کلام: فرہان ولر ہامی پہلگام
میں تیرے جہاں کا ناچار اک ہوں
میں بے بس زمین کا کردار اک ہوں
میں گِن گِن کے رکھتا ہوں کاری گروں کو
میں اس ہُنر کا شہکار اک ہوں
میں بے بس زمین کو کیا دے رہا ہوں
میں انسانیت پہ ستمگار اک ہوں
مجھے کیا خبر کیا ہیں اپنے پرائے
میں ہر ایک فرد سے بے زار اک ہوں
چلو چھوڑدو ہم سبھی مل جائے
میں اسی انجمن کا مددگار اک ہوں
ہمیں کیا لقب یہ دے گیا تھا کوئی
میں اس زمین کا اظہار اک ہوں
بدل دو اے فرحانؔ بدل دو جہاں کو
کھلیں گے چمن میں سبزار اک ہوں
