ایک سڑک نہیں، ایک عہد کی داستان 0

ایک سڑک نہیں، ایک عہد کی داستان

از میر شوکت

یہ سڑک اگر وقت کے کاغذ پر ایک لکیر ہے تو زمین کے دل پر ایک مکمل داستان ہے۔ایسی داستان جس کے ہر موڑ پر موسم کی سانس، انسان کی محنت اور اقتدار کی خواہش ایک دوسرے سے الجھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ BC Road۔جسے تاریخ نے Banihal Cart Road کے نام سے محفوظ کیا۔جمّو ں اور کشمیر کے درمیان محض ایک راستہ نہیں، بلکہ ایک عہدِ مسلسل ہے: عہدِ صبر، عہدِ جدوجہد، عہدِ انتظار۔
جمّوں کی صبح جب آہستہ آہستہ بیدار ہوتی ہے تو اس سڑک کے کنارے دھول میں بھی ایک روشنی اترتی ہے۔ کہیں دودھ والے کی گھنٹی، کہیں اسکول جاتے بچوں کی آواز، کہیں دکانوں کے شٹر۔یہ سب شہری زندگی کی موجودہ پرتیں ہیں۔ مگر اس موجودہ شور کے نیچے، اگر کان لگایا جائے، تو ایک اور زمانہ سانس لیتا سنائی دیتا ہے۔ وہ زمانہ جب یہی راہ قافلوں کی تھی، جب پہیے لوہے کے نہیں لکڑی کے تھے، اور جب سفر رفتار نہیں، ہمت مانگتا تھا۔
یہ انیسویں صدی کے آخری برس تھے۔ ڈوگرہ ریاست کے ایوانوں میں نقشے کھلتے اور بند ہوتے، اور ان نقشوں پر جمّوں سے کشمیر تک ایک لمبی، ضدی لکیر کھینچی جاتی۔ یہ لکیر فطرت کے مزاج سے میل نہیں کھاتی تھی۔پیر پنجال کے پہاڑ، بانِحال کا درّہ، برفانی طوفان، اور لینڈ سلائیڈز۔سب اس کے خلاف تھے۔ مگر ریاست کے لیے یہ لکیر ضروری تھی۔ تجارت کو راستہ چاہیے تھا، نظمِ حکومت کو تسلسل، اور اقتدار کو وہ شاہراہ جس پر اس کی آواز بلا رکاوٹ سفر کر سکے۔ چنانچہ مہاراجہ پرتاب سنگھ کے عہد میں یہ فیصلہ ہوا کہ بانِحال کے دل کو چیر کر ایک Cart Road بنائی جائے۔ایسی سڑک جس پر گھوڑا گاڑیاں اور سامان بردار رتھ چل سکیں، اور جو جمّوں کے میدانوں کو کشمیر کی وادی سے باندھ دے۔
تعمیر کا آغاز ہوا تو زمین نے مزاحمت کی۔ پہاڑوں نے اپنے سینے کھولنے سے انکار کیا، درختوں نے جڑوں کے ساتھ زمین کو تھام لیا، اور موسم نے ہر موسم میں ایک نئی آزمائش کھڑی کر دی۔ مگر انسان نے بھی ضد کی۔ مزدوروں کے ہاتھوں میں اوزار تھے، آنکھوں میں دھول، اور دلوں میں وہ خاموش عزم جو بولتا نہیں، کام کرتا ہے۔ دن بھر پتھر ٹوٹتے، شام کو آگ جلتی، اور رات کو ستارے گنتے ہوئے نیند آ جاتی۔ بہت سے نام تاریخ میں محفوظ نہ ہو سکے؛ بہت سی قبریں سڑک کے نیچے دب گئیں۔ مگر سڑک بنتی رہی۔آہستہ، سخت، ضدی۔
1901 سے 1915 تک یہ راہ مختلف مرحلوں میں آگے بڑھتی گئی۔ اودھم پور تک زمین نسبتاً نرم تھی، مگر کُداور بٹوت کے جنگلات میں داخل ہوتے ہی سڑک کا مزاج بدل گیا۔ یہاں درخت سرگوشیاں کرتے تھے، اور ہوا میں نمی گھل جاتی تھی۔ رام بن کے قریب پہنچ کر دریائے چناب پوری ہیبت کے ساتھ سامنے آتا۔کبھی نیلا، کبھی مٹیالا، کبھی خاموش اور کبھی شور مچاتا ہوا۔ اسی کے کنارے پر جھولتے پل بنے، جن پر چلتے ہوئے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی تھی۔ یہ پل محض انجینئرنگ کے نمونے نہیں تھے؛ یہ انسان کی اس خواہش کا اعلان تھے کہ وہ پانی اور پہاڑ کے درمیان بھی راستہ بنا سکتا ہے۔
ابتدا میں یہ سڑک عام لوگوں کے لیے نہیں تھی۔ یہ شاہی قافلوں کی راہ تھی، سرکاری اہلکاروں کی، اقتدار کی۔ عام آدمی اسے دور سے دیکھتا، اس پر چلنے کا خواب رکھتا، مگر اجازت نہیں تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب راستہ بھی طبقاتی ہوتا ہے۔کچھ کے لیے کھلا، کچھ کے لیے بند۔ مگر تاریخ رکتی نہیں۔ 1922 میں جب یہ سڑک عوام کے لیے کھولی گئی، تو منظر بدل گیا۔ اب اس پر صرف شاہی حکم نہیں چلتا تھا؛ اب اس پر انسانی ضرورتیں، امیدیں اور خواب چلنے لگے۔
کشمیری تاجر اپنے سامان کے ساتھ اس راہ پر اترے۔شال، قالین، خشک میوہ، لکڑی۔ جمّوں کے بازاروں سے اناج، نمک اور دیگر ضروریات وادی کی طرف روانہ ہوئیں۔ زائرین پیر پنجال کی بلندیوں پر سانس روکتے ہوئے دعائیں دہراتے، طلبہ پہلی بار اس راستے سے تعلیم کے شہروں کی طرف نکلتے، اور عام مسافر اس راہ کو عبور کرنا ایک کامیابی سمجھتے۔ یہ سڑک اب صرف زمین پر نہیں، دلوں میں بھی جگہ بنانے لگی۔
بانِحال درّہ اس سڑک کا سب سے کڑا امتحان تھا۔ تقریباً 2830 میٹر کی بلندی پر، جہاں ہوا میں آکسیجن کم اور خاموشی زیادہ ہوتی ہے، یہ راہ ہر سال موسم کے سامنے ہار مان لیتی۔ سردیوں میں برف اس پر ایسے جم جاتی جیسے کوئی سفید کفن۔ مہینوں رابطہ منقطع رہتا، کشمیر دنیا سے کٹ جاتا، اور اس کٹاؤ میں انسان کی بے بسی نمایاں ہو جاتی۔ یہی وہ تجربہ تھا جس نے بعد میں جواہر ٹنل کی ضرورت کو جنم دیا۔ 1956 میں جب ٹنل بنی، تو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ انسان نے موسم کے مقابلے میں ایک مستقل دروازہ کھول دیا ہے۔ مگر ٹنل کے آنے سے پہلے، BC Road ہی وہ واحد دھاگا تھی جس پر پورا خطہ لٹکا ہوا تھا۔
وقت کے ساتھ اس راہ نے نئے نام اوڑھے۔ کبھی NH-1A، آج NH-44۔ چار لین، جدید پل، لمبی سرنگیں۔رفتار بڑھ گئی، فاصلے سکڑ گئے۔ مگر جدید ہائی وے کے نیچے کہیں نہ کہیں وہی پرانی سڑک سانس لیتی ہے۔ رام بن کے پرانے پل، کُداور پتنی ٹاپ کے موڑ، بانِحال کے آس پاس چھپی ہوئی پرانی کٹنگز۔یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ یہاں سے کبھی ایک اور راستہ گزرا کرتا تھا: تنگ، خطرناک، مگر روح کے بہت قریب۔
جمّوں شہر کی BC Road اس پوری داستان کی شہری شکل ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں قافلے رکتے، جہاں دفاتر بنے، جہاں ہوٹلوں اور دکانوں نے جنم لیا، اور جہاں شہر کی نبض تیز ہوئی۔ یہاں احتجاج بھی ہوئے، جلوس بھی گزرے، سیاست نے آواز بھی اٹھائی، اور عام زندگی نے تھکن بھی اتاری۔ یہ سڑک جمّوں کے اجتماعی شعور میں یوں رچ بس گئی جیسے کوئی پرانا دوست۔کبھی شکایت، کبھی سہارا۔
شام کے وقت اگر کوئی اس سڑک پر ٹھہر کر دیکھے تو روشنیوں کے نیچے صرف گاڑیاں نہیں گزرتیں؛ یادیں بھی گزرتی ہیں۔ کہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کہیں رتھوں کی چرچراہٹ، کہیں مزدوروں کی سانسیں، کہیں برفانی ہوا میں لپٹی دعائیں۔ یہ سڑک اپنے اوپر سے گزرنے والوں کو بھول سکتی ہے، مگر اپنے اندر جمع کہانیاں نہیں بھولتی۔
BC Road ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ راستے محض منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں بنتے؛ وہ خود منزل بن جاتے ہیں۔ وہ طاقت اور کمزوری، امید اور محرومی، وصل اور جدائی۔سب کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ آج جب جدید ہائی وے پر گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں، تو شاید کسی کو یاد نہ رہے کہ کبھی اسی زمین پر سفر ایک عبادت تھا، ایک خطرہ تھا، اور ایک خواب تھا۔ مگر زمین کو یاد ہے، پہاڑوں کو یاد ہے، اور اس سڑک کو یاد ہے۔کہ اس نے انسان کو ہمت سکھائی، انتظار سکھایا، اور یہ بتایا کہ ہر راستہ آخرکار چلنے والوں سے معنی پاتا ہے۔
اگر BC Road بول سکتی تو شاید کہتی: میں نے راجاؤں کے حکم سنے، مزدوروں کی آہیں سنیں، قافلوں کی گھنٹیاں سنیں، اور برف کے نیچے صبر کرنا سیکھا۔ آج میں ہائی وے ہوں، کل میں یاد تھی، اور آنے والے کل میں بھی۔میں راستہ رہوں گی۔ کیونکہ کچھ سڑکیں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں؛ وہ وقت کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں، اور پھر تاریخ بن کر ہمیشہ چلتی رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں