوامی المیہ’کورونا‘ ثابت ہوچکا ہے۔ اس کامظاہرہ دنیا میں دیکھا جارہا ہے ۔ خاکسار (ڈاکٹر عزیزاللہ شیرانی) کا ’اکیسویںصدی کا بین الاقوامی کورونا‘ اس شمارہ میں شامل ہے ۔
تبصروں کے ضمن میں پہلا تبصرہ علیم صبانویدی کے خطوط مرتبہ ڈاکٹر جاویدہ حبیب کا ہے ۔ اور اس کے مبصر سیفی سرونجی ہیں۔
دوسری کتاب کانام ہے ’’چہرہ چہرہ پہچان‘‘ افسانوے مجموعے میں 20 افسانے ہیں ۔ افسانہ نگار ہیں ڈاکٹر عظیم راہی۔ اس کا تبصرہ استوتی اگروال صاحبہ نے لکھا ہے ۔
تیسری کتاب کا نام حرفِ تازہ نظموں کامجموعہ شاعر اظہرنیر اور مبصرہ استوتی اگروال ہیں۔
چوتھی کتاب ’مدارس اور اردو‘ ڈاکٹر فیض قاضی آبادی کی مرتب کردہ کتاب ہے ۔ جس کے مبصر غازی سہیل خاں ہیں ۔ یہ کتاب تدریسی نکات اور اردو تدریس کے مدارس کا تعارف ہے۔
سہ ماہی رسالہ ’’ثالث‘‘ کا خصوصی شمارہ ’عالمی خواتین نمبر‘ ہے جس کے مدیر اقبال حسن آزاد اور ثالث آفاق صالح ہیں۔ جنوری تا دسمبر 2020ء سن اشاعت ہے ۔ اس پر تبصرہ ہاشمی فاطمہ جلالپور امبیڈکر نگر یوپی نے لکھا ہے ۔
سرور ظہیرغزالی(جرمنی) ، ارمان شمسی (بنگلہ دیش) ،پروین شیدا(کینیڈا) کے مکتوبات بھی رسالہ کے دوسرے حصہ میں گوشہ بشیر احمد کشتواڑی (جموں کشمیر) ہے ۔ جس میں بشیر احمد کی شاعری اور ان کے شعری مجموعوں پر سیفی سرونجی ، بشیر بدر، حامدی کشمیری، انور سعید، پروفیسر ظہورالدین، ڈاکٹر یوسف صابر، وحشی سعید، ونے کپور، بختیار نور،اسیر کشتواڑی،ع ق صابر ،سعداللہ شاد، ڈاکٹر ظفرسرونجی اور استوتی اگروال کے مضامین شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں