افسانہ نگار: گل گلشن۔۔۔ ممبئی
علینہ آخر تم چاہتی کیا ہو کیا تمہارے سارے جذبات مر چکے ہیں یا دل کی جگہ کوئی پتھر رکھا ہوا ہے علی تم سے محبت کرتا ہے یہ بات سارا کالج جانتا ہے اور اس بات سے بھی تم بخوبی واقف ہو کہ کالج کی کتنی ہی لڑکیوں کا دل صرف علی کے لئے دھڑکتا ہے اور وہ ہے کہ تم جیسی بے رحم لڑکی کو دل دے بیٹھا ۔”ثمینہ نے علینہ کو سمجھانا چاہا۔ثمینہ اور علینہ ایک ہی کالج میں پڑھتی تھیں ۔
” ثمینہ تم بہت اچھی طرح جانتی ہو میں ان سب باتوں سے بہت دور رہتی ہوں اور جانتی ہو لڑکی کی ایک ہاں کا مطلب کیا ہوتا ہے۔لڑکی کی ہاں مطلب لڑکوں کو سرٹیفکیٹ مل گیا انھیں اپنی پراپرٹی بنانے کا ۔تم جانتی ہو مجھے اس دنیا کا سب سے گندا لفظ کیا لگتا ہے’’ گرل فرنڈ‘‘ ۔یہ لفظ ہر لڑکی کے لئے گالی ہے لیکن افسوس اب ہمیں اس لفظ میں چھپی غلاظت محسوس نہیں ہوتی۔کیونکہ ہم لڑکیاں خود ہی اپنا معیار گرا رہی ہیں اور خود کو کسی ڈش کی طرح پیش کر رہی ہیں خدارا اپنا رتبہ اپنا مقام سمجھو اور اسلام کی شہزادیوں کی طرح زندگی بسر کرو اور خود کو ان فتنوں سے بچاؤ اور تم ہو کہ مجھے ہی الٹی پٹی پڑھا رہی ہو۔” علینہ نے ثمینہ کو حقیقت کا آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔
“علینہ تم کس زمانے کی بات کررہی ہو۔یہ وہ زمانہ بالکل نہیں ہے ۔اب تو وقت کے ساتھ چلنے والے کو ہی سمجھدار کہا جاتا ہے۔تم جیسی سوچ کے لوگ سوسائٹی میں موو نہیں کر پاتے اور اپنے آوٹ ڈیٹڈ خیالات کے ساتھ جیتے جیتے مزید بور بن جاتے ہیں۔ثمینہ نے اکتاتے ہوئے لہجہ میں کہا۔
“اچھا کس وقت کی بات کر رہی ہو تم ۔وقت ہے ہی کہاں ہمارے پاس ۔ہر گزرتا لمحہ ہمیں ہمارے انجام کی جانب لے جا رہا ہے اور ہم چاہے جتنے لبرل ہو جائیں سونا تو مٹی کے اندر دو گز زمین کے نیچے ہے اور جنت ہے تو دوزخ بھی ہے اور اعمال کی بنیاد پر فیصلے ہونے ہیں۔جس طرح سال بھرپڑھائی کر کے امتحانات کی تیاری کیجاتی ہے اور پاس ہونے پر خوشی اور فیل ہونے پر غم ،دکھ ظاہر کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہ دنیا بھی امتحان ہے اور یہ تو کوئی بچہ بھی بتا دےگا کہ ہماری کوشش اور محنت پاس ہونے کے لئے کی جاتی ہے فیل ہونے کے تو تصور سے بھی ڈرتے ہیں ۔تو دنیوی امتحان کی اتنی تیاری اور آخرت کی کوئی پرواہ نہیں ہے “۔علینہ نے پھر تحمل سے اپنی بات ثمینہ کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
“علینہ تم بات کو کہاں سے کہاں لے گئی ۔میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ وہ لڑکا تمہارے بغیر مر جائے گا “۔ثمینہ نے پھر سے علی کا ذکر کیا۔
“کیا خوب کہا تم نے آج کا زمانہ وہ جہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے اور اولادیں والدین کی نہیں رہی اس زمانے میں کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا۔یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اور مان بھی لوں کہ وہ مر جائے گا تو تم بتاؤ جو کل ملی لڑکی کے لئے اپنی جان دے سکتا ہے جب کہ یہ جان اس کی ہے نہ اس کے پاس اسے لینے کا اختیار ہے ۔اور جو والدین کی پرواہ نہ کرے اور ایک لڑکی کے عشق میں زندگی جیسی نعمت کو ختم کرے تو اس سے زیادہ بے اعتبار تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا یہ بھی ہم لڑکیوں کے دماغ کا خناس ہے کہ جو ہمارے لئے جان دے گا وہ ہمیں سچا پیار کرتا ہے اس انسان نے اس ماں سے پیار نہیں کیا جس کے ساتھ اس نے زندگی کے ٢٥ برس گزارے، تو ہم سے کیسے کرے گا ۔محبت کی بنیاد صرف اور صرف عزت پر رکھی جا سکتی ہے اور جو عزت کرے گا وہ اشتہار نہیں لگائے گا بلکہ عزت سے ہاتھ مانگے گا ۔تمہارے اس علی نے تو پورے کالج میں مجھے بدنام کیا ہوا ہے اور لڑکی کی عزت تو کانچ جیسی ہوتی ہے ایک بار تھوڑا سا بھی بال آ گیا تو کبھی دوبارہ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا۔اور پلیز کہہ دو اس نام نہاد عاشق سے ہم لڑکیاں اپنے والدین کے سر کا تاج ہوتی ہیں اور اتنی سستی نہیں ہوتی کہ سوسائٹی کے ساتھ چلنے یا موڈرنزم کے نام پر اپنی نسوانیت کو رسوا کریں۔”
علینہ بات ختم کرتے ہوئے کینٹین سے باہر جانے لگی۔
ثمینہ کے پاس اسے روکنے کا کوئی جواز تھا نہ اپنی بات کو منوانے کی کوئی پختہ دلیل تھی ۔کیونکہ ثمینہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ علینہ غلط نہیں کہہ رہی ہے اور اس کے ہر ایک لفظ میں سچائی ہے لیکن ماننا نہیں چاہتی تھی کیونکہ ثمینہ حق کا نہیں باطل کا ساتھ دے کر نئے زمانے کے نئے طریقوں پر چل کر موڈرنزم کی مثال بننا چاہتی تھی ۔
افسانہ نگار :۔گل گلشن
ممبئی
