ڈاکٹر نذیر مشتاق 9419004094 160

افسانچے

تحریر:- ڈاکٹر نذیر مشتاق

ماں

ڈاکٹر دلاور خان اپنے کلینک سے واپس آکر چاے پینے کے بعد آرام کرسی پر نیم دراز ہوگیے۔ان کی شریک حیات وحیدہ پاس ہی بیٹھی سویٹر بننے میں مشغول تھی ان کا ننھا منا اکلوتا بیٹا اصغر اپنی سایکل چلا رہا تھا ‌‌اچانک وحیدہ بیگم کے کانوں سے چوں چوں کی آواز ٹکرای۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔چھت کے ایک حصے میں چڑا اپنا گھونسلا نوچ رہا تھا۔اور چڑیا اس کی مدد کررہی تھی وحیدہ کءی دنوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔چڑے اور چڑیا نے گھونسلہ بنایا تھا ۔چڑیا نے انڑے دیے تھے۔پھر بچوں کی چوں چوں سننے میں آی تھی لیکن دو دن پہلے چڑیا کو بلی نے پکڑ کر کھا لیا۔چڑا ادھر ادھر سے دانا دنکا لا کر بچوں کو کھلا رہا تھا اور خود اکیلا اداس بیٹھا رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج صبح کے وقت چڑا ایک نءی چڑیا کو ساتھ لےکر آیا۔اورخوشی کے مارے ادھر ادھر پھدکنے لگا چڑیا بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ‌۔بچے گھونسلے میں چیں چیں کر رہے تھے مگر چڑا اور چڑیا اپنی دنیا میں مگن تھے۔کچھ دیر بعد دونوں مل کر گھونسلہ نوچ رہے تھے۔دیکھتے دیکھتے گھونسلہ زمین پر گر پڑا گھونسلے کے تنکے ادھر ادھر بکھر گئے۔اور ننھے ننھے کمزور بچے زمین پر گر پڑے۔دونوں تھر تھرا نے لگے۔چڑیا نے ان کو دیکھ کر آنکھیں پھیر لیں۔اور چڑے کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔۔۔
وحیدہ بیگم نے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔اسکی ہچکیاں سن کر ڈاکٹر دلاور نے اس کی طرف دیکھا اور حیران ہو کر کہا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وحیدہ بیگم نے ساری کہانی سنائی۔
ڈاکٹر دلاور ہنس پڑا۔ اس میں رونے کی کیا بات ہوئی
وحیدہ بیگم نے ضبط کی کوشش کی مگر وہ اپنے۔آنسووں کو روک نہیں سکی آنسو پونچھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔ ‌‌۔۔آپ نہیں سمجھ سکتے آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔۔۔۔
افسانچہ ۔قربانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب سے سید محمد عابد سلیمانی پاش کالونی میں رہنے لگا تھا تب سے اس نے اپنے ڈاؤن ٹاون کے رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی اس کی بیوی بھی اپنے سابقہ رشتہ داروں کو بھول گئی تھی نیئ کالونی میں اکر محمد عابد نے اپنے نام کے ساتھ سید اور شاہ بھی چپکا دیا تھا ۔اس کے دو بھائی آب بھی ڈاون ٹاون میں رہتے تھے ان میں سے ایک بھائی ایک گرینیڈ دھماکہ میں زخمی ہوکر دونوں ٹانگوں سے محروم ہوچکاتھا اور اس کی بیوی گھر گھر جاکر صفائی ستھرائی کا کام کر کے شوہر اور بچوں کا پیٹ پالتی تھی مگر اب کرونا وایرس کی وجہ سے اس کی کمائی نفی کے برابر تھی۔
حسب معمول سید محمد عابد سلیمانی نے بیوی سے قربانی کا زکر کیا تو ہمسایوں دوست و اقارب کی فہرست تیار کی گئی کس کس کو بھیڑ کی پوری ران بھیجنی ہے اور کس کس کو گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے بھیجنے ہیں ۔
کئی بھیڑ قربان کیے گئے اور سبوں ہر اپنی دھاک بٹھائ گئ میاں بیوی خوش تھے اور اپنے بیٹے اور بیٹی کے سا تھ نئے ملبوسات میں ملبوس دسترخوان پر انواع و اقسام کی ضیافتون سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔اچانک فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔ سید محمد عابد سلیمانی نے فون کان سے لگایا اس کا دونوں ٹانگوں سے محروم بھائی کہہ رہا تھا ۔۔۔عید مبارک بھائی جان ۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ جواب دیتا بیک گراونڈ سےایک معصوم لڑکی کی بھرائ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
ماں آج عید ہے دیکھو میرے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور ہاں میں اس ابلے ہوے ساگ کے ساتھ چاول نہیں کھاؤں گی ۔۔۔یہ سن کر اسے یوں محسوس ہوا جیسے اچانک زلزلہ آیا اور اس کی جھوٹی شان و شوکت کا شیش محل چکنا چور ہوا ۔۔۔۔۔

سماج

معصومہ میرے چیمبر میں میرے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔میں نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔
ڈاکٹر صاحب۔میری منگنی ٹوٹ گءی۔۔۔اس نے رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ‌مگر آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔مگر کیوں۔۔‌میں نے حیران ہو کر پوچھا۔
میں دس دن پہلے آپ کے پاس آءی تھی اور آپ سے کہا تھا ۔۔کہ مجھے نیند نہیں آتی۔۔گھبراہٹ سی ہوتی ہے۔
کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔۔آپ نے پھر بہت سارے سوالات پوچھے اور مجھ سے کہا کہ یہ معمولی ڈپریشن ہے تم ایس ایم ایچ ہسپتال کے شعبہ امراض نفسیات(Mental disease counseling clinic (. میں جاو وہاں لیڑی ڈاکٹر ہیں جو کونسلنگ کرتی ہیں۔
تمہیں ابھی دوایوں کی ضرورت نہیں ہے ‌‌صرف کونسلنگ ہی کافی ہے۔۔۔میں دوسرے دن وہاں گءی۔وہاں ایک لیڑی ڈاکٹر نے میری ہر بات بڑے غور سے سنی اور مجھے ہر ہفتہ آنے کو کہا۔۔مجھے لگا کہ اس ڈاکٹر کی کونسلنگ سے میری زندگی کا رخ بدل جاے گا اور میں شادی کے بعد ایک خوشگوار زندگی بسر کروں گی‌۔وہاں سے نکلتے وقت مجھے سسرال والوں کے ایک دور دراز رشتہ دار نے دیکھ لیا۔اس نے مجھے بڑے غور سے دیکھااور چلا گیا۔
دو دن بعد ہم سب گھر میں بیٹھے تھے کہ میرے سسرال والوں کی طرف سے ایک آدمی آیا۔۔۔اور کہا۔
میں ان کا پیغام لایا ہوں اب یہ رشتہ نہیں ہوسکتا ہے۔
مگر کیوں میرے باپ نے حیران ہو کر پوچھا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک پاگل لڑکی کو اپنی بہو نہیں مان سکتے۔۔۔۔۔۔۔معصومہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور میں بےبسی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔اور سوچنے لگا کہ ہمارا سماج ابھی تک کتنے اندھیرے میں ہے۔۔۔۔۔
فسانہ در افسانہ
محمد سلیم نے صبح کے وقت ناشتہ کیا اور اخبار آجکل پڑھنے لگا اس کی بیوی جمیلہ برتن سمیٹنے لگی۔۔وہ کچن کی طرف گءی۔۔اور سلیم اخبار میں شائع شدہ ایک کہانی۔۔ میں نے بھی محبت کی ہے۔۔۔۔میں کھو گیا۔
کہانی انتہائی دلچسپ تھی۔۔محبت کرنے والے ایک جوڑے کی کہانی کو قلمکار نادان کشمیری نے کچھ اس طرح صفحہ قرطاس پر بکھیرا تھا کہ سلیم کو پڑھتے پڑھتے یوں محسوس ہوا کہ وہ کوءی بہترین محبت بھری فلم دیکھ رہا تھا اس کا جی چاہا کہ وہ ابھی جاکر قلمکار کو گلے سے لگایے اور اس کا ہاتھ چوم لے مگر۔۔۔۔۔۔۔اس نے۔ایک آہ بھری اور دل کی گہرائیوںسے نادان کشمیری کو دعا دی۔۔کہانی کے ساتھ اس کا ‌پتہ اور فون نمبر درج نہیں تھا ورنہ سلیم اسے ابھی مبارک باد پیش کرتا۔۔۔۔۔کیا کہانی لکھی ہے۔۔۔۔۔سلیم نے سگریٹ سلگایا اور جمیلہ کو بلایا۔۔۔۔‌‌ڈارلنگ ایک کپ چایے ۔۔۔
چند لمحوں بعد جمیلہ چایے لیکر آءی تو سلیم نے اس سے کہا۔۔۔۔آج کے اخبار میں ایک زبردست لو اسٹوری چھپی ہے مجھے بہت پسند آءی۔۔۔مگر لڑکی بےوفا ہے ایسے محبوب کو ٹھکرا دیا جس نے اس کو بچپن سے ٹوٹ ٹوٹ کر چاہا۔۔بڑی ظالم اور بے وفا لڑکی ہے۔۔۔خیر تم بھی پڑھو پھر اس پر دل کھول کر بحث کریں گے۔۔۔۔سلیم نے بیوی کے ہاتھ میں اخبار تھما دیا اور خود چاے کی چسکیاں لینے لگا اور ہاں سنو ہم کبھی اس قلمکار کوگھر بلایںگے۔۔سلیم‌نے اس سے کہا۔
سلیمہ نے اخبار ہاتھ میں لیا اور بیڑ روم کی طرف گءی اندر سے دروازہ بند کرکے وہ بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھ کر رونے لگی۔۔۔۔اخبار میں چھپی ہوئی کہانی کی ظالم اور بیوفا ہیروئن کوءی اور نہی وہ خود تھی اور کہانی کا ہیرو وہی تھا جس نے اسے بچپن سے جوانی تک ٹوٹ ٹوٹ کر چاہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورقلمکار بھی وہی تھا۔۔۔۔اگر سلیم نے اسے یہاں بلایا تو تو ۔۔۔۔۔۔۔جمیلہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔

گیت

خواجہ عاشق بہزاد امانی نے وہ ہفت رنگی چڑیا بہت زیادہ رقم دیکر خرید لی کیونکہ وہ سریلے گیت گاتی تھی اور خواجہ کو پرندوں کے گیت بہت پسند تھے۔
ٹوٹے پھوٹے لوہے کے پنجرے سے نکال کر خواجہ نے اسے ایک جاندی کے پنجرے میں رکھوایا اور ٹوٹی پھوٹی مٹی کی کٹوریوں کی جگہ چاندی کی کٹوریاں رکھوادیں۔
مگر چڑیا نے کوی گیت نہیں گایا۔۔۔خواجہ نے چاندی کے پنجرے کی جگہ سونے کا پنجرہ لاکر چڑیا کو اس میں رکھوایا۔اور اس کے ننھے ننھے پیروں میں انمول ہیرے سجا دیئے دو نوکروں کو اس کی نگہداشت کے لیے رکھا۔
چڑیا کو حویلی کے سب سے بڑے ہال میں رکھا گیا مگر چڑیا نے کوی گیت نہیں گایا۔خواجہ کے کان چڑیا کا گیت سننے کے لئے ترس رہے تھے ایک دن وہ چڑیا کے نزدیک گیا اور چڑیا سے کہا۔۔۔اب توکوی سریلا گیت سنا۔۔۔۔چڑیا خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو ٹپکنے لگے۔
خواجہ کا دل بھر آیا اس نے پنجرے کا دروازہ کھول کر چڑیا کو ہاتھ میں لینا چاہا کہ وہ پھر سے اڑ گیی اور پورے ہال کا چکر لگا کر کھڑکی کے ایک پٹ پر بیٹھ گیی اور باہر کی طرف دیکھنے لگی ‌‌آسمان بادل درخت پتے ہوا۔ اس نے سب کچھ دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔.. وہاں سے اڑ کر وہ خواجہ کے کاندھے پر بیٹھ گیی خواجہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔‌.
اچانک خواجہ کے کانوں میں ایک سریلا گیت گونجنے لگا۔۔
ای سو ‌لیشن
کووڈ ٹیسٹ پازیٹیو آنے کے بعد بوڑھے جبار کاکا کو بیٹوںاوربہوؤںنےمکان کے چھت ‌کے‌نیچے اندھیری کوٹھری میں ایسے ڈال دیا جیسے وہ کچرے سے بھرا تھیلا ہو وہ ان کے لیے ایک ‌ناقابل برداشت بوجھ بن ‌چکا‌تھا۔ نوکر اس کےلیے کھانا لے کر جاتا کوٹھری کے باہر رکھتا اور چلا جاتا جبار کاکا ‌خود ہی دروازے سے اندر لاکر دو چار ‌لقمے کھاتا اور برتن ‌دوبارہ دروازے کے قریب رکھتا کوٹھری کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا پرانا باتھ روم تھا جہاں وہ حاجت بشری سے فارغ ہوتا۔۔ وہ دن رات بیقرار رہتا اسے یوں ‌محسوس ہوا کہ اسے ‌زندہ در گور کیا گیا ہے کیونکہ گھر کا کوی بھی فرد اسے اپنی شکل بھی نہیں دکھاتا۔وہ سوچتا کیا کووڈ مریض اچھوت یا کتا بن ‌جاتا ہے کہ کوی اس کی خبر نہ لے وہ ‌اپنے‌آپ سے سوال کرتا کیا یہی ای سو ‌لیشن ہے مریض کو اکیلا مرنے کے لئے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہی آیسولیشن ہے ۔۔شاید یہی آیسولیشن ہے۔۔۔۔
یہی ای سو ‌لیشن ہے۔ دن رات وہ ‌یہی سوچتا رہتا ایک دن وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ روتے روتے اس کی آنکھ لگ گی۔
جب نوکر چاے لے کر گیا ‌تو اس نے جبار کاکا کو ‌مردہ حالت میں دیکھا وہ دوڈتا ہوا ‌نیچےآیا‌اور اونچی آواز میں ‌کہا۔ وہ وہ وہ بابا وہ۔۔۔۔۔۔سب‌سمجھ‌گیے کہ ‌بات کیا ہے مگر ارام سے ناشتہ کرتے رہے۔۔۔ گھر کی ‌سب سے بڑی بہو نے سب‌کو‌مخاطب ہو کر کہا۔۔۔میں نے ‌ہی‌کہا‌تھا اسے آی سو ‌لیشن میں ‌رکھو تاکہ وہ۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اس کا‌ٹیسٹ نیگیٹیو کے بجائے پازیٹو لکھوایا تھا۔۔۔اس‌کے شوہر ماجد خان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فخر ہے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
عین اسی وقت باہر سے ایک آدمی گھبرایا ہوا گھر میں داخل ہوا اور کہا ساجد خان صاحب جلدی باہر آیے۔۔‌آپ کا بیٹا سڑک پر کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک تیز رفتار ٹرک کی زد میں آگیا۔۔۔۔۔
�����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں