افسانہ نگار :- اے ۔ ایچ ۔ زاہد شیخ پورہ ہرل
وہ صبح نو بجے بستر سے اُ ٹھ کر بنا منہ ہاتھ دھوئے اپنے صحن میں چہل قدمی کرنے لگا کہ اسی اثناء میں لال رنگ کا کُتا دوڑتے دوڑتے اس کے کہڑوں کو چھوتے ہوئے تھوڑا آگے چل کر پیچھے مڈکر دیکھنے لگا۔ اُس کی آنکھیں غصے سے لال ہوئی اور وہ آگ بگولا ہوگیا۔ بڑے ہی غضبناک انداز میں وہ کتے پر ٹوٹ پڑا۔
“شرم نہیں آتی ھے تجھے میرے کپڑے خراب کر دیے۔ تین ہزار کا سوٹ ھے یہ ۔ دو سو روپے لگتے ہیں دھونے میں اور پھر استری۔۔ عطر اور خوشبو کا کچھ مت پوچھیے۔گندا ھے تو میرے کپڑے بھی گندے کردیئے ۔ نجس ھے تو ۔احساس نہیں ھے تجھے میرا سوٹ خراب کردیا۔ دفا جا یہاں سے۔پروردگا نے تجھے تیرے کرتوت کی وجہ سے نجس بنا دیا ھے۔تیرے اوقات ہی ایسے ہیں۔ یاد رکھنا دوبارہ ایسی حرکت کی تو اُسی وقت تیرا سر جسم سے الگ کر دونگا”۔
کُتا ابن آدم کا غضبناک رویہ دیکھ کر رنجیدہ ہوا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو کی دھا ٹپکنے لگی اور وہ دیمی آواز میں ابن آدم کی دم ہلاتے ہلاتے مخاطب ہوا۔
“اے ابن آدم اس بات میں کوئی شق نہیں کہ میں نجس ہوں کیونکہ مجھ میں کچھ عیوب ہیں۔ آو میں تجھے بتاتا ہوں کہ کن خصائل کی بنیاد پر مجھے نجس کہا گیا ھے۔اے ابن آدم میں سارہ رات جاگتا رہتا ہوں بھونکتا رہتا ہوں لیکن صبح آتے ہی جب اللہ کی رحمتوں کا وقت نزول شروع ہوجاتا ھے تو میں اوندھے پڑ کر سو جاتا ہوں۔
اے ابن آدمد میں اپنے ہم جنس کو دیکھ کر ہمیشہ بھونکتا ہوں اس پر ضد حسد بغض اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہوں جب کہ باقی مخلوق کو دیکھ کر میں دُم ہلاتا ہوں ۔
اے ابن آدم میں اپنے رب کا احسان فراموش ہوں۔ میں ہمیشہ غذائی ضرورت پورا کرنے کے بعد بچی کھچی غزا زمین میں گڑھا کھد کر اس میں دفن کرتا ہوں تاکہ وہ کسی اور کے کام نہ آیے۔
اے ابن آدم انہی خصائل کی وجہ سے میں نجس ہوں اور خدا کی ساری مخلوق مجھے نفرت کی نظروں سے دیکھتی ہیں ۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سارے خصائل اور عیوب تم میں بھی تو موجود ہیں۔ خدارا اب خود ہی فیصلہ کیجیے اگر میں نجس ہوں تو پھر تم کیا ہو؟
ابن آدم سوچنے پر مجبور ہوا اور وہ آب آب ہوا۔
warashaq201@gmail.com
9906612644
