محمد اشرف المسافر
ان کو میرا ملال ہے شاید
یہ بھی میرا خیال ہے شاید
موت گر مان لیں شکاری ہے
زندگی اس کا جال ہے شاید
ہم نے ہر موڑ مڑ کے یہ سمجھا
اس کے آگے وصال ہے شاید
جس سے کیجے وہ بے وفا نکلے
یہ بھی میرا کمال ہے شاید
آج کل وقت جس میں ہے مسافر
تیرے لفظوں کا جال ہے شاید
