کلام:علی شیدا
بات کوئی نہ تھی خلاصہ تھا
اک ستارے پہ اک خرابہ تھا
اک ہوا کے سپرد کربیٹھے
راستے میں پڑا لفافہ تھا
جتنے ہندسے تھے خرچ کر ڈالے
ہر خسارے میں اک اضافہ تھا
ہجرمیں کھل گئے سبھی ابواب
وصل میں ایک ہی حوالہ تھا
کوئی آیا نہیں عیادت کو
آج بیمار کو افاقہ تھا
قہقہے دیر تک تھے زخموں کے
درد کا آخری تماشہ تھا
ہم نے خود کو لٹا دیا شیؔدا
اپنا کچھ بھی نہیں اثاثہ تھا
141
