پرویز مانوس
بچوں کے ننھے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہوجائیں گے
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے کسی بھی قوم ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں لیکن وہی بچے،جن کی نظر اپنی زندگی کے ہدف پر مرکوز ہو اور اُن کے والدین اُن کی کارکردگی سے مطمئن ہوں بے شک ہر والدین اس امر میں سنجیدہ ہوتے ہیں لیکن موجودہ دور میں انسانی معاشرہ متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں سے دو سب سے بڑے اور خطرناک چیلنجز منشیات اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا مستقبل اور ستون ہوتی ہے، آج منشیات کی لعنت میں بری طرح گرفتار ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف فرد کی زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی بقا اور ترقی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں کہ وہ بچوں کی شخصیت سازی، رہنمائی اور اخلاقی تربیت کے ذریعئے اس بڑھتے ہوئے رجحان کےسامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہوں۔
جہاں تک منشیات کا تعلق ہے یہ ایک خاموش قاتل ہے جو آہستہ آہستہ جسم، دماغ اور روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس کے نقصانات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ تعلیمی کارکردگی، سماجی تعلقات، اخلاقی اقدار اور معاشی حالات کو بھی برباد کر دیتی ہے۔ پاکستان، بھارت اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سمیت دنیا بھر میں نوجوان نسل منشیات کا آسان ہدف بنتی جا رہی ہے۔ معاشی بے یقینی، سماجی دباؤ، بے روزگاری، غلط صحبت، والدین کی عدم توجہ اور خالی پن جیسے عوامل اس لعنت کو فروغ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کی ابتدائی عمر ہی سے ان پر توجہ دی جائے تو وہ بعد میں برے رجحانات کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ بچوں کے مزاج، عادات اور رجحانات کی تشکیل والدین کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ گھر کا ماحول پرسکون، محبت بھرا اور دوستانہ ہونا چاہیے تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی بات والدین سے کہہ سکیں-
دوسرا مسئلہ سوشل میڈیا کا ہے ،اس میں شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ جُڑنا ہر فرد و بشر کے لئے لازمی ہے لیکن برسوں قبل علامہ اقبال نے یہ شعر شاید اسی دور کے لئے کہا ہوگا کہ :
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
اس سوشل میڈیا نے والدین کے لیے تربیت کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ آج کا چیلنج یہ نہیں کہ بچے کو غلط راستے سے روکا جائے، بلکہ چیلنج یہ ہے کہ وہ غلط راستے کو پہچان ہی نہ سکے۔ اس کے لیے والدین کو خود بھی سیکھنا ہوگا، ٹیکنالوجی کو سمجھنا ہوگا، اور اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ خود بھی تبدیل ہونا ہوگا۔وہ کہتے ہیں نا:
ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
آج کا بچہ زیادہ تر وقت موبائل اسکرین پر گزارتا ہے۔ چاہے وہ یوٹیوب ہو، انسٹاگرام، واٹس ایپ، فیس بک، یا گیمز — بچے ان پلیٹ فارمز پر نہ صرف مواد دیکھ رہے ہیں بلکہ دوسروں سے جڑ بھی رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ والدین کو اکثر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بچے کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں، کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں، اور کس سے رابطے میں ہیں کیونکہ آج کی نسل اپنے وقت سے آگے چل رہی ہے اسی لئے شاعر نے کہا ہے :
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک بہت ہیں
اگر آج ہم نے اس چیلنج کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل کو ہمارے بچے ایسے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں جن کا علاج صرف پچھتاوا ہوگا۔
بچوں کی شخصیت کی تشکیل کی بنیاد میں والدین کا ایک خاص رول بنتا ہے –
ایک بچے کی ابتدائی شخصیت سازی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین ہی بچوں کے پہلے استاد ہوتے ہیں، جن کے اقوال و افعال بچے کی فطرت اور عادتوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو یہ چاہیے کہ وہ کام سے لوٹ کر بچوں کے ساتھ تھوڑا سا وقت ضرور گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کے مسائل کو سمجھیں اور بچوں میں اعتماد پیدا کریں تاکہ وہ ہر بات والدین سے بغیر جھجک کہہ سکیں۔
جب بھی بچوں کے ساتھ بیٹھیں انہیں سچ بولنے، برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی ترغیب دیں۔
نیز نماز، روزہ، سچائی، صبر اور برداشت جیسی تعلیمات دل میں راسخ کریں۔
والدین کا یہ بھی حق بنتا ہے کہ بچوں کے دوستوں کو جانیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ کسی بری صحبت میں نہ پڑیں اسی کے ساتھ خود بھی ایسی زندگی گزاریں جو بچوں کے لیے رول ماڈل بنے۔
اگر گھر پہلی درسگاہ ہے تو اسکول اس کی توسیع ہے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ پانچ سے چھ گھنٹے بچہ اسکول میں گُزارتا ہے جہاں بچوں کی علمی، اخلاقی اور سماجی تربیت ہوتی ہے۔ اساتذہ محض نصاب پڑھانے والے نہیں بلکہ معمارِ قوم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس یہ سنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ نسلِ نو کو ایک بہتر راہ دکھا سکیں۔
ایسے میں یہ۔لازمی ہے اساتذہ کا اپنا کردار مثالی ہونا چاہیے کیونکہ بچے عمل سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔
استاذ کا فرض اولین ہے کہ درسی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو منشیات کے نقصانات سے اور سوشل میڈیا کا صحیح استمعال سے بھی آگاہ کریں اور منفی رحجانات سے بچنے کے لیے رہنمائی دیں۔
استاذ نصاب میں ایسے مضامین، کہانیاں اور ڈرامے شامل کریں جو بچوں کو اچھے اور برے میں فرق سکھائیں۔
اسکولوں میں والدین اور اساتذہ کے باقاعدہ اجلاس ہوں جہاں بچوں کی شخصیت اور رجحانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے۔
تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کے شعبے ہوں جہاں بچے اپنی الجھنیں بیان کر سکیں اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔
ایک استاذ بچے کی زندگی میں ایک والد کا رول ادا کرسکتا ہے اُس کے ذریعئے بچوں کو سکھایا جائے کہ کس طرح اچھے دوست چنیں اور بری صحبت سے بچیں۔
بچوں کے دل میں منشیات کی نفرت پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی آزمودہ ثابت ہوسکتا ہے کہ بڑی کلاسوں کے بچوں کو ایک مرتبہ ضرو ڈی اڈکشن سینٹروں کا دورہ کراکے منشیات کے عادی لوگوں کی حالت دکھائیں –
صرف والدین اور اساتذہ ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ منشیات کے خلاف ایک مؤثر ماحول فراہم کرے۔ حکومت، میڈیا، علماء، ادباء، اور سماجی ادارے سب مل کر اس ناسور کے خلاف جنگ لڑ سکتے ہیں۔
نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت پر سخت قانون سازی ہو اور اس پر عملدرآمد بھی ہو۔
مختلف پلیٹ فارمز پر منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ، مشاعرے، تقریری مقابلے، اور دیگر مفید سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ بے راہ روی سے بچ سکیں۔
منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس لعنت سے بچنے کے لیے ایک منظم، مربوط اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ گھر میں ایک دوستانہ اور مثبت ماحول پیدا کریں، بچوں کو وقت دیں اور ان کی شخصیت پر توجہ دیں۔ اساتذہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور سماجی رہنمائی کا بھی فریضہ انجام دیں۔ اور بحیثیت معاشرہ ہم سب کا فرض ہے کہ نسلِ نو کو اس تباہ کن راستے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اگر ہم آج یہ شعور پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کل کا معاشرہ صحت مند، باشعور اور ترقی یافتہ ہوگا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم غفلت کی نیند سے جاگ کر اپنے بچوں کو منشیات اور سوشل میڈیا کے جال میں پھنسنے سے بچائیں، اور ان کے لیے ایک محفوظ، روشن اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھیں اور علامہ اقبال ک روح بھی مخر محسوس کرتے ہوئے کہہ اُٹھے :
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
شکریہ
