غزل 136

غزل

کلام: صفدر یوسف

ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
اور دل میں قرآن رکھتے ہیں
بات کرنا ہمیں بھی آتی ہے
منہ میں ہم بھی زبان رکھتے ہیں
یہ مری بے بسی کا عالم ہے
ساتھ اپنے طوفان رکھتے ہیں
یہ جو لاوا ہے پھوٹ نہ جائے
ہم تو اس کا بھی دھیان رکھتے ہیں
کوئی آکے مجھے بھی سمجھائے
کیوں بھلا آن بان رکھتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں