افسانہ     لــت 88

چوڑیوں کا تحفہافسانہ نگار: شائستہ مبارک بخاری

آروہ۔ بیروہ بڑگام

اس نےاپنی نازُک کلائیوں میں پہنی شیشے کی اُن چوڑیوں کو غور سے دیکھا جنہیں کلائیوں سے نہ اُتارنے کا وعدہ وہ خود سےاسی روزکر چکی تھی جس روز وہ چوڑیاں اپنا حُسن اور اپنا مطلب کھو چکی تھیں۔ محبت کے دم بھرنے والا معیز اُس کا منگیتر اُس حادثے کے بعد سارے بندھن توڑ کر شادی سے پہلے ہی اُسے ودھوا کر چکا تھا۔لیکن حفصہ نے ودھوا کا روپ نہ دھار کر خود کے لئے سجنے سنورنے اور جینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔انصاف کی اُمید ہی اُسکے جینے کا واحد سہارا تھی۔ لیکن اس شام وہ چوڑیاں بھی اُس پر خنجر برسا رہی تھی ۔اُس نے اپنے دونوں بازوں کو ایک چیخ کے ساتھ سیڑھیوں پر دے مارا اور ساری چوڑیاں چور چور ہوگئی۔۔
حفصہ جوانی کے بیس سال بيس انمول سال انصاف کے انتظار میں کاٹ چکی تھی لیکن انصاف کے جس در پر بهی اُس نے دستک دی ہر بار ناانصافی نے در کھولا۔اُس روز اس کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی جب انصاف کے ایوان میں بیٹھے اُس منصف نے ملزم کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اُسے با عزت بھری کیا۔ انصاف کی امید لیے انصاف کے ایوانوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ مرحوم والد کی وراثت تو کھو ہی چکی تھی لیکن اس روز وہ اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھی۔ اُسے يوں محسوس ہو رہا تھا جیسے محافظ ہر اور سے اُس پر ہنس رہے ہوں اُس کا مذاق اُڑا رہیں ہوں۔اطراف سے گونجتے قہقہوں نے اُسے بےچین کر دیا ۔وه دونوں کانوں میں انگلیاں دبا کر عدالت سے بھاگتی ہوئی باہر آئی۔سڑک پر چلتا ہر مسافر اُسے انصاف کا گلا گھونٹا ہوا وہ جج نظر آرہا تھا جس نے چند لمحے پہلے اُسے نا انصافی کی سند سے نوازا تھا کچھ دور جاکر جونہی اُسے ایک محافظ گھورتا ہوا نظر آیا اُس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پتھر اٹھایا اور پوری قوت سے اُس پر دے مارا۔۔ لیکن سامنے جاکر دیکھا تو وہ چنار کا پیڑ مضبوطی سے کھڑا اس کے ہر وار کو بنا کسی مذمت کے سہے جارہا تھا جیسے اُس کے درد کی شدت سے واقف ہو۔سڑک پر چلتے لوگ اُسے پاگل سمجھ کر نظر انداز کر رہے تھے۔لیکن حفصہ پاگل نہ تھی ۔وہ پوش پور میں رہنے والی سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی تھی جسے وقت کے ظالموں نے ظلم کی بھی میں جلا کر راکھ کر دیا تھا لیکن اُس نے دوسری لڑکیوں کی طرح خود کو حالات کے سپرد نہیں کیا ۔ابا حضور کا پڑھایا وہ سبق اُسے آج بھی یاد تھا۔،”ظلم سہنا ظلم کرنے کے مترادف ہے”یہ الفاظ اکثر اُس کے کانو میں گونج کر اُسے بے چین کر دیتے تھے۔وہ ظالموں میں شمار نہیں ہونا چاہتی تھی۔اُس نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی کیونکہ اُسے لفظ انصاف پر پورا یقین تھا۔۔”آج نہیں تو كل۔۔یہاں نہیں تو وہاں۔۔” مگر بیس سال کا طویل انتظار اور اب پھر انتظار۔۔۔!!! اب انتظار کا ایک ایک لمحہ اُس کے لئے اذیت ناک ہوتا جارہا تھا۔”جو انصاف دیر سے ملے وہ کیسا انصاف؟؟” وہ ہر نئی تاریخ پر خود سے یہی کہتی اور تھک ہار کے پھر اسی امید پر کمر باندھتی کہ چلو “دیر آید درست آید” لیکن اُس دِن اُس کا یہ یقین بھی ٹوٹ گیا۔۔
سارا دن شہر کی اجنبی سڑکوں پر چلتے چلتے جب اُس کے پیروں نے چلنے سے انکار کیا وہ غش کھا کر گر پڑی۔آس پاس اُسے پانی پلانے والا بھی کوئی نہ تھا۔جب کچھ وقت کے بعد اُسے ہوش آیا اُس نے خود کو شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد کے سامنے پایا، رات ہوچکی تھی ۔راستے سنسان تھے۔حالات سے خوف زدہ لوگ شام ہوتے ہی روشنی بجا کر جیسے قبرستانوں میں صدا کے لئے سو گیے تھے۔اگر حفصہ کے علاوہ کوئی زندہ معلوم ہوتا تھا تو وہ محض اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق تھی جو ہر وقت بے خوف ہو کر دشمن کے خلاف آواز بلند کرنے پر یقین رکھتی ہے۔پھر چاہے پتھر ہی نصیب میں کیوں نہ ہوں۔اور ہم انسان اُنہیں کتے کہہ كر دھتکار دیتے ہیں۔لیکن حفصہ کتوں کے پہرے میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ایک وہی تو تھے جو اُس کے دشمن کو پہچانتے تھے۔۔
ؤو ؤو کی ان صداؤں کے بیچ حفصہ گرتے سنبھلتے مسجد کی سیڑھیوں تک پہنچ گئی۔سیڑھیوں کے ٹھنڈے ٹھنڈے سنگِ مرمر کے پتھروں پر کلیجہ رکھتے ہی اُسے ماں کی آغوش محسوس ہوئی۔۔اس کی آنکھوں سے آنسؤں کی نہریں باڑ کی طرح بہنے لگی۔۔۔۔کب اس کے آنسؤ تھم گئے اور کب اس کی آنکھ لگی اُسے پتہ ہی نہیں چلا۔ یوں تو روشنی میں اُسےکبھی نیند نہیں آتی تھی لیکن اُس رات پاس والی سٹریٹ لائٹ نے جیسے اُس پر سنہری چادر بچھائی تھی اور کتے اُس کی محافظ بنے پہرے داری کر رہے تھے۔وہ اس قدر گہری نیند سو چکی تھی کہ ۲۳ فروری کی اُس کالی رات نے بھی اُسے ڈرانا چھوڑ دیا تھا جو اکثر اس کی نیندوں میں خلل ڈالا کرتی تھی۔وہ خود تو سو چکی تھی لیکن اپنے زخموں کو نہ سلا پائی ۔۔کانچ کی ٹوٹی چوڑیوں سے لگے زخم ابھی تک رورہے تھے اُن سے خون جاری تھا۔۔۔
صبح ہوتے ہی جب نمازی مسجد میں آنا شروع ہوگئے سامنے پھٹے ہوئے کپڑوں میں خون سے لت پت آنکھوں میں کئی سوال لیےحفصہ کی لاش پڑی تھی۔اور لاش کے پاس جوتوں کا ڈبہ پڑا تھا جس پر عدالت کا وہ کاغذ جسے حفصہ نا انصافی کی سند قرار دے چکی تھی خون سے چپک گیا تھا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔اور لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔مسجد کے امام صاحب نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ کاغذ ہاتھ میں لیا اور اُس پر خون سے لکھے موٹے حروف پڑنے لگا۔”بھائیوں کی نظر ایک مظلوم بہن کا تحفہ”۔
یہ الفاظ پڑھتے ہی امام صاحب نے فوراً کاغذ سے نظریں ہٹا کر ڈبے پر مرکوز کی اور تھر تھراتے ہاتھوں سے ڈبہ کھولنے لگا۔سب کی تجسس بھری نظریں بھی ڈبے پر مرکوز ہوگئی۔امام صاحب نے ڈبے میں ہاتھ ڈال کر ڈبے سے ٹوٹی چوڑیوں بھری مٹھی بھر کر کچھ بلندی سے واپس ڈبے میں ڈال دی تاکہ سب تحفے کا نظارہ کر سکیں ۔ ۔سب کی نظریں جھک گئی ۔امام صاحب نے جھکتی ہوئی نظریں ایک لمحے کے لئے حفصہ کے مردہ جسم پر ڈالی پھٹے ہوئے کپڑوں میں حفصہ کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے ۔امام صاحب کی آواز بھر آئی۔۔اُس نے کاغذ دوسرے بندے کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔وہ مزید پڑھنے لگا۔”جو بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت نہ کر سکے وہ ایسے ہی تحفوں کی حق دار ہیں۔۔۔یا اللہ ان میں کوئی قاسم نہیں کوئی ارتغرل نہیں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں۔۔۔میں کیسے جیوں ان کے بیچ۔۔کیسے؟؟؟مجھے جنت نہیں انصاف چاہیے انصاف۔۔۔۔اُس آدمی کی آواز میں جیسے حفصہ کی آواز مدغم ہوکر ہر اور سے گونجنے لگی۔۔انصاف انصاف۔
دیکھتے ہی دیکھتے آنسووں کی دھارایئں اللہ اکبر کے نعروں میں بدل گئیں ۔۔اور پھر آئیندہ کئی سال تک حفصہ کے بھائی جانوں کے نذرانے لیے مخصوص لباس پہنے انصاف کی علم لئے سوشل میڈیا پر نظر آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں