مجھے تم معاف کر دینا
سبزار احمد بٹ۔۔۔اویل نورآباد
مجھے تم معاف کر دینا
تری خدمت فرض مجھ پر
تیرے کتنے قرض مجھ پر
تمہی نے مجھکو پالا ہے
مصیبت میں سنبھالا ہے
میری انگلی پکڑ کر ہی
مجھے چلنا سکھایا ہے
مجھے راتوں کی سردی سے
مجھے سورج کی گرمی سے
خدا کے بعد تم نے ہی
سہارا مجھکو دے ڈالا
تیرے پیروں تلے جنت
مجھے انکار کب اس سے
یہ سب کچھ جانتا ہوں میں
خدا کو مانتا ہوں میں
مجھے بھی شوق ہے خدمت
کروں میں رات دن تیری
مگر اک مسئلہ ہے یہ!!!
مگر اک مسئلہ ہے یہ !!!
بسیرا ہے میرا دوزخ نما
اس ایک وادی میں
جہاں ماؤں سے بیٹے چھین
کر لےجاتے ہیں اکثر
کسی انجان نگری میں
کسی فرضی تصادم میں
انہیں دشمن جتا کر دیش کا
چھلنی بناتے ہیں
اگر میں بھی جوان ہو کر کسی
فرضی تصادم میں
جو مارا جاؤں تو
شکوہ نہیں کرنا مقدر سے
تیرے جو فرض ہیں مجھ پر
رہیں گے قرض وہ مجھ پر
مجھے تم معاف کر دینا
