غزل 133

غزل

کلام: خالد ابرار کشمیری

اس سراسیمگی میں بات کریں تو کیسے
شہ سواروں سے مساوات کریں تو کیسے
خوف سے خشک ہوئے جاتے ہیں لبِ لعلیں
لوگ اظہارِ خیالات کریں تو کیسے
پھر رہے طائرِ مجنوں ہیں کو بہ کو در در
عشقِ صادق کا وہ اثبات کریں تو کیسے
بد نہیں گرچہ وہ بدنام مگر ہیں ہر سو
ایسی صورت میں ملاقات کریں تو کیسے
ہر گھڑی سوچتے رہتے ہیں تہی دست کہ ہم
مثل حاتم طئ خیرات کریں تو کیسے
آپ ہی اپنا بد اندیش و مدعی بن کر
اپنی ہستی کو پست و مات کریں تو کیسے
خیر اندیش ہیں مانا کہ شناور لیکن
موجِ ہستی سے دو دو ہات کریں تو کیسے
خورد بچّوں کی تمنّا ہے یہ ابراؔر کہ بس
بند مٹھی میں یہ دن رات کریں تو کیسے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں