– بلال کشمیری
شبینہ آرا، وادیٔ کشمیر کے ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ ہیں۔ وہ شاہو سچن کی رہائش پزیر ہے اور محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ “یادِ تنہا کبھی نہیں آتی” منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں تقریباً 150 غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔
ان کی شاعری میں گہرائی بھی ہے اور تجسس بھی۔ شبینہ آرا نے نعتیہ اشعار نہ صرف سنہری الفاظ میں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عطرِ گلاب سے منہ دھو کر لکھے ہوں۔ مثال کے طور پر:
ذکرِ نبی ﷺ کا قیمتی لمحہ خرید لوں
آنکھوں کے دشت کے لیے دریا خرید لوں
شاہِ عرب کے در سے مجھ کو بھیک چاہیے
میں اپنا تاج بیچ کر کاسہ خرید لوں
ان اشعار میں عشقِ رسول ﷺ، عاجزی اور روحانی وابستگی نمایاں ہے۔
ان کی شاعری میں مختلف موضوعات کا عکس ملتا ہے۔ ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے اپنے جذبات کو شبینہ آرا نے الفاظ کا لباس عطا کیا ہو۔
نظم “نوید” میں انہوں نے خدا کے گھر کی عظمت کو نہایت پرشکوہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اسی نظم میں پیغام دیا گیا ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے زمانۂ جاہلیت میں زندہ دفن کی جانے والی لڑکیوں کو نہ صرف بچایا بلکہ انہیں وہ عزت و وقار عطا فرمایا جس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔
نظم “اتنی خالی ہوں” میں شاعرہ لکھتی ہیں کہ اگرچہ انسان کے ہاتھ خالی ہوں اور قسمت کی لکیروں کے سوا کچھ نہ ہو، تب بھی اُسے خدا پر بھروسا رکھ کر آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
اسی طرح نظم “اے موت! ذرا مہلت دے دے” میں وہ موت کی تیاری اور قبر کی تاریکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چند لمحوں کی مہلت کی التجا کرتی ہیں۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر وہ محلوں میں رہنے والی ہے تو قبر کی سادگی و تاریکی میں کیسے گزارا کرے گی؟ اس لیے وہ دعا کرتی ہیں کہ کچھ وقت ملے تاکہ وہ نیک اعمال کے ذریعے اپنی قبر کو روشن کر سکے۔ یہ پیغام ہر قاری کے لیے ہے کہ وہ بھی اپنی زندگی کو اعمالِ صالحہ سے بھر دے۔
نظم “یادِ تنہا کبھی نہیں آتی” میں وہ لکھتی ہیں کہ انسان چاہے جتنا بھی مضبوط ہو، کسی نہ کسی کی یاد اسے ضرور ستاتی ہے، اور اکثر یہی یادیں زندگی کا سہارا بن جاتی ہیں۔
شبینہ آرا نے اس شعری مجموعے کے ذریعے اپنی شاعرانہ پختگی کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔ ان کی غزلوں میں ایسے باکمال اشعار ملتے ہیں جن میں فکری وسعت اور معنوی گہرائی پائی جاتی ہے، جیسے:
نیم راتوں کی بندگی ہوں میں
ریگزاروں کی خامشی ہوں میں
موصوفہ کی ہر نظم اور غزل ایک الگ سبق دیتی ہے۔ میں قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مجموعے کو دل کی گہرائیوں اور آنکھوں کی پاکیزگی سے پڑھیں، کیونکہ یہ صرف شعری مجموعہ نہیں بلکہ سبق آموز تجربات اور روحانی تاثرات کا خزینہ ہے۔ یہ نئی نسل اور نو آموز شعرا کے لیے ایک راہِ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔
وہ اکثر خواب میں آ کر میرے ہمراہ چلتا ہے
مجھے اب نیند میں چلنے کی بیماری نہ ہو جائے
– بلال کشمیری
اوہل، اہرہ بل
