106

دیو قامت

افسانہ نگار:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رافعہ ولی۔۔۔سوپور

پھرہوا یوں کہ چاند نے اپنی نرمی کھو دی۔ سورج اپنی گرمی سے محروم ہوا، بارشوں کا ردھم بدل گیا، تاروں کی چمک مانند پڑ گئی، پہاڑ سرکنےلگے ،وہ اپنی قامت سے خود ڑر گئے،دریاوں نے رخ بدل دیا، ندیوں نے بل کھانا چھوڑ دیا، گویا زیست زیست نہیں کسی عذاب کا صلہ ہو گئی۔ ایسے میں تم پر کیا گزری ہوگی۔ ”شاہد“ نے اپنی کہہ کر میری سننے کیلئے اپنی پوری آمادگی ظاہر کی، اور میں سوچ رہی تھی کیا کہوں، مجھ پر تو جو بھی گزری بے خبری میں ہی گزری۔ میں نے تو چاند کی نرمی، سورج کی گرمی، بارش کا ردھم تو محسوس ہی نہ کیا تھا اور جس چیز کو نہ دیکھا ،نہ محسوس کیا اس کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق ہی نہیں پڑتا۔ مگر پہاڑ کی قامت کا تومجھے اندازہ تھا، صبح صادق اور شام کی شفق کے وقت میرے گھر کے برآمدے میں جو پہاڑ نظر آتے تھے ان کی قامت سے تو میں پہلے دن سے ہی ہراساں تھی پر ”شاہد“ سے کیا کہتی اس کا کہنا یہی تھا تم اپنی یہ حد سےزیادہ حساسیت کی عینک اتار تو دیکھو۔ پہاڑ کی قامت تم کو قوت کا احساس دے گی۔”شاہد“ میرا ماں جائی تھا لیکن میرے لیے وہ دوست زیاده تھا۔ ہماری عمروں میں پانچ سال کا فرق تھا لیکن یہ فرق ہماری ماں نے یہ کہہ کر مٹا دیا کہ تم اور ”شاہد“ بہن بھائی بھی ہو اور ایک دوسرے کے دوست بھی،اپنے دکھ سکھ ایک دوسرے سے بانٹوگے تو ایک دوسرے کا سینہ تم لوگوں کے لیے رازوں کا مدفن ہو گا۔ ورنہ باہر کہیں بھی کوئی بھی دوست تو ملے گا مگر وہ تم لوگوں کے لیے مدفن نہیں ہو سکتا۔
سو ہم نے ماں کی یہ بات گانٹھ باندھ لی۔ یہ دوستی ہم بھائی بہن نےایسی نبھائی کہ ”شاہد“ نے میری شادی بھی اپنے پسند کے لڑکے سے کر دی۔ ”فہد“ کے متعلق ”شاہد“ نے یہی کہا کہ اس سے بہتر انسان تمہیں نہیں ملے گا۔ یہ بندہ مساوات کا قائل ہے ،شریف النفس بھی ہے۔اور میں نے گیارہ سالہ شادی شدہ زندگی میں ”فہد“ کو ایسا ہی پایا وہ سچ مچ مساوات کا قائل شخص، ذات پات سے پرے،مجھ سے بندھ گیا۔وہ بغیرصلےاورمعاوضے کےمجھے تعليم کے اعلٰی مراحل تک لے گیا۔ تا کہ میں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی رہ سکوں۔ وہ سچ مچ شریف النفس انسان ثابت ہوا جس نے کبھی کوئی نازیبا الفاط میرے لیے استعمال نهیں کیا۔ لیکن ہوا یوں کہ اس کے برآمدے میں جو ستون تھا، یہ ستون تھا تو ایک، لیکن اس ستون کو مضبوطی دینے کے لیے دو اور ستون عارضی طورپر براجمان تھے۔ تینوں ستونوں کے بیج ایک رسّی تھی اور اس رسّی پر میرے اور ”فہد“ کے جامے لٹک رہے ہوتے۔ کبھی یہ ستون جب مستی میں ہوا کے دوش پر رسّی کو ہلا دیتے ایسے میں کئی بار میرے جامے اس رسی سے گر کر کبھی کیچڑ میں لت پت ہو جاتے تو کبھی کسی اور آنگن میں اڑ کر پہنچ جاتے۔ ”فہد“ نے کئی بار یہ چاہا کہ تینوں ستونوں کے ساتھ رسّی کو کَس کر باندھ لیں، پر اس کے لیے ہر بار اس کو رسّی کو ہی کانٹ چھانٹ کر گانٹھ لگانے کے لیے زور لگانا پڑتا۔ کیونکہ ستون اتنےمضبوط اور تگڑے تھے۔ انکی کانٹھ چھانٹھ کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ایسے میں رسّی کانٹھ چانٹھ سے آدھی رہ گئی۔جس پر چند جامے ہی ڈالنے پڑتے میرے ماں جائی ”شاہد“ ہر بار سردیوں میں دہلی گھومنے جاتے۔ تو میرے پاس حسبِ معمول میرےبچوںکی فرمائشیںنوٹ کرنے آجاتے۔ اب مجھ سے زیادہ میرے بچےاس کے آنے کا انتظار کرتے تھے۔ ان کو ماموں سےزیادہ ماموں کی لائی ہوئی چیزوں کا انتظار رہتا۔ اس بار ”شاہد“ آیا تو دہلی کی ۔
نت نئی چیزیں تو نہیں۔ البتہ نت نئے مسائل لایا وہ جب میرے گھر مجھ سے ملنے آیا تو کہنے لگا اب تو سب کچھ بدل جائے گا اب وہ بھی اچھوت ہو گا جو پہاڑ جیسی قامت رکھتے،سورج جیسی گرمی رکھتے، تاروں کی جھلملاہٹ والے بھی مانند پڑ جائیں گے۔ میں ”شاہد“ کی بات سمجھ نہ سکی۔ ہاں البتہ میں نے ”شاہد“ سے کہا میری تو ان تینوں ستونوں نے جو برآمدے میں ہے، زندگی اجیرن کر دی۔ ”شاہد“ نے کہا ”فہد“ سے کہو برآمدے میں اس کو ہٹوائیں۔ یا رسّی کے لئے الگ سے الگنی بنا دیں۔ پھر خود ہی کہنے لگا رہنے دو میں ”فہد“ کو اچھے سے جانتا ہوں۔ میں چلتا ہوں، وہ برآمدے میں دیو قامت ستونوں پر کئی بارہاتھ پھیرتے ہوئے نکل گیا۔بچے سورہے تھے ”شاہد“ نے ان کو اٹھانے نہیں دیا اور مجھ سے جاتے ہوئے کہنے لگا بچوں کا سامان میں لا نہ سکا کچھ مسئلہ ہو گیا تھا، پر مسئلہ نہ بتایا اگلے دن پولیس ”شاہد“ کو رات کے گیاره بجے اٹھا کر لے گئی یہ کہہ کر کہ دہلی کی وبا انکے ساتھ چمٹ کر آگئی ہے۔ اور صبح ہوتے ہی ”فہد“نے رسّی کو تینوں ستونوں سےالگ کرکےاپنے لگائے گئے کمھبےسے باندھ دیا۔ کیونکہ پچھلے تینوں پہاڈ جیسے ستون
”شاہد“ کے چھونے سےاب ۔۔۔”کورنٹاین“ ۔۔میں تھے۔
افسانہ نگار رافعہ ولی
سوپور
9797774276

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں