ڈاکٹر نذیر مشتاق کے افسانچے 151

ڈاکٹر نذیر مشتاق کے افسانچے

تحریر:نذیر مشتاق

سوی …. Needle
سب ڈاکٹروں نے کہا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔۔مرض لا علاج ہے کینسر کے خلیات معدہ سے نکل کر جگر گال بلیڈر اور انتڑیوں میں سرایت کر چکی ہیں اب آپریشن بھی نہیں ہو سکتا ہے بس اب ہمارا بیٹا کچھ دنوں کا ‌مہمان ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب تم کہتی ہو کہ کسی درویش کے پاس جایں کیا فایدہ۔ محمد رفیع نے اپنی بیوی سے کہا
مگر بیوی نےاسی مجبور کیا اور دوسرے دن درویش جلال بابا کے پاس چلے گئے
جلال بابا مریدوں میں گھرا ہوا تھا ہر کوی اس کی نظر کرم کا منتظر تھا۔۔محمد‌رفیع اپنی بیوی کے ساتھ بابا کی جھونپڑی میں داخل ہونے کہ اچانک بابا نے ان کی طرف دیکھا اور ان کو ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کے لئے کہا ساتھ ساتھ کہا سوی لگا جا سوی لگا سوی لگے گی۔۔۔
ہاں سوی لگے گی۔۔۔اور دوبارہ ان کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں مایوس ہوکر واپس لوٹے۔ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
اب وہ دن رات اپنے بیمار بیٹے کی دیکھ بھال میں مشغول تھے۔۔۔۔۔۔ایک دن ان کا ایک نوجوان رشتہ دار ڈاکٹر عاصم ان سے ملنے آیا اور اس نے مریض کا ایک ٹیسٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی کیوں کہ وہ جگر گال بلیڈر اور انتڑیوں کے کینسر پر ریسرچ کر رہا ہے
بڑی مشکل سے مریض کے ماں باپ راضی ہویے اؤر ڈاکٹر عاصم نے ٹیسٹ کیا
ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد ماں باپ اور سبھی متعلقین اور ڈاکٹر خوشی سے رقص کرنے لگے کیونکہ ٹیسٹ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مریض کینسر میں نہیں بلکہ ٹی بی میں مبتلا ہے ٹی بی کا علاج کیا گیا اور مریض بالکل صحت یاب ہو گیا
ڈاکٹر عاصم نے جو ٹیسٹ انجام دیا تھا اسے ڈاکٹری اصطلاح میں فاین نیڑل اسپریشن سایٹولوجی۔ .. FNAC
کہتے ہیں ایک سرینج میں ایک مخصوص قسم کی سوی فٹ کر کے عضو کے اندر گھسیڑ دی جاتی ہے اور مواد نکال کر اسے مختلف رنگوں سے رنگ کےسلآیڈ پر پھیلا کر میکروسکوب میں ‌دیکھا جاتا ہے اور فوری تشخیص دیا جاتا ہے عام اصطلاح میں ‌اسے سوی ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔
روپ
احمد علی شاداب نے رسالہ اب تک میں عظیم عالمِ کا ‌افسانہ یہی محبت ہے پڑھ کر آنکھیں بند کرلیں آور ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اپنے آپ سے کہا ‌‌ واہ واہ کیا افسانہ لکھا ہے بہترین دلنشین خوبصورت ہر لحاظ سے ایک مکمل یادگار اور شاہکار افسانہ۔ یہ تو مجھ سے بازی جیت گیا میں نے اسے سکھایا اور اس نے مجھے پیچھے چھوڑدیا۔کیا بات ہے۔اب‌یہ اردو ادب میں ایک جانا پہچانا نام ہے چلو میرا شاگرد ہی تو ہےکچھ دنوں کےبعد ایک اردو کانفرنس میں ایک صحافی نے اس سے سوال پوچھا آپ‌اپنےشاگرد عظیم عالم کے افسانوں پر اپنی رائے ظاہر کریں نقاد کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آگے جا رہا ہے
یہ سن کر ‌اس نے جواب دیا۔۔۔حضور وہ ابھی سیکھ ہی رہا ہے ابھی اسے افسانہ نگار بننے میں بہت وقت لگے گا ابھی اس کے افسانوں میں فنی پختگی نہیں ہے سیکھ جاے گا ابھی جوان ہے۔افسانہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے میں اسے سکھا رہا ہوں۔۔کل ہی میں نے اس کا تحریر کردہ افسانہ یہی محبت ہے پڑھا پلاٹ بہت کمزور ہے اور افسانہ فنی اعتبار سے پختہ نہیں ہے
مگر عظیم عالم کے اس افسانے کو قومی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔۔۔اور بہت ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔۔۔صحافی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں کہہ سکا جیب سے رومال نکال کر چہرے اور گردن سے پسینہ پونچھنے لگا۔۔۔
حقیقت
لو سنو۔۔میں نے اپنے دوست سلیم سےکہا۔۔اسٹیٹ اسپتال کے گیٹ کی سیڑھیوں پر ایک بد حال نوجوان زارو قطار رو رہا تھااس کا باپ ایک گھنٹہ پہلے کووڑ وارڑ میں فوت ہوا تھا ۔اس سے کہا گیا تھا کہ لاش نہیں ملے گی لاش کو اسپتال کے کرمچاری خود دفن کریں گے اسلیے وہ سر پیٹ رہا تھا کہ وہ بدنصیب اپنے باپ کے جنازے کو کاندھا بھی نہیں دے سکے گا۔۔۔۔۔
گیٹ ‌سے تھوڑی دور ایک نوجوان اپنے چھوٹے بھائی سے کہہ رہا تھا۔۔۔ڈیڈی کی لاش کو کیوں گھر لے جایں وہ کرونا پازیٹیو ہے اسپتال والے اس کی لاش کو خود ٹھکانے‌لگایں گے۔۔۔چھوٹا بھائی کہہ رہا تھا۔۔۔۔مگر بھیا مما ‌نے کسی سیکرٹری سے فون کروایا ہے اور کووڈ وارڈ کے ڈاکٹر نے اسے پازیٹیو کے بجائے نیگیٹیو دکھایا ہے اس لیے اب‌لاش کو گھر لے جانا ہوگا اور۔۔۔۔۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔بڑے بھائی نے دانت چیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دوست سلیم نے غور سے سننے کے بعد کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌۔‌
یہ افسانچہ نہیں ہے۔۔۔اور میں نے فوری جواب دیامیں نے کب کہا کہ یہ افسانچہ ہے یہ تو آنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔۔۔۔
خون
وارڑ نمبر گیارہ کے بیڑ نمبر چار پر خون کے کینسر میں مبتلا نوجوان کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ دو ڈاکٹر اس کا معاینہ کررہے تھے مگر وہ اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام نہیں دے پا رہے تھے کیونکہ بیڑ کے ارد گرد چھ سات تیمار دار ڈاکٹروں کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔۔۔۔دونوں ڈاکٹر ان کو وارڈ سے باہر جانے کی گزارش کر رہے تھے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی وہ الٹا ڈاکٹروں کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر ‌مریض کو کچھ ہو گیا تو وہ اسپتال کو آگ لگادیں گےاچانک وارڈ کا سربراہ عمر رسیدہ سینیر ڈاکٹر وارڑ میں داخل ہوا اس نے چاروں طرف نگاہیں دوڑایں اور پھر مریض کے سرہانے جا کراسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ہوے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔ڈاکٹرندیم۔ مریض کی نبض ڈوبتی جارہی ہے اسے خون ‌کی اشد ضرورت ہے۔ ان سے پوچھو کون کون خونی رشتہدار اپنا خون دینے کے لئے تیار ہے
اچانک وارڈ میں خاموشی چھاگئی سب خونی رشتے دار وارڑ سے بھاگ چکے تھے۔۔۔
لاعلاج
میں نے آپ کے سب ٹیسٹ کروانےای سی جی ایکو کارڈیو گرافی انجیو گرافی ایم آر آئی بون ڈینیسٹی الٹرا سونوگرافی اور خون کے سب ٹیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کوی ٹیسٹ نہیں رہ جاتا ہے۔میں نے آپ کی بیماری کے متعلق چند اور ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کیا مگر کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ کے بایں کندھے اور سینے میں ہر وقت شدید درد کیوں ہوتا ہے میں نے سب پین کلر اور سکون آور ادویات آزما کر دیکھے مگر بے سود اب‌میں آپ کو ایک کونسلر کے پاس بھیجتا ہوں وہ شاید کچھ مدد کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر سکندر علی نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے دیرینہ مریض سے کہا۔۔۔۔۔
کونسلر نے مریض سے نام عمر ایڈریس فیملی ہسٹری وغیرہ سب پوچھ کر سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔آپ‌مجھے یہ بتایے کہ پہلی بار آپ کے بایں کندھے اور سینے کے بیج میں درد کب ہوا تھامریض چند لمحے خاموش رہا پھر کونسلر کی طرف دیکھ کر کہا
اس دن سے جب میرے اکلوتے اکیس سالہ بےگناہ بیٹے کو وردی والوں نے گولی ماردی اور مجھے اپنے بیٹے کے تابوت کو کاندھا دینا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
کونسلر نے سن کر فوری جواب دیا میں آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا ہوں اور ہاں۔۔۔۔۔آج سے آپ کوی دوا نہیں لیں گے آپ کا درد لا علاج ہے۔۔۔۔
شرمندگی
وہ سب سر جھکائے ہوئے قبر کے ارد گرد فاتحہ خوانی میں مشغول تھے۔اچانک اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا ‌کسی کے چہرے پر ماسک نہیں تھا اسے عجیب سی شرمندگی محسوس ہوی اس نے جلدی سے اپنے چہرے سے ماسک اتار کر جیب میں ٹھونس دیا اور ادھر ادھر دیکھنے کے بعد دوبارہ فاتحہ پڑھنے لگا۔۔
گمراہ
مریض نے ڈاکٹر کے سامنے اپنی کہانی بیان کی۔ذاکٹر نے نسخہ لکھا اور مریض سے کہا آپ ڈیپریشن ‌میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔آپ کو کم ازکم چار ماہ تک دوایاں لینا پڑیں گی۔اور ہاں آپ ایک ایم آر آئی بھی کروایں مجھے دو دن بعد دکھانا۔۔مریض گھر پہنچا تو اپنے باپ سے سپ کچھ کہا۔۔۔باپ‌نے ہنستے ہوئے کہا ‌‌تم کو ٹینشن ہے اور کوی بیماری نہیں ہے یہ ڈاکٹر کمیشن حاصل کرنے کے لئے اتنی دوایاں اور ٹیسٹ لکھتے ہیں کل میں تمہیں اپنے پیر صاحب کے پاس لے جاؤں گا
پیر صاحب نے مریض کو غور سے دیکھا اور آنکھیں بند کرکے کہا۔ اسے نظر لگی ہے بہت محنت کرنی پڑے گی
ایساکرو گیارہ ملامین پلیٹیں اور ایک تولہ زعفران لاؤ میں ایسے تعویذ لکھوں گا کہ ان کو پینے کے بعد اس کا سارا ٹینشن دور ہوگا اور نظربد کا توڑ بھی ہوگا۔ اس کام میں تین ماہ لگںیں گے اور خرچہ۔۔۔۔۔۔۔
خرچہ۔۔۔۔۔۔۔۔مریض کے باپ نے پیر صاحب کی بات کاٹ کر کہا ‌‌اس کی آپ فکر نہ کریں۔
پھر کل سے علاج شروع بہت محنت کرنی پڑے گی۔
پیر صاحب نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔
دوسرے دن سے مریض نے ڈاکٹر کی دوای لینا بند کی اور پیر صاحب کا علاج شروع کیا۔
دو ماہ کے بعد ایک دن مریض کھڑا ہونے کے بعد چکر اکر گر پڑا اس کا پورا جسم جھٹکے کھانے لگا منہ کے ارد گرد ڈھیر ساری جھاگ جمع ہوگیی اؤر اس کی ناک سے خون جاری ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اسپتال میں ڈاکٹر نے معاینہ کیا ایم آر آئی کیا گیا۔ ڈاکٹر نے ایم آر آئی کی رپورٹ دیکھ کر کہا۔
برین ٹیومر سایز میں بہت بڑھ چکا ہے ‌اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔
بلا عنوان
کووڈ وارڈ میں بیڈ نمبر گیارہ پر لیٹے ہوئے مریض کی حالت بگڑتی جارہی تھی اب وہ مشکل سے سانس لے پا رہا تھا حالانکہ آکسیجن کا فلو برابر تھا مریض کے بیڈ کے ارد گرد چار ہٹے کٹے الٹرا ماڈرن نوجوان کھڑے تھے اور ایک دوسرے سے سوال ‌کر رہے تھے کہ ڈاکٹر کہاں گیی۔۔نرس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا ڈاکٹر اپنے کمرے میں نہیں ہے
اب‌چاروں نوجوان ڈاکٹر کے نام ‌گالیاں بکنے لگے۔۔۔۔ایک نے کہا۔ سالی اپنے عاشق کے ساتھ کہیں بیٹھی ہوگی
دوسرے نے کہا آنے دے سالی کو اگر میرے انکل کو کچھ ہوا تو سالی کو زندہ زمین میں گاڈ دوں گا۔۔۔تیسرے نے کہا مگر وہ گیی کہاں۔۔۔مریض کی حالت بگڑتی جا رہی تھی ڈاکٹر کہاں ہے ایک نوجوان زور سے چلایا
عین اسی وقت ڈاکٹر سلیمہ ہانپتی ہوئی وارڑ میں داخل ہویی۔۔۔بیڈکے نزدیک پہنچتے ہی ایک نوجوان نے اس کے گال پر زور دار طمانچہ رسید کیا۔دوسرے نے اس کا دوپٹہ چھین لیا تیسرے نے اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا وارڑ میں کھلبلی مچ گیی۔۔ڈاکٹر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ نوجوان اسے گالیاں دے رہے تھے
عین اسی وقت ایک ہٹا کٹا نوجوان بیڑ کے قریب آیا اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ تھا اس نے نوجوانوں سے کہا۔چلو ہٹو ہٹو مجھے کام کرنے دو ڈاکٹر ایک طرف سہمی ہوئی گھڑی ہوگیی نوجوان نے کہا۔۔میں مریض کو پلازما چڑھانے آیا ھوں اس ڈاکٹر صاحبہ نے اس مریض کے لیے آبھی آبھی ڈونیٹ کیا ہے۔۔۔۔
���� � � �

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں