جو کچھ نہ بن سکا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ 90

افسانہ……..اعتراف

افسانہ نگار:ڈاکتر نذیر مشتاق

شبانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پٹ بندکرنے چاہے کہ اس کی نظر حال ہی میں خوبصورتی اور ماہرانہ انداز سے شاخ تراشی کئے ہوئے سروکے درخت پر پڑی جو کھڑکی کے قریب یوں ایستادہ تھا جیسے کوئی حسین ‌عورت انگڑائی لیتے وقت ہوتی ہے۔ ایک شاخ پر تنہا چڑیا پھدک رہی تھی شبانہ نے اسے دیکھ کر سوچا۔ شاید بھوکی پیاسی ہے یا اپنے ساتھی کو تلاش کر رہی ہے یا پھر اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہی ہے۔۔اسی وقت چڑیا پھر سے اڑگئی۔۔۔۔شبانہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے کھڑکی بند کی کیوں کہ اب بارش شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پردے سرکائے اور آکر کمرے کے وسط میں اپنے شوہر شباب علی کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
چلو لاک ڈاؤن کا اتنا تو فایدہ ہوا کہ میں نے اپنے گھر اور گھر والی کو بیحد قریب سے دیکھا اور میری معلومات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔بیٹی اور بیٹے کے بارے میں زیادہ نہیں جان سکا کیونکہ کہ وہ یا تو اپنے اپنے کمروں میں پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں یا گھر سے باہر ہوتے ہیں مگر تمہارے متعلق کافی جانکاری حاصل ہوئی۔۔۔شباب علی نےسامنے بیٹھی بیوی سے کہا اس کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔کیا جانکاری حاصل ہوئی آپ کو۔۔۔۔
شباب علی نے میز پر سے وینسٹن سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر میوزیکل لایٹر سے سلگایا۔ دھواں تتھنوں سے خارج کرتے ہوئے بیوی کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے یہ کہ تم بہت خوبصورت ہو یہ گھر تم نے انتہائی خوبصورتی سے سجایا اور maintainکیا ہے اس گھر میں کوئی بھی چیز اضافی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز کم ہے یہ گھر جنت کا نمونہ ہے۔ اور پھر میں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ ایک گھریلو عورت پر ذمہ داریوں کا کتنا بڑا اور بھاری بوجھ ہوتا ہے تم اتنے برسوں سے اکیلی کتنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو اس کا اندازہ مجھے اب ہوا۔
تم نے تن تنہا گھر سنبھالا بچوں کی پرورش کی انہیں پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ ماجد انجینئرنگ کے میدان میں ہے اور مریم ڈاکٹری کی تربیت حاصل کر رہی ہے۔یہ میرے لیے فخر کی بات ہے مگر میرا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔۔۔۔۔۔شباب علی نے دوسرا سگریٹ سلگایا دریں اثنا شبانہ نے ایک ڈرائی فروٹ باؤل میز پر لاکے رکھدیا ۔شباب علی نے ایک بادام چباتے ہوئے کہا۔۔۔آج مجھے تم پر بہت پیار آ رہا ہے اور مجھے تم پرفخر ہے کہ تم ‌نے اتنے برس سارا بوجھ تنہا اٹھایا میں شرمندگی کے بوجھ تلے دبا جارہا ہوں کہ میں تم سے گھر سے اور بچوں سے غافل رہا۔۔۔آج میں تمہارے سامنے اعتراف confession کرنا چاہتا ہوں۔ جیسے انگریزی فلموں میں ایک گناہ گار چرچ میں پادری کے سامنے کرتا ہے دیکھا ہے ایسا کوئی سین کسی فلم میں۔۔۔۔شباب علی نے جھک کر بیوی سے پوچھا۔۔۔ جواب میں شبانہ نے ایک بادام منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ مجھے انگریزی فلمیں پسند نہیں اور اگر کبھی دیکھوں بھی میرے پلے کچھ نہیں پڑتا ہے۔
شباب علی ہنس پڑا۔۔۔بہر حال آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے تم سے کبھی پیار کیا ہی نہیں۔۔۔۔۔ہم دونوں کے درمیان کوئی اور حایل تھی۔۔۔۔۔۔شبانہ کے چہرے پر کوئی خاص تاثر پیدا نہیں ہوا وہ خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ تمہارے ساتھ میری شادی میرے والدین کی مرضی کے مطابق ہوئی۔میں کسی اور کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا مگر ہم دونوں کے درمیان ذات پات کی دیوار کھڑی ہوگئی میری ماں نے اعتراض کیا کہ وہ لڑکی ایک نیچ خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی دادی گاوں میں ایک دایہ کا کام کرتی تھی۔۔۔۔لڑکی‌بہت خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی یونیورسٹی میں میرے ساتھ بڑھتی تھی گولڑ میڈلسٹ تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹوٹ ٹوٹ کر پیار کرتے تھے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں کھائیں تھیں ہماری محبت شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ تھی ہم نے کبھی ایک دوسرے کو چھوا تک نہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں گھر والوں کے سامنے گڑگڑایا رویا میں نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے اس طرح ضد کی جس طرح ایک ضدی بچہ اپنے من پسند کھلونے کے لیےضد کرتا ہے مگر ان کے دلوں پر کوئی بھی اثر نہیں ہوا اور پھر ماں نے مجھے ممتا کا واسطہ دے کر تم سے شادی کرنے کے لئے راضی کیا۔۔میں نے شادی سے پہلے تمہاری تصویر بھی نہیں دیکھی۔اور نہ شادی کے بعد کبھی تمہارا ہو سکا جب بھی میں تمہارے قریب ہوتا بیچ میں وہ آجاتی۔۔۔۔۔اوہ میں نے اس‌کا نام نہیں بتایا۔۔۔شباب علی نے ایک اور سگریٹ سلگایا اور کھڑا ہوکر دیوار کی طرف گیا اور پھر واپس آکر اپنی جگہ بیٹھ کر شبانہ کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔اس کا نام تھا معصومہ تبسم ۔۔۔۔سچ مچ وہ معصوم تھی اور اس کے لبوں پر ہر وقت تبسم ہوتا تھا اس کی مسکراہٹ بہت دلفریب تھی وہ جب ہنستی تو جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بجلی سی چمک جاتی۔۔۔۔شبانہ نے۔مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور شباب علی نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔۔۔۔ چند لمحے خاموشی چھائی رہی پھر اس نے سگریٹ کا زور دار کش لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
میں تمہارا گناہ گار ہوں میں نے کبھی بھی تمہیں جی بھر کر دیکھا نہیں۔ بچے ماں کی مرضی کے مطابق ہوئے ۔وہ بار بار زیارتِ گاہوں اور پیر فقیروں کے پناہ گاہوں پر حاضری دیتے دیتے تھک چکی تھی اس لیے میں نے اس کی خوشی کے لیے۔۔۔۔۔۔ بہرحال وہ میری نادانی تھی در اصل میں ہر وقت تم سے دور رہنا چاہتا تھا اسی لیے میں نے اپنا تبادلہ یہاںسے بہت دور کروایا تاکہ میں تم سے بہت کم ملتا رہوں۔۔۔۔۔۔‌شبانہ نے صوفے پر ‌پہلو بدلا اور ڈرائی فروٹ باؤل میں سے دو تین کاجو اٹھا لیے ایک منہ میں ڈالا اور باقی دو کے ساتھ دایں ہاتھ کی انگلیوںسے کھیلنے لگی۔۔۔۔۔اور پھر مسکراتے ہوئے شوہر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ بڑی دلچسپ ہے آپ کی کہانی۔۔مگر آج اچانک ‌اعتراف کیوں۔۔۔۔۔۔
شباب علی نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کسی نہ کسی وجہ سے اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتاہے۔ آج میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اب‌ تم مجھے معاف کرو یا نہیں تمہاری مرضی۔۔۔۔۔۔۔۔
شبانہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے کے کونے میں رکھی ہوی الماری کھولی اور ایک خوبصورت ڈبہ نکال کر اسے کھولا اس میں سے ایک لفافہ نکالا ڈبہ دوبارہ الماری میں رکھا اور لفافہ ہاتھ میں لے کر شوہر کی طرف بڑھی اور لفافہ اسے تھماتے ہوئے کہا۔ اس لفافہ میں ایک تحریر ہے آپ اسے غور سے پڑھیں میں تب تک کچن میں جاکر چائے بناتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف چلی گئی اور شباب علی نے لفافہ میں سے کاغذ نکالا۔
لکھا تھا۔۔۔۔۔۔میرے سر تاج میرے مجازی خدا میرے شریک حیات۔میری سانسوں میں بسنے والے۔۔ آج میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں کئی بار کوشش کی مگر آپ کے سامنے لبوں کو جنبش نہ دے سکی۔۔پھر سوچا کہ اس خط کو وسیلہ بناکر اپنے دل کی بات آپ تک پہنچا دوں۔
بات دراصل یہ ہے کہ جب سے ہم شادی کے مقدس بندھن میں بندھ گئے میں نے ہر پل ہر لمحہ یہ محسوس کیا کہآپ میرے پاس رہ کر بھی میرے پاس نہیں ہوتے ہیں۔ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان کوئی تیسرا کھڑا ہے میں اسے بھگانا چاہتی ہوں مگر آپ اسے زور سے تھام لیتے ہیں ۔سہاگ کی رات کو ہی مجھے احساس ہوا کہ آپ میرے نہیں کسی اور کے ہیں۔ میں سونگھ سکتی ہوں کہ کوئی اور آپ کی روح میں موجود ہے۔ایک بیوی اپنے شوہر کو سونگھ کر بتا سکتی ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس کیساتھ وقت گزار کے آیا ہے ایک مزے کی بات بتاؤں میری ایک سہیلی نے ایک دن مجھ سے کہا۔ کتے میں سونگھنے کی طاقت انسانوں کے مقابلے میں چالیس گنا زیادہ ہوتی ہے اسی طرح عورتوں میں بھی سونگھنے کی طاقت مردوں کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ مرد سوچتے زیادہ اور سمجھتے بہت کم ہیں جبکہ عورت ذات اس کے بر عکس ہوتی ہے میں اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں کہ آپ کسی اور کے ہیں مگر میں دل وجان سے آپ کی ہوں اور آپ کی رہوں گی۔
مجھے بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ شریک حیات کا ‌درجہ کیا ہوتا ہے مجھے سکھایا گیا ہے کہ ہر حال میں اپنے شریک حیات کی فرمانبرداری کروں اسے ہر حال میں خوش رکھوں کبھی اس کے سامنے زبان درازی نہ کروں اس لیے میں اپنا ‌فرض بڑی خوش اسلوبی سے نبھارہی ہوں اور آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی مجھے نہیں معلوم کہ آپ کب تک کسی اور کے خیالوں میں ‌زندگی‌بسر کرتے رہیں گے اور کب وہ لمحہ آئیے گا جب ‌آپ صرف میرے ہوں گے صرف میرے۔ میں انتظار کروں گی۔۔اور اگر کبھی وہ دن آیا جب آپ اعتراف کریں گے کہ آپ کسی اور کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو میں یہ خط آپ کو دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خط پڑھ کر شباب علی کا چہرہ انگاروں کی طرح دہکنے لگا اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اس پر ‌ایک عجیب سی اضطراری کیفیت طاری ہوئی۔اس نے خط کے اختتام پر لکھی ہوئی تاریخ دیکھی اور زیر لب بڑبڑاتے ہوئے حساب لگاکر اپنے آپ سے کہا۔۔۔۔اکیس سال۔۔۔۔۔۔۔او مائی گاڈ۔۔۔ اکیس سال پہلے۔۔۔اکیس سال۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا شبانہ چائے لے کر آرہی تھی شباب علی نے اسے غور سے دیکھا وہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی وہ اپنے آپ کو اس کےسامنےبہت چھوٹا اور کمزور محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
����
تحریر ۔ڈاکٹر نزیر مشتاق ہمدانیہ کالونی بمنہ
ندا منزل سیکٹر بی 9419004094

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں