کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوا 0

قرآنی شخصیات

الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

قرآن کے دو واسطے ہیں جن سے قرآن کریم ہم تک پہنچا ۱۔ جبرائیل علیہ السلام جنہوں نے اللہ تعالٰی سے حاصل کیا اور پھر امام کائنات تک پہنچایا ،،پھر امام کائنات سے اصحاب نبوی علیہ السلام نے سنا سمجھا اور امت تک پہنچایا سو گر اصحاب نبوی علیہ السلام کی معتبریت پر بات کرو گے تو قرآن کریم کے کتاب الہی ہونے میں شک و شبہہ میں پڑھ جاؤ گے ،،
علوم اسلامیہ کے مآخذ و مراجع میں اصحاب نبوی علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان ہوئے ہیں جن میں کئی نامی گرامی اصحابؓ کا نام لے لے کر ان کی خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے سو تاریخی کتابوں کا سہارا لے کر تم ان پر تنقید کرو گے تو جہالت کے سوا تمہارے ہاتھ کچھ نہ آیے گا ،،گر تم نے ان تاریخی روایات کا سہارا لے کر تنقید کرو گے تو ظلمات کی نذر ہوکر رہ جاؤ گے کیوں کہ علوم نبویہ علیہ السلام کے اولیں سامعیں کی معتبریت جب باقی نہ رہے گئی تو پھر علوم نبویہ علیہ السلام پر بھی سوالات اٹھیں گئے سو ایسے فتنے اٹھنے سے پہلے ہی مسل دو ،،، گر تم نے تاریخ کے اوراق سے احادیث کو پرکھنا شروع کیا تو یہ گمراہی کی جانب پہلا قدم ہوگا تاریخ کے لکھنے والوں نے بنا وضو اور بنا پاکی حاصل کئے بھی تاریخ مرتب کی ہوگئی پر محدثین نے صرف وضو ہی نہیں بلکہ نماز شکرانہ و دعاؤں کا اہتمام بھی کیا ہے کہ رب کریم اپنی بارگاہ میں اس کام کو قبول کرے یہی سبب ہے کہ
امام بخاری کے پاس چھ لاکھ احادیث کا مجموعہ تھا، جن میں سے انہوں نے 7275 احادیث کو اپنی کتاب میں شامل کیا.
صحیح مسلم میں احادیث کی کل تعداد تقریباً 7,563 ہے، جس میں مکرر احادیث بھی شامل ہیں۔ اگر مکرر احادیث کو نکال دیا جائے تو صحیح مسلم میں احادیث کی تعداد تقریباً 3,033 رہ جاتی ہے. امام مسلم نے یہ احادیث تقریباً 300,000 احادیث میں سے منتخب کی تھیں۔۔۔۔۔
ان دونوں صاحبان نے علم حدیث کی خدمت جن پاکیزہ جزبوں سے کی وہ رہتی دنیا تک ان کا امت پر احسان ہے اب کوئی موجود زمانے میں اٹھ کر کہئے کہ احادیث کی یہ کتب معیار حق نہیں بلکہ فلاں مورخ فلاں دانشور نے ایسا لکھا ہے ویسا لکھا ہے تو وہ ظالم ہے و فاسق و فاجر کے اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا اصحاب نبوی علیہ السلام کے فضائل و مناقب جن میں اھل بیت خلفائے راشدین عشرہ مبشرہ یا بقیہ اصحاب نبویہ علیہ السلام کا تذکرہ بالخیر ائمہ حدیث نے کیا ہے اس لئے کتب احادیث کو لازم پکڑیں اور اپنے اسلاف سے محبت کریں ویسے اھل بیت و اصحاب نبوی دونوں کے لئے اسباق قرآنی کافی ہیں مفسرین کو پڑھیں خوب پڑھیں علماء و فضلاء سے جڑیں گلی محلے میں دانشوری کے بخار میں مبتلاء افراد سے اعراض کریں اور اپنا ایمان بچائیں
قرآنی شخصیات
چند باتیں غور طلب
اصحاب رسول کا قرآنی تذکرہ:
سورۃ التوبہ:
اس سورت میں مہاجرین اور انصار کا ذکر ہے، جو اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات تھیں۔
سورۃ الفتح:
اس سورت میں حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والے صحابہ کا ذکر ہے، جنہیں رضوان کی بیعت کرنے والے کہا جاتا ہے۔
سورۃ الحشر:
اس سورت میں مہاجرین اور انصار کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان کی قربانیوں کا ذکر ہے۔
اسی طرح قرآن کریم میں کئی جگہوں پر ان کے تذکرے ملتے ہیں آئیں اس تذکرے سے استفادہ کریں یہاں صرف مختصر ہوگا آپ اپنی پسندیدہ کسی بھی تفسیر کو اٹھائیں اور مزید معلومات حاصل کریں
لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ‌ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ
اس آیت میں قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی صداقت کو بیان کیا گیا ہے۔ لفظ “باطل” سے مراد جھوٹ، غلط بیانی، تحریف اور کسی بھی قسم کی ناپسندیدہ چیز ہے۔ “مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ” کا مطلب ہے آگے سے، یعنی قرآن کے نازل ہونے سے پہلے یا اس کے زمانے میں۔ “وَلَا مِنْ خَلْفِهِ” کا مطلب ہے پیچھے سے، یعنی قرآن کے نازل ہونے کے بعد یا آنے والے زمانوں میں
صحابہ سراپا ادب اور پیکر تقویٰ تھے
اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)
ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔
کفروفسق سے محفوظ تھے
وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)
ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔
عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ‎﴾‏
’’ ﷲ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار کے حال پر بھی ، جنہوں نے تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا ، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہوچلا تھا ، پھر ﷲ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی ،بلا شبہ ﷲ تعالیٰ ان سب پر بہت شفیق ومہربان ہے ۔‘‘
جب ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ ’’ صحابی ‘‘ کسے کہتے ہیں توآئیے دیکھتے ہیں کہ ﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تذکرہ کس انداز میں کیا ہے ؟اور کس طرح ان کی تعریف فرمائی ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‎١٠٠﴾
’’اور مہاجرین وانصار میں سے وہ اوّلیں لوگ جو کہ ( ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں ) دوسروں پر سبقت لے گئے اور وہ دوسرے لوگ جنہوں نے ان سابقین کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی،ﷲ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ سب ﷲ سے راضی ہوگئے اور ﷲ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی ، ان میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ ( اور ) یہی عظیم کامیابی ہے ۔‘‘
اس آیت کریمہ میں ﷲ تعالیٰ نے تین قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے :
1۔ مہاجرین، جنہوں نے رب العزت کے دین کی خاطر اپنے آبائی وطن اور مال ومتاع کو چھوڑا اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
2۔ انصارِ مدینہ ، جنہوں نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نصرت ومدد کی اور ان کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔
ﷲ تعالیٰ نے ان دونوں ( مہاجرین وانصار ) میں سے ان حضرات کا تذکرہ فرمایا ہے جو ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں سبقت لے گئے ، یعنی سب سے پہلے ہجرت کرکے اور سب سے پہلے ایمان قبول کرکے وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنے ۔
3۔ وہ حضرات جنہوں نے ان سابقین اولین کی اخلاص ومحبت سے پیروی کی اور ان کے نقشِ قدم پہ چلے ۔ ان میں متأخرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین اور قیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ شامل ہیں جو انہیں معیارِ حق تصور کرتے ہوئے ان کے پیروکار رہیں گے
﴿وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا ﴾‏
’’جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذا دیں وہ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں‘‘
اس آیت میں مومنوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس امت کے اوّلین مومنین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ۔ تو انہیں سب وشتم کے ذریعے ایذاء پہنچانا قرآن مجید کے الفاظ میں بہتان اور واضح گناہ ہے ۔
رسول کائنات ﷺ کا مبارک اور واضح فرمان
( قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ))
’’ میری صدی کے لوگ (سب سے بہتر ہیں) ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ۔ ‘‘
ذرا سوچیں!
کن حضرات نے لوگوں میں قرآن کی تعلیمات عام کیں، ارکان دین لوگوں کو سیکھائے، شرعی احکامات کی تعلیم دی، فرامینِ الہی اور سنتِ نبوی کو عام کیا؟
لوگوں نے نماز ، روزہ، حج، لین دین، نکاح ، طلاق، اور لڑائی جھگڑے میں فیصلے کا طریقہ کیسے سیکھا؟
لوگوں کو جنت کی نعمتیں کس نے بتائی؟ جہنم کے عذاب کے بارے میں کس نے بتایا؟
انہیں توحید کا کیسے پتہ چلا؟ درست عقیدہ انہیں کہاں سے ملا؟
باری تعالی کے اسماء و صفات کا کیسے علم ہوا؟ درست اور غلط منہج میں کیسے تفریق کی؟ اور اہل بدعت کے طریقے سے کس نے روکا؟
مکارمِ اخلاق اور فضائلِ اعمال لوگوں کو کس نے بتائے؟
کیا یہ سمجھتے ہو کہ تمام انسانیت سے افضل نبی کیلئے اللہ تعالی نے جھوٹے ساتھیوں کا چناؤ کیا؟ جو اللہ اور اسکے رسول پر تہمت لگاتے ہوں؟!! حیف ہے ایسی سوچ پر کہ اپنے بڑے بزرگوں یا مشائخیں کے لئے صرف مدح سرائی کرتے ہوئے نہیں تھکاوٹ محسوس کرتے بلکہ اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دفاع میں ان کے من گھڑت فضائل میں ان کی عزت و تکریم کے باب میں زمیں و آسمان ایک کر دیتے ہیں پھر یہ قابل صد آفرین شخصیات اور معتبر ترین شخصیات جو امام کائنات ﷺ کے سفر و حضر میں ساتھ ہی نہیں بلکہ مال و جان سمیت قربان ہونے کو تیار رہتے تھے جنہوں نے بھوک پیاس خوف و مصائب و مسرت میں نبی ﷺ سے وفا صرف وفا کی اب آج کے زمانے میں ان پر جرح و تعدیل کی جائے جن کا ایمان و یقین رب کریم نے بیان کیا جن کے اعمال و ایمان کو نبی ﷺ نے قبول کیا اب آج کوئی کھڑے ہوکر کہدے کہ یہ حرف آخر نہیں ہیں نہ ہی تنقید سے بالا ہیں تو یہ خود کو پھر کیوں تنقید کے لئے پیش نہ کرسکے ان کے متبعین کو کاٹنے کو دوڑتے ہیں جب ان پر کوئی لب کشائی کرتا ہے آؤ مل کر ہم قرآنی شخصیات سے جڑ جائیں ان کی پاکیزہ تعلیمات اور زندگی سے اسباق لیں اور کامیابی کی راہ کا انتخاب کرکے خیر دارین کے حصول کو ممکن بنائیں اپنے لئے ۔

����
فی امان اللہ
الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر 🖊
باقی آئندہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں