کرنل صوفیہ قریشی سے پریس بریفنگ کرانے میں بھارت کی وحدت کے مظاہرے کا اہم لمحہ اور قومی تعمیر میں ہر شہری کی شراکت داری کا پیغام 0

چلنت: نقل مکانی ، یادداشت اور معنویت کا صوتی فلسفہ

شمشاد کرالہ واری
15 جولائی 2025 کو ساہتیہ اکادمی نئی دلی کی طرف سے عبدالاحد آزاد میموریل ڈگری کالج بمنہمیں ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں موسیقی اور شاعری کی ایک ہمہ جہت اور علامتی شخصیت غلام نبی ڈولوال جانباز کشتواری کی یاد میں گفتگو ہوئی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے اس کثیر الجہات شخصیت پر مقالہ پیش کیا، جن کی کشمیری ثقافت کے تعین خدمات بے مثال رہی ہیں۔
اگرچہ سمینار میں ڈولوال صاحب کی دین پر بھرپور گفتگو ہوئی ۔خصوصاً ان کے اس منفرد اندازِ موسیقی چلنت کو متعارف کرانے اور مقبول بنانے کے کردار پریہ قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ اس مخصوص طرزِ موسیقی پر ایک مکمل مقالہ پیش بھی کیا گیا لیکن اس کے ماخذ سے متعلق اکثر حوالہ جات زبانی روایت پر ہی مبنی تھے۔جو بزرگوں کا کہنا تھا کہ “چلنت” کی اصطلاح ڈولوال صاحب نے خود وضع کی، اور اس کا کوئی سابقہ لغوی یا معنوی وجود نہیں تھا۔
تاہم، میں نے اپنے مقالے اور صدارتی کلمات میں اس خیال کو احترام کے ساتھ چیلنج کیا، اور یہ مؤقف پیش کیا کہ “چلنت” کا لفظ یہاں کی موسیقی میں استعمال سے پہلے بھی موجود تھا اور اس میں لغوی معنی اور فلسفیانہ گہرائی پائی جاتی ہے۔ میرے نزدیک یہ طرزِ موسیقی صرف ایجاد نہیں بلکہ احیاء، ازسرِ نو اور فکری سیاق و سباق میں تشکیل نو ہے، جو ڈولوال صاحب کی موسیقی اور شاعری کے باہم مربوط فنونِ لطیفہ میں گہری بصیرت کا مظہر ہے۔
درج ذیل عبارت میں، میں چلنت کے طرزِ موسیقی پر کی گئی تحقیقی مطالعہ پیش کر رہا ہوں، جو دستاویزی شواہد اور تاریخی تناظر پر مبنی ہے۔ میری کوشش ہے کہ اس کے ماخذ، ارتقاء، اور ثقافتی اہمیت پر بامعنی مکالمہ جنم لے، ڈولوال صاحب کی فکری اور فنی عظمت کو تسلیم کیا جائے اور انکی وسیع النظری کی داد دی جائے ۔
میں ان شاء اللہ، اپنی اگلی تحریر میں ان کی شاعری کے مجموعے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا، جو نہایت ہی احترام اور علمی بصیرت کے ساتھ توجہ کا مستحق ہے۔
چلنت کوئی الگ صنف موسیقی نہیں بلکہ ایک فکری کیفیت ہے۔
جدید موسیقی کی سیال ساخت میں، چلنت کوئی مخصوص صنف نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور جمالیاتی موقف ہے۔ یہ “nonchalant” (بے پرواہی) کے بالکل برعکس ہے یعنی بے حسی سے انکار۔ چلنت ایک جذباتی اعلان ہے، ایک عہد کہ ہم پرواہ کریں گے، جوڑیں گے، اور موجودہ دور کی بے ترتیبی کا سامنا کریں گے۔
غلام نبی ڈولوال جانباز کشتواری کے لیے چلنت ایک شاعرانہ فلسفہ تھا ثقافتی یادداشت کو محفوظ رکھنے، سچ بولنے، اور خاموشی کی مزاحمت کا ذریعہ جو اسکے لغوی معنی میں سے ہے۔ جسکی شروعات” چلنت” ،نامی آسٹریلوی-لبنانی فنکار نے ایک صوتی بغاوت کے طور پر کی ہے کرب اور فکر انگیز لے(R&B)گرنج( Grounj)، ہپ ہاپ (Hip Hop) ، اور سنتھ ویو ( Synithview) کے امتزاج سے بنی ایک ایسی موسیقی جو شہری زندگی کی دردناکیوں ،عوامی بے حسی کے برعکس اور نقل مکانی کے درد کو آواز دیتی ہے۔چلنت نامی اس فنکار کے نام سے سڈنی میں چلن سٹیج بھی موجود ہے۔ جہاں لوگوں کے سامنے چلن پیش کئے جاتے ہیں۔
چلنت کی فکری بنیادیں:-
– غور سے سنا جائے تو کشمیری تصوف میں جڑیں رکھنے والا چلنت فنکار کو ربط، تخلیق، اور سوچنے اور فکر کی دعوت دیتا ہے۔
– ڈولوال صاحب کا کام گندھارا-یونانی فکری امتزاج کی جھلک پیش کرتا ہے، جہاں عقل اور جذبہ، منطق اور وجد ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔
– ناگ سینی جیسے تاریخی کردار، جنہوں نے یونانی-بدھ فکر کو جوڑا، چلنت کے فکری اصولوں کی علامت بن جاتے ہیں جہاں زبانیں، ثقافتیں، اور شعور ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ کشمیر اور کشتواڑ کو صوتی تاثر سے اونچی پہاڑی فصیلوں کو ہموار کرکے ایک سطح پر لایا۔
نقل مکانی بطور یادداشت: کشمیر سے کشتواڑ تک
تاریخی طور پر، کشتواڑ ایک پرامن پناہ گاہ رہا ہے جہاں ویدی موسیقی، کد رقص ( Kud Dance )، اور روحانی رواداری کا ماحول تھا۔ راجہ مہا سنگھ کے دور میں، جب کشمیر میں بے چینی تھی، اننت ناگ جیسے علاقوں سے کئی مسلمان خاندان امن اور ثقافتی تسلسل کی تلاش میں کشتواڑ منتقل ہوئے۔
– یہ مہاجرین اپنے ساتھ صوفی شاعری، لوک ساز کی شیرینی ، اور فکری گہرائی لے کر گئے۔
– ڈولوال صاحب کے آبا و اجداد ویسو سے ہجرت کر کے گئے، اور ان کا فن اسی لاشعوری ہجرت اور مزاحمت کی زندہ یادداشت بن گیا۔
– چلنت اسی زمین سے ابھرا ایک ایسا امتزاج جو کشمیری شاعری اور چناب وادی کی لوک لے کو یکجا کرتا ہے۔
وادی میں چلنت کی واپسی: روح کا ملاپ تھا:-
جب چلنت 1970 کی دہائی میں ریڈیو کشمیر ، ٹائیگوراور بعد ازاں جشنِ کشمیر کے ذریعے سری نگر پہنچا، تو یہ صرف موسیقی کا ظہور نہیں تھا بلکہ ایک روحانی بازگشت تھی۔ ملاپ تھا۔
– اس کے موضوعات الہی محبت، وجودی تڑپ، اور ثقافتی وحدت کشمیریوں کے دلوں میں گہرائی سے گونجے:-
– بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ ان کی ثقافتی شناخت کے جدا شدہ حصے کی آواز ہے، جو جذباتی جوڑ کرتے ہوئے لوٹ آئی ہے۔
– ڈولوال صاحب کی پرفارمنسز یادداشت کے پل بن گئیں، جو کشمیریوں کو ان کے ماضی کے نقل مکانی کے کرب اور شاعرانہ روح سے دوبارہ جوڑتی تھیں۔
مغربی سڈنی: چلنت بطور نقل مکانی کی بازگشت:-
اس کے برعکس، مغربی سڈنی ایک ایسی زمین ہے جہاں مہاجرتی جدوجہد اور تخلیقی مزاحمت کی کہانیاں کشتواڑ کی طرح ہی بکھری ہوئی ہیں:
– وہاں لبنانی، افغانی، عراقی، اور سوڈانی کمیونٹیاں اس کی ثقافتی ساخت کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔
– ونہی “چلنت” نامی ایک فنکار نے اسی مہاجرتی تناؤ کو آواز دینا شروع کر دیا ہے جس کی موسیقی اور اشعار گمشدہ شناخت، بے وطنی، اور شہری زوال کی صوتی ڈائری ہے۔ اس نے بھی گائے ہوئے اشعار سے سماجی زہر کی تلخی کا سامنا کرنے کا اظہار کیا ہے، جسکی موسیقی کا صوتی منظرنامہ پر اثر گونج اور نزاکت کو یکجا کرتا ہے:-
چلنت کی صوتی ساخت:-

فکری جذر

|جذباتی وابستگی
| ثقافتی امتزاج
| فلسفیانہ تنقید
| جائے پناہ میں اپنی بازیافت

چلنت کی صوتی ترجمانی

غور و فکرسےبھرپور۔
R&Bدرد بھری لے اور موسیقی کا امتزاج
شناخت، اندرونی کرب، اور حیات بخش اشعار
مغربی سڈنی بطور کرب درون میں تخلیقی تربیت
کشتواڑسڈنی کی ہم آہنگی: جگہ بطور استعارہ:-
کشتواڑ اور سڈنی دونوں نقل مکانی، یاد داشت، اور تعمیر نو سے تشکیل پائے:
– کشتواڑ نے صوفیانہ سوچ کی ترقی، یونانی- بدھ فکر، اور سیاسی پناہ یابی کو جذب کیا۔
– سڈنی، جو قیدیوں کی آمد، یورپیوں کی نقل مکانی ، اور مشرق وسطیٰ کی آبادکاری سے بنا، اسی طرح کی کشمکش کا مظہر ہے۔
– دونوں جگہوں پر فن عوامی پناہ گاہ بن گیاجہاں بے وطنی نے سر اور لے پائی،جس نے یاد داشت کو نغمہ بنا دیا ۔
قابلِ ذکر ہے کہ سڈنی صنعتی ترقی سے پہلے وہ عظیم شہر نہیں تھا جیساکہ آج ہے۔ اس کی گلیاں اور کوچے، بالکل ویسے ہی تنگ اور تہذیبی طور پر طرح دار تھے جیسے ڈولوال صاحب نے کشتواڑ میں جیے اور محسوس کیے ہیں۔ یہ بستیاں جدوجہد، اجتماعیت، اور آہنگ سے لبریز تھیں، اور یہی فضا دونوں مقامات کے چلنت میں جھلکتی ہے۔
تاریخی مماثلتیں:-
– یونانی اور اطالوی ہجرت سڈنی کی طرف بھی، اور کشمیر میں یونانی اثرات کی یکساں یاد دلاتی ہے۔
– برطانوی نوآبادیاتی نظام ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں میں ثقافتی، ادبی، اور معاشرتی ارتعاش کا سبب بنا ہے-
– ناگ سینی اور بادشاہ ملندا ( مینندر-1)کی فکری گفتگو گویا وہی بین الثقافتی غور و فکر ہے جو چلنت اپنی موسیقی میں تلاش کرتا ہے۔
آلاتی مہارت: وہ ہاتھ جنہوں نے چلنت کو تراشا:-
جیسے جیسے چلنت نے ارتقاء پایا، ویسے ویسے اس کا آلاتی منظرنامہ بھی وسعت اختیار کرتا گیا۔ شروع میں ڈولوال صاحب نے مقامی اشیاء جیسے پانی پینے کا تامبے کا گلاس، چمچ، اور ڈھولکی کو استعمال کیا۔ مگر بعد میں انہوں نے بینجو، اور ڈھولک جیسے کلاسیکی سازوں کے ساتھ ساتھ ہارمونیم اور کئی دیگر آلات کو بھی شامل کیا ہے، اور ان میں سے چند ایک پر کمال کی مہارت حاصل کی تھی۔
– بینجو نے چلنت کو ایک حقیقی گہرائی دی۔
– بانسری، جس کی آواز روحانی تڑپ کا مظہر ہے، چلنت کے جذباتی آسمان میں پرواز کراتی رہی۔
– ڈھولک، طبلہ اور نوٹ جو جذبات اور ریاض کی خوبصورت آمیزش ہے، چلنت کی دھڑکن بنی۔
ڈولوال صاحب کی یہ آلاتی مہارت صرف فنکارانہ نہیں، بلکہ روحانی اور جمالیاتی تھی جیسے ہر ساز ان کے باطن کا اظہار ہو۔ وقت اور کلام کی نزاکت کو دیکھ، سارنگ ، رباب اور تان پورے کا بھی استعمال کیا گیا ۔
چلنت: ایک صوتی شناخت ہے جو ڈولوال نے ایک سنگ تراش کی طرح آشکار کی:
مشہور سنگ تراش مائیکل اینگلو نے کہا تھا: “تصویر سنگ مرمر میں پہلے سے موجود ہوتی ہے جو چاہتی ہے کہ اسکو آزاد کیا جائے، مجسمہ ساز صرف اس کا سنگین پردہ اٹھا کر اسکو آزاد کرتا ہے۔” بالکل اسی طرح، غلام نبی ڈولوال نے چلنت کو سنگ تراش کی طرح عیاں کیا ہے ۔ لہذا
انہوں نے چلنت کو “ایجاد” نہیں کیا بلکہ پہچانا، تراشا، اور اس میں روحانی صداقت بھر دی۔ اسی وجہ سے چلنت میں پیش کرنے کیلئے ان کی توجہ صرف بہترین شاعری پر رہی، وہ محفل میں غیر سنجیدگی برداشت نہیں کرتے تھے، اور منتظمین کی فرمائش کو فن کی توہین سمجھتے تھے۔ چلنت ان کے لیے محض تفریح نہیں تھی بلکہ ایک اخلاقی اور جمالیاتی عطیہ۔
ڈولوال صاحب نے محمود شہری (جس نے مہجور کشمیری جیسے شاعر کو عوام سے متعارف کروایا) سے بھی آگے بڑھ کر( مقدار کے حساب سے) رسا جاودانی اور کئی کم معروف مگر گہرے اثر رکھنے والے شعرا کو عوام کے سامنے لا کر بلند مرتبت بنایا، جن کا کلام چلنت کے مزاج سے ہم آہنگ تھا۔یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے نام والے نئے شاعروں کا کلام گا یا نہیں کیونکہ ان کا کلام اس خاصیت سے عاری تھا جو چلنت کے لئے خاص ہے۔
اسی تناظر میں، چلنت ایک صنف نہیں بلکہ ایک صوتی وحی ہے، جو کشتواڑ کی ثقافت کی چٹان سے ابھر گئی، اور جسے صرف وہ فنکار مجسم کر سکتا تھا جو جانتا ہو کہاں اور کیسے ضرب دینی ہے، اور کیا محفوظ رکھنا ہے
قصہ مختصر کہ(بے پرواہ یعنی nonchalant) کے مقابلے میں، چلنت ایک صوتی ترجمانی کرتے ہوئے پرواہی کی عبادت گاہ بن گیا جہاں قدیم فلسفے اور جدید بحرانی کیفیت مکالمہ کرتے ہیں۔یہ صرف موسیقی نہیں بلکہ جذباتی نقشہ نگاری ہے جو روح کے مناظر کو وقت، مقام، شناخت کے پار کھینچتی ہے۔
کشتواڑ کے مقدسں آستانوں سے لے کر سڈنی کی گلیوں تک، چلنت بطور یاد دہانی، صوتی مزاحمت، اور محبت بانٹنے کی ایک آواز ہے جو اس انتظار میں ہےکہ کب کوئی نیا ڈولوال پیدا ہو، جو خاموشی کے سنگینی کو پھر سے تراش کر اس کو پھر سے عروج پر پہنچا سکے۔
اگرچہ آج کئی گلوکار، موسیقی کے کلب، اور خصوصی گروہ جن میں ڈولوال صاحب کی بیٹی جہان آرا جانباز بھی شامل ہیں اور جن کی آواز کشمیری عوام میں بے حد مقبول ہے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ چلنت کے ورثے کو زندہ رکھا جائے اور محفوظ کر کے نئی نسل تک پہنچایا جائے، مگر پھر بھی غلام نبی ڈولوال جیسی ہمہ گیر شخصیت کا کوئی نعم البدل نظر نہیں آتا۔ ان کی مہارت صرف فنی نہیں بلکہ روحانی، فکری، اور جذباتی طور پر بے مثال تھی۔ چلنت ان کے ہاتھوں میں ایک موسیقی کا انداز نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی روایت بن گیا۔ جس میں ہر سُر، ہر ساز، اور ہر شعر یاد، اخلاق، سچائی اور صداقت سے لبریز تھا۔
آج کے فنکار احترام اور جذبے کے ساتھ اس انداز کو آگے بڑھا رہے ہیں، مگر اصل روح ابھی بھی انتظار میں ہےکہ کون اسے خاموشی کی چٹان سے اوپر اٹھاکر پھر سے تراش کر زندہ جاوید بنائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں