افسانہ..........یہی سچ ہے 96

افسانہ……….یہی سچ ہے

افسانہ نگار: ڈاکٹر نذیر مشتاق

 

ہزار بار کہا ہے ،آج پھر کہوں گا ،،ا س دنیا میں کوئی کسی کا نہیں ہے! کوئی کسی سے ‌پیار نہیں کرتا ہے ،ہر کوئی صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے اور خود سے پیار کرتا ہے یقین نہ آیے تو کل ایک تماشہ دکھاوں گا خود سمجھ جاؤگے۔۔۔۔۔! مگر تم تو قلمکار ہو تم تو یہی کہو گے کہ پیار محبت ہی سب کچھ ہے مگر میں نہیں مانتا میں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اس کے کئی روپ دیکھے ہیں جانے کیوں آج میں اپنی زندگی کے بارے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ، شاید تمہیں یاد نہ ہو مگر میں کیسے وہ دن بھول سکتا ہوں جب اسکول ماسٹر نے چار ماہ کی فیس ادا نہ کرنے کے جرم میں مجھے کلاس سے گھسیٹ کر یوں باہر پھینک دیا جیسے کچرا باہر پھینکا جاتا ہے میں کلاس روم کے باہر زاروقطار رو رہا تھا میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر بھگوان کو ڈھونڈ رہا تھا تاکہ اس سے شکوہ کروں کہ ماسٹر نے مجھے کلاس روم سے باہر کیوں پھینک دیا مگر بھگوان کہیں نظر نہیں آیا ،، آسمان پر صرف ابر کے بڑے بڑے ٹکڑے نظر آئے میں ٹکٹکی باندھے ان کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک بادل گرجے اور بجلی چمکی میں سہم گیا اور جلدی سے اٹھ کر گھر کی طرف دوڑنے لگا جب میں گھر پہنچا تو میں پوری طرح بھیگ چکا تھا میری چچی نے جب مجھے دیکھا تو اس نے میرے کان مروڑے اور مجھ پر گالیوں اور بددعاوں کی بوچھاڑ کی اس نے مجھے دھکے دے کر گھر سے باہر نکالا اور میرے کمرے سے میرے کپڑے لاکر میری طرف اچھالے اور کہا،، لے مردود، حرام خور باہر کپڑے بدل پھر اندر آ…..،،میں کپڑے بدل رہا تھا کہ میرا چچا آیا مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا۔۔۔،،ارے ارے اتنی بارش اور سردی میں تم باہر کیوں ہو چلو اندر۔۔۔اور اندر لے جاکر مجھ سے پوچھا سکول نہیں گئے تھے ؟میں نے اسکول میں پیش آیا ماجرا سنایا تو انہوں نے کہا کوئی بات ‌نہیں کل فیس ادا کریں گے ،چچی یہ سن کرزخمی شیرنی کی طرح بپھر گئی _،،ہاں ہاں ہمارے پاس راجہ ہرش چندر کا خزانہ جو ہے اسی میں سے کچھ رقم نکال نکال کر اس مردود کو پڑھائیں گے اور پھر اس کی شادی کریں گے……! ارے میں کب سے کہہ رہی ہوں کہ اسے کسی کام دھندے میں لگادو کچھ کمائے گا اور کھائے گا مفت کی روٹیاں کب تک توڑے گا،،چچا سر جھکائے سب کچھ سن رہا تھا اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ، وہ بیوی کے سامنے بید مجنوں کی طرح لرزتا تھا مجھے اس وقت اپنے ماں باپ کی بہت یاد آئی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے….! میری ماں بہت بیمار رہتی تھی ایک دن میرا باپ اسے‌اسپتال لے گیا جانے سے پہلے اس نے گھر کو مقفل کرکے چابی چچی کے حوالے کردی وہ ہمارے گھر کے بالکل ساتھ میں رہتے تھے میری ماں نے چچی سے کہا۔۔۔ ،، بہن اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بھگوان بیٹے کا ‌خیال رکھنا………،،میری بد قسمتی کہ وہ بس جس میں میرے ماں باپ سوار تھے ایک دریا میں گرگئی اور سارے مسافر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔۔اس دن کے بعد میں ‌چچی کے پاس رہنے لگا مگر اس نے مجھے کبھی ماں ‌کا پیار نہیں دیا الٹا ہمیشہ مجھے گالیوں اور بد دعاؤں سے نوازا،،میں رو رہا تھا اور وہ میاں بیوی کچن میں چائے پی رہے تھے۔۔۔۔جانے مجھے کیا ہوا کہ میں اچانک اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر کی طرف چل دیا،۔
بارش تھم چکی تھی اور سورج بادلوں کو روندتا ہوا آسمان کے درمیان میں آچکا تھا ،میں سڑک پر انجان منزل کی طرف چل پڑا ……!! مجھے بھوک لگی تھی مگر میری جیب خالی تھی ،میں چلتا رہا مجھے لگا کہ سورج بھی میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ،،ایک‌جگہ میں تھک ہار کر بجلی کے کھمبے سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا،،جب‌مجھے ہوش آیا تو میں نے خود کو ایک چارپائی پر پڑا ہوا پایا اور میرے سامنے ایک ادھیڑ عمر کا گنجا آدمی کھڑا تھا اس نے مجھےچارپائی سے اٹھنے سے منع کیا، لیٹے رہو لیٹے رہو…! تم ادھر بجلی کے کھمبے کے پاس بیہوش پڑا تھا ہم تم کو ادھر لایا مین، تم ایسا ہی رہو ہم تمہارے لیے دودھ اور روٹی لاتا ہے…!
اس‌طرح میں ایڈولف کے چھوٹے سے گیراج میں پہنچ کر اس کا شاگرد بن گیا،اس نے میری کہانی سن کر کہا آج سے تم اپن کا سن ہے اب تم ادھر اپن کے ساتھ رہے گا،۔میں نے اس سے میکانیکی کا کام سیکھا اس نے مجھے سب کچھ سکھایا۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔اس کی بیوی کینسر میں مبتلا ہو کر مر چکی تھی۔۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی جو دن بھر گراج کے پیچھے ایک کمرے ‌میں رہتی تھی اور ہمارے لیے کھانا پکاتی تھی میں گراج میں چارپائی پر سوتا تھا اور وہ خود بیٹی کے ساتھ والے کمرے میں سوتا تھا ،،اس کی بیٹی جینی بہت خوبصورت اور ذ ہین تھی وہ اکثر اوقات اپنے باپ کو مشورے دیتی اور اس کے ‌مشوروں پر عمل بھی کیا جاتا۔ایڈولف شراب بہت پیتا تھا، ایک دن وہ جگر کے کینسر میں مبتلا ہو کر چل بسا اس نے مرتے وقت مجھ سے وعدہ لیا کہ میں جینی سے شادی کرلوں اور پھر میں نے اپنا وعدہ نبھایا ،پھر ہم دونوں نے مل کر گیراج کا کام سنبھالا اور برسوں دن رات کام کرتے رہے ،،
اس طرح میں ‌ایک معمولی ‌موٹر میکانیک ‌سے ایک بہت بڑی کار بنانے والی ‌کمپنی کا ‌مالک بن ‌گیا آج میں ایک ارب ‌پتی‌ہوں کاش میری جینی زندہ ہوتی ؟؟؟ میری فیملی چار پیڑیوں ‌پر مشتمل اب کتنی ‌بڑی ہے یہ تم ‌جانتے ہو ‌میری حویلی اس شہر کی سب سے بڑی اور عالیشان حویلی ہے اس میں کتنے لوگ رہتے ہیں مجھے خود بھی نہیں معلوم۔ مگر وہ سب لوگ مجھے بھگوان سمجھتے ہیں ہر صبح ‌میری فیملی کے سارے افراد ‌نوکر چاکر ملازم مہمان وغیرہ مجھے ‌مندر‌میں بٹھا کر قسم قسم ‌کے پھولوں کی مالایں پہناتے ہیں اور میری پوجا کرتے ہیں۔میرے پاؤں دھوئے جاتے ہیں اور وہ پانی پوجا میں حصہ لینے والے امرت سمجھ کر ‌پیتے ہیں مطلب ‌میں ان کا بھگوان ہوں۔ مگر مجھے معلوم ہے وہ مجھ سے نہیں اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں، مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا ہے سب میری دولت سے پیار کرتے ہیں، میری زات سے میری روح سے کوئی پیار نہیں کرتا ہے سبھوں کو اپنی پڑی ہے ا ور ہر کوئی صرف اپنی زندگی سے پیار کرتا ہے۔ ثبوت کے لئے کل تم یہ لفافہ لے کر اس وقت آنا جب پوجا اپنے عروج پر ہو تم یہ لفافہ میرے سب سے بڑے بیٹے راجن کو دے کر اس سے کہنا کہ لفافہ کھول کر اس کے اندر کاغذ پر لکھی عبارت کو بلند آواز میں ‌پڑھے _،،بھگوان داس نے اپنے دوست سے کہا
میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں۔ اس کے دوست عبد اللہنے بھنویں تانتے ہوئے کہا،، وہ سب تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ کبھی تم سے بیوفائی نہیں کریں گےوہ تمہیں سچ مچ بھگوان کا درجہ دیتے ہیں۔ تم ان کے بھگوان ہو عبدالللہ نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا،، ھگوان داس نے دوست کی بات کاٹتے ہوئے کہا _،، میرے دوست. ! وقت آنے پر لوگ بھگوان کو بھی بھول جاتے ہیں ،وہ صرف اپنی کامنا پوری ہونے تک اُسے پرساد چڑھاتے ہیں، اور پھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں……!
وہ سب میری زات سے نہیں بلکہ‌میرے ظاہر سے پیار کرتے ہیں ان‌سب کو ‌میری بے شمار ‌دولت کا پوری طرح اندازہ ہے اگر کل کو میں دیوالیہ پن کا شکار ہوا تو میں بھگوان سے بھکاری بن جاؤں گا کوئی میری پوجا نہیں کرے گا ……! اس دُنیا میں ہر کوئی صرف اپنی زات سے پیار کرتا ہے ………،، بھگوان داس نے اپنے دوست کی بات کا جواب دیا ،میں نہیں مانتا،، دنیا میں پیار محبت ہی سب کچھ ہے ‌اور‌انسان ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں عبداللہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا،
انسان صرف اپنے آپ سے پیار کرتا ہے صرف اپنے آپ سے۔۔۔۔۔۔! کل آجانا ‌اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا بھگوان داس نے جاتے جاتے کہا۔۔۔
دوسری صُبح جب ‌بھگوان داس گھر کے وسیع وعریض مندر میں پھولوں کی مالایں پہنے بیٹھا تھا اور اس کے سینکڑوں بھگت اس کے آس پاس کھڑے پوجا کر رہے تھے تو عبداللہ آیا اور لفافہ راجن کو دیتے ہوئے کہا ……،، بیٹا اسے ‌کھولو اور اسمیں جو ‌کاغذ ہے اس پر لکھی عبارت کو بہ آواز بلند پڑھو یہ تمہارے پتا جی کا حکم ہے،،
راجن نے لفافہ کھولا اور کاغذ ہاتھ میں لے کر عبارت کو زور زور سے پڑھنے لگا،، بھگوان داس ………عمر نوے سال…… کووڈ پپ پ ا پا زی ٹیو۔۔؟ اتنا سن کر وہ ‌پوجا کے ‌کمرے سے تیزی سے بھاگا اور اس کے پیچھے ہر کوئی کمرے سے یوں غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔! اب‌مندر میں بھگوان داس کے سامنے صرف اس کا دوست عبداللہ کھڑا تھا اور بھگوان داس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا ۔۔۔۔۔،، یہی سچ ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
جس کا جواب عبداللہ نے اثبات میں سر ‌کی‌جنبش سے دیا۔۔۔۔۔،،
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں