استاد: علم کا چراغ اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی 0

یہ ہے بھیونڈی صاحب… پنجے کے چلنا!

… یہاں سڑکوں پر گاڑیاں نہیں، صرف ہمت، دعائیں اور برداشت چلتی ہے!
(ایک مزاحیہ، طنزیہ اور سنجیدہ جائزہ)

مومن فیاض احمد غلام مصطفی

کہتے ہیں انسان کو چاند پر پہنچنے کے لیے صرف سائنسی ترقی درکار ہے، لیکن اگر وہی انسان بھیونڈی کی سڑکوں پر سفر کر لے، تو اسے فوراً احساس ہو جائے گا کہ چاند کی سطح اس سے بہتر اور ہموار ہے!
بھیونڈی کی سڑکیں اب سڑکیں نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ گاہ ہیں جہاں ہر شہری “ایڈونچر” کے موڈ میں نکلتا ہے اور “ایمرجنسی” کے موڈ میں واپس آتا ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ ایک بائیک سوار جب روز ایک ہی گڑھے سے ٹکرا کر گر جاتا ہے، تو وہ کیا سوچتا ہو گا؟
شاید یہی: “یہ سڑک نہیں، ایک روزمرہ کا امتحان ہے!”
ایک شہری نے سڑک کے بیچوں بیچ لکھ دیا تھا:
“Welcome to Craterland – Sponsored by Silence of Authorities!”
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ بورڈ کئی دن تک ویسا ہی رہا، مگر سڑک نہیں بدلی!
کیا واقعی عوام بے حس ہو چکی ہے؟
نہیں! عوام روز شکایت کرتی ہے، مہمیں چلاتی ہے، احتجاج کرتی ہے، مگر جواب؟
“بارش ہو رہی ہے”… “فنڈ نہیں ہے”… “فائل آگے بھیج دی ہے”…
یہ جملے نہیں، بلکہ عوام کی امیدوں کے تابوت پر کیلیں ہیں۔
کتنے ٹیکس، کہاں کی سہولیات؟
بھیونڈی شہر سالانہ کروڑوں کا ٹیکس دیتی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس، جی ایس ٹی، بجلی بل، فکس چارجز، پنالٹی، پارکنگ فیس… آخر یہ سب کس کھاتے میں جا رہا ہے؟
عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ:
“ہمارے پیسوں سے اگر سڑک بھی نہیں بن سکتی، تو پھر ہمارا شہری ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟”
ٹورنٹ پاور لمیٹیڈ – ایک الگ داستان:
بجلی کمپنی کی بلنگ پالیسی اب لطیفہ بن چکی ہے۔ ایک عام گھر کو بھی کئی مرتبہ پانچ ہزار سے زائد کے بل دیے جا چکے ہیں، جبکہ بجلی جاتی زیادہ ہے، آتی کم ہے۔ عوام بل ادا کرے، اور سڑک پر دھکے بھی کھائے؟ یہ کیسا انصاف ہے؟
منتخب نمائندے کہاں ہیں؟
سیلفی، سوشل میڈیا پوسٹس، ربن کاٹنے کی تصویریں… سب کچھ ملتا ہے، بس ترقیاتی کام، سڑکوں کی مرمت اور عوامی سروے غائب ہیں! کیا ہمارا نمائندہ صرف الیکشن کے دنوں میں ہی جاگتا ہے؟
طنز میں چھپی سنجیدگی:
بھیونڈی کی سڑکیں “ورلڈ ریکارڈ” بنانے کے قابل ہو چکی ہیں – “شہرِ گڑھاپور” کے نام سے!
کیا ہم واقعی اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ سڑک کے بیچوں بیچ پڑنے والے گڑھے کو “قدرتی آبی ذخیرہ” سمجھ کر قبول کر لیں؟
ایک شہری کا خواب: ایک بزرگ شہری کی بات یاد آتی ہے:
“میری زندگی میں اگر ایک بار بھیونڈی کی تمام سڑکیں بغیر گڑھوں کے دیکھ لوں، تو سمجھوں گا کہ واقعی تبدیلی آ گئی ہے۔”
افسوس، وہ بزرگ اب چلنے کے قابل نہیں رہے، لیکن گڑھے اب بھی چل رہے ہیں۔
عوامی تجویز: عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ شہر کی سڑکوں کے ساتھ ‘قبل’ اور ‘بعد’ کی تصویری رپورٹس عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
ساتھ ہی، سڑک کی دیکھ بھال کے لیے ایک “پبلک ریویو بورڈ” بنایا جائے، جس میں مقامی رضاکار شامل ہوں، جو اصل رپورٹ دیں کہ کام ہو بھی رہا ہے یا صرف بل پاس ہو رہے ہیں۔
آخر میں ایک بار پھر…
یہ بھیونڈی ہے صاحب… یہاں سڑکوں پر گاڑیاں نہیں، صرف ہمت، دعائیں اور برداشت چلتی ہے!
یہاں ہر گڑھا اپنی کہانی سناتا ہے، اور ہر شہری ایک مزاحیہ فلم کا کردار بن جاتا ہے۔
کب تک؟ آخر کب تک؟
����
مومن فیاض احمد غلام مصطفی
ایجوکیشنل و کریئر کونسلر
صمدیہ ہائی اسکول و جونئیر کالج، بھیونڈی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں