لیکھہا 141

کلام خاموش رفیق

روح اور جسم کی یہ پیوستگی
نہ رہنے والی ہے مغرور نہ ہو
آئیں گے شکن بھی دیکھ لینا
دیکھ کے آینہ مسرور نہ ہو
چال ڈھال جن کی ہے نرالی آج
وہ ادائوں پہ اپنی مخمور نہ ہو
بے تکلف جو بولے جارہے ہیں
جنبشِ زبان پہ بھرپور نہ ہو
لیا جنم ہم نے محبت کےلئے
خاموشؔ نفرتوں پہ معمور نہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں