انشائیہ۔۔۔۔۔۔ تگڈا یا تگڈم 0

انشائیہ۔۔۔۔۔۔ تگڈا یا تگڈم

غلام حسن طالب‎

                    تگڈم لفظ کے شروع میں "ت" آتی ہے، بعض اردو،ہندی الفاظ کے شروع میں آنے والی "ت" تین کا مطلب دیتی ہے- چنانچہ اردو لغت میں اس کے لئے تگڈا یا تگڈم یعنی کہ دو طرح کے لفظوں کا اندراج ہوا ہے جن سے مراد صرف تین چیزوں یا آدمیوں کا میل ہے- گویا تین کے گٹھ بندھن سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید دال میں کچھ کالا ہے- ویسے بھی جب تین افراد کسی ایک مقام پر آپس میں ملتے ہیں تو گفتگو عموماً دو کے درمیان ہوتی رہتی ہے اور تیسرا اپنے آپ کو فالتو اور غیر ضروری سمجھتا ہے-ادھر سے کشمیری زبان میں تگڈم کے لئے "تگن گری" کا جو لفظ عام و خاص میں مستعمل ہے وہ بھی اسی قبیل کا ایک ملتا جلتا کردار ہے جس کا نصب العین بغیر مہارت کے اپنی عیاری سے اپنی نام نہاد صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ناکام کوششیں کرنا مقصود ہوتا ہے-کبھی کبھی اس طرح کے عمل سے معمول کے کام سدھرنے کے بجائے بگڑ جاتے ہیں-اس "مان نہ مان میں تیرا مہمان "کی زبردستی سے دوسروں کے معاملات میں خوامخواہ کی ٹانگ اڑانے کے فعل کو تگڈم کہنا بھی کسی حد تک مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس لفظ کی عجیب وغریب ترکیبیں مثلاً تگڈم یا چوگڈم تو کہیں پراگڈم، بگڈم،تگڈم تو کہیں پر تین تگڈم، کام بگڈم یا تین تگاڈا، کام بگاڈا بھی میری نظروں سے گزری ہیں-تگڈم ایک عام فہم لفظ ہے جو اکثر منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہےجو لوگ طرح طرح کے ہتھکنڈوں یا سازشوں یا آپسی گٹھ جوڑ یا جوڑ توڑ یا چال بازیاں وغیرہ کام میں لاتے ہیں وہ تگڈم باز کہلاتے ہیں۔ ایسے عناصرِ لوگوں کے آپسی تعلقات کو نقصان پہنچانے ،باہمی اعتماد کو ختم کرنےاور معاشرے میں انتشار کے ساتھ ساتھ بد اعتمادی پیدا کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔تگڈم کے اندر مفاد پرستی، دھوکہ دہی اور فریب کاری جیسی چالیں نمایاں ہوتی ہیں۔                                      تگڈم کے کئی تسلیم شدہ پہلو ہیں جیسے سیاسی تگڈم، مذہبی تگڈم، تجارتی تگڈم، نشریاتی تگڈم، ادبی تگڈم، ثقافتی تگڈم، سوشل میڈیا تگڈم، سفارتی تگڈم وغیرہ -الغرض تگڈم زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمی سے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہناتی ہے- چاہیے وہ رشتہ داری ہو یا شادی بیاہ کے رچانے کی تیاریاں یا اشتہارات کی چھپائی یا دفتروں کےکام یا زر، زمین اور زن کے تنازعات وغیرہ -تگڑم ایک آرٹ ہے جس کی اداکاری کے لئے ذہن کا زرخیز ہونا اسی انداز میں لازمی ہےجس طرح ایک  زمانے میں امتحانات دینے کے دوران نقل کا سہارا لینے والے امیدواروں کو فارسی کا ایک مقولہ "نقل را عقل درکار است" کی یاد دلائی جاتی تھی -

پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں۔ اپنے محدود تجربے کی بناء پر کہوں گا کہ تگڈم باز اور ہزار داستان جانور کےدرمیان بہت کم فرق ہے- کیونکہ انسان کے پاس ناطقہ ہے جس سے وہ قدرت کے عطا کردہ ساؤنڈ بکس‌ سے آزادانہ طور ہر قسم کی گفتگو کرنے کے اہل ہے جبکہ ہزار داستان کےپاس ناطقہ نہیں ہوتا تاہم وہ ایک ہزار سے کم نہ زیادہ بولیاں بول سکتا ہے- تگڈم باز نہ صرف ایک فلمی ہیروکی طرح بلکہ سٹیج پر کسی ڈرامے کے ایک مرکزی کردار کی حیثیت سے بیشمار رول نبھاتا ہے۔ البتہ ان کرداروں کے رول ادا کرنے میں یہ فرق نمایاں ہے کہ فلموں اور ڈراموں کی اداکاریوں کے لئے پہلے سے ہی ڈائیلاگوں کے اسکرپٹ تیار کئے جاتے ہیں جبکہ تگڈم باز کو کسی قسم کی تربیت یا اسکرپٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا کام دی اینڈ تک سسپنس میں رہتاہےـ
دراصل تگڈم ایک روپ دھاری فعل ہے جس سے تگڈم باز لوگ زندگی کے ہر شعبے میں سرگرم عمل رہ کر اپنا اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ جیسا کہ آپ خود بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تگڈم لفظ سے دوسرا کوئی لفظ نکلنا محال ہے-پھر بھی تگڈم باز جہاں کہیں بھی ہوتا ہےوہ ضرور اپنی تحویل میں موجود شیطانی ہتھیاروں سے کسی نہ کسی ذاتی غرض کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیتا ہے۔ ان ہتھیاروں میں جعلسازی، چالبازی، فند بازی، دغابازی، شعبدہ بازی، سٹےبازی،دھوکہ بازی، چالاکی، عیاری، مکاری وغیرہ شامل ہیں جو بغیر گونج گرج کے خاموشی سے طوفان برپا کرتے ہیں ۔ چنانچہ تگڈم ہرفن مولا کے نام سے مشہوری پانےوالوں کا ایک مؤثر آلہ ہوتاہے-
اگر ہم گہرائی سے جائزہ لیں تو دنیا میں تگڈم بازی سیاسی، سرکاری اور بین الاقوامی سرگرمیوں کی کامیابیوں کے لئے ایک موٹر ذریعہ ہے- تگڈم اور سیاست کا ابتدا سے ہی آپس میں اتنا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے کہ اپنی بڑھتی ہوئی کارکردگی کی بناء پر سیاست گری سماج میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ جس سے بین الاقوامی سطح پربعض ملکوں کی ڈپلومیسی یا خارجہ پالیسی تشکیل پاتی ہے- اسی لئے کبھی کبھی تگڈم بازی سے تین چیزیں یا تین گروہ کے علاوہ تین ممالک یا تین وزرائے اعظم یا تین سفارت کاروں میں آپسی مفادات کی کھچڑی پک جاتی ہے-
جب دنیاوی لالچوں کے حصول کی خاطر بعض لوگ دوسروں کے ساتھ برے سلوک سے‌ پیش آتے ہیں اور ان پر مختلف حربے اور ہتھکنڈے آزماکر انہیں مغلوب کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں تو ایسے منفی رویوں کو لوگ اپنی اپنی علمیت کے مطابق نام دیتے ہیں، حیرانی کی بات یہ ہے کہ انجانے میں وہ کبھی کبھی تگڈم لفظ بھی زبان پر لیتے ہیں۔ در اصل گالی گلوج کی طرح تگڈم بھی قابل سزا جرم قرار نہیں پایا ہے جس کی وجہ سے عوام کی بھاری اکثریت اس لفظ کو آسانی سےلے لیتی ہے اور بالآخر بھول جاتی ہے – زندگی کے کم و بیش تمام آپسی معاملات جیسے عہد و پیماں، پیار ومحبت، تجارت وشراکت، زمین و زراعت، لین دین ، حساب وکتاب ، مال ودولت وغیرہ پر انسانوں کے درمیان کبھی کبھی جو تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں وہ اسی تگڈم کے باعث ہوتی ہیں ۔ فی الحقیقت مختلف النوع کی ریشہ دوانیوں کی شکل میں تگڈم بازی کا دائرہ اختیار اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب سوشل میڈیا پر متنوع نوعیت کی چالیں مشاہدے میں آتی ہیں۔ فونوں پر بھی بنکوں کے اکاؤنٹوں میں موجود بڑی بڑی رقمیں اڑانے کے کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ فیس بک، ووٹ سب، یوٹیوب بھی کچھ کم مایہ نہیں ہیں بلکہ تینوں سے تگڈم بازی کےکرشمے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فونوں کو ہیک کرنے والے بھی تگڈم باز ہی ہوتے ہیں –
جب سے دنیا ڈیجیٹل ہوگئی ہے تگڈم کی کاروائیاں بھی نئے جوش ولولے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں-آج کل لوگ تگڈم سے کام لیتے ہوئے بڑے مہذبانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تاکہ ان کی چالوں کو کسی کو کانوں کان خبر نہ لگے – سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ “چلا جب چال کوا ہنس کی اس کا چلن بدلا” بہرحال انسان بھی کیا عجب ذات ہے، سینکڑوں عیبوں کو چھپانے کے لئے فقط ایک ترکیب یعنی کہ تگڈم کا سہارا لیا جس کی بدولت وہ معصوم اور سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے لگا ہے- لیجئے ! تگڈم کا ایک ہلکا سا نمونہ ملاحظہ کریں -ایک بار ہم گھر میں کیلے کھارہے تھے، اسی دوران ایک جانا پہچانا آدمی گھر میں تشریف لایا جس کو ہم نےایک کیلا ہاتھ میں تھما دیا، اس نے لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا” دیکھیں میری یہ بچپن سےعادت رہی ہے کہ جب میں کیلے کھانا چاہوں تو ایک نہیں بلکہ بیک وقت تین کیلے کھاتا ہوں لہذا ہمارے لئے تین کیلے دینے میں کوئی چارہ نہیں رہا-
�����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں