جو کچھ نہ بن سکا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ 112

مختصر کہانی……….دودوست

تحریر:ڈاکٹر نذیر مشتاق

۔۔۔۔۔۔۔۔بھاسکر ڈانڈیا چودہ سال بعد جیل سے نکل کر سیدھا انوپ کمار کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔وہ اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا کیونکہ اسی کی وجہ سے اسے بیس سال کی سزا ملی تھی۔۔۔ہوا یوں تھا کہ اس بستی میں جہاں وہ دونوں رہتے تھے اور ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ایک روز ایک غنڑے نے سر راہ ایک عورت کی بےحرمتی کرنا چاہی تو بھاسکر جو عورت زات کی دل وجان سے عزت اور قدر کرتا تھا نے اسے کے ساتھ ٹکر لی ۔۔۔۔دونوں دیر تک لڑتے رہے آخر غنڑے نے اپنے بچاؤ کے لیے ایک تیز دھار والی چھری نکالی لیکن وہ بھاسکر کے ہاتھوں مارا گیا۔۔۔۔۔۔پولیس آگی لیکن بستی کے کسی فرد نے بھاسکر کے خلاف گواہی نہیں دی مگر اس کا دوست انوپ جو سچ بولنے میں ‌مشہہور تھا پولیس کے سامنے آیا اور بھاسکر کے خلاف گواہی دی۔۔۔۔اور اسے قتل کے جرم میں سزا ملی۔۔۔۔جیل میں وہ صرف اپنے دوست سے بدلہ لینے کے بارے میں منصوبے بناتا رہا۔۔۔۔۔۔اور آج وہ بدلہ لینے جارہا تھا
انوپ کمار کے گھر میں صرف ایک نوجوان خوبصورت لڑکی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔۔۔بھاسکر سمجھ گیا کہ وہ اس کے دشمن کی بیٹی ہے وہ اسے زبردستی اٹھا کر لے گیا اور ہمسایہ سے کہہ دیا کہ انوپ سے کہنا بھاسکر آیا تھا۔۔۔۔۔ انوپ اپنی بیٹی کو بچانے بھاسکر کے گھر گیا۔۔آو آو میں نے تمہاری بیٹی کا وہ حشر کیا ہے کہ تم دیکھ کر خود ہی مر جاؤ گے۔۔۔بھاسکر نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔کہاں ہے میری بیٹی کیا کیا تم نے اس کے ساتھ۔۔۔۔انوب نے گھبراتے ہویے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ زیادہ نہیں اس کا بلاتکار کیا اور۔اس کے ‌جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک بوری میں بند کر کے رکھ دیے اب اٹھا بوری کو اور کہیں کسی دریا میں پھینک دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوپ کے حلق سے چیخ نکل گئی اور اس نے روتے ہوئے کہا۔ ارے ظالم یہ تم نے کیا کیا وہ تمہاری اپنی بیٹی ہے۔۔۔۔۔جب‌تم جیل گیے تو میں تمہاری بیوی اور بیٹی کو اپنے گھر لایا تمہاری بیوی صرف دو ماہ بعدپرلوک سدھار گیی اور میں نے تمہاری بیٹی کی پرورش کی۔۔۔اور آج تم نے۔۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔۔۔۔۔۔اسی وقت اس کے کانوں میں بیٹی کے الفاظ گونجے۔۔۔۔باپو تم کب آیے میں کب سے تمارا انتطار کر رہی ہوں یہ انکل کتنے اچھے ہیں جب سے یہاں آی ہوں مٹھایاں اور میوے کھارہی ہوں کون ہے یہ انکل۔۔۔۔۔۔۔
دونوں دوست آنسو بھری آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں