روح اور جسم کی یہ پیوستگی
نہ رہنے والی ہے مغرور نہ ہو
آئیں گے شکن بھی دیکھ لینا
دیکھ کے آینہ مسرور نہ ہو
چال ڈھال جن کی ہے نرالی آج
وہ ادائوں پہ اپنی مخمور نہ ہو
بے تکلف جو بولے جارہے ہیں
جنبشِ زبان پہ بھرپور نہ ہو
لیا جنم ہم نے محبت کےلئے
خاموشؔ نفرتوں پہ معمور نہ ہو
141
