حاجیو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا 0

کرنل صوفیہ قریشی سے پریس بریفنگ کرانے میں بھارت کی وحدت کے مظاہرے کا اہم لمحہ اور قومی تعمیر میں ہر شہری کی شراکت داری کا پیغام

شمشاد کرالہ واری

تاریخ کے فیصلہ کن لمحات میں قومیں یا تو متحد ہو کر ابھرتی ہیں یا داخلی تقسیم کا شکار ہو کر کمزور ہوتی ہیں۔ جب بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے متوقع جواب میں آپریشن سندور شروع کیا، تو مؤ ثر فوجی کارروائی کا فیصلہ کن اور ناگزیر ہونا طے تھا۔لیکن اصل جنگ محض میزائل حملوں تک محدود نہ تھی، بلکہ یہ جنگ قوم کی شناخت اور اجتماعی قومی ذمہ داری کو نبھانے کے بارے میں بھی تھی۔
جب دنیا دیکھ رہی تھی، بھارت کے تین نمایاںافرادکرنل صوفیہ قریشی، ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ، اور ویکرم مصری نے آپریشن سندور کے بارے میں پہلی سرکاری پریس بریفنگ دی وہ اور بھی کئی زاویوں سے اہم تھی۔ ان تینوں کی موجودگی نہ صرف فوجی حکمت عملی کی نمائندگی کر رہی تھی، بلکہ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ اس بات کو اجاگر کرنے کا کہ بھارت کی طاقت اس کے شہریوںکے اتحاد، شراکت داری، اور اجتماعی قومی ذمہ داری میں مضمر ہے۔
جبکہ کچھ فرقہ وارانہ عناصر پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر ملک کے مسلمانوں باالخصوص کشمیر کے مسلمانوں کو دہشت گردوں کے حامی قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے ان دہشت گردانہ حملہ کرنے والوں کی منشاء کے مطابق سماج کو بانٹنے میں لگے تھے، اس سب کا توڈ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے اس طرح کی پریس بریفنگ کے انعقاد سے اپنا موقف پوری وضاحت سے پیش کیا جو کئی لحاظ سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
اس پریس بیان میں چھپے اسباق میں واضح تھا کہ دہشت گردی کسی مذہب سے وابستہ نہیں ہوتی ہے۔ بھارت سے وفاداری کا تعلق کسی خاص شناخت سے نہیں، بلکہ قومی شعور اور ذمہ داری سے ہے۔ اور ملک کی خودمختاری کا دفاع ہر شہری کا فرض ہے، نہ کہ کسی مخصوص طبقے کا اور جو لوگ اس کے برعکس سوچتے ہیں وہ قوم کی روح کو مجروح کرنے والے ہی ہوسکتے ہیں ۔
یہ محض ایک رسمی فوجی بریفنگ نہیں تھی، بلکہ بھارتی وحدت کے خلاف کام کرنے والے عناصر پر نظریاتی فتح تھی۔
زبان اور شناخت: کسی مخصوص مذہب یا قومیت سے وابستہ نہیں۔

اس بریفنگ میں یہ اشخاص اور زبانوں کا انتخاب واضح طور بھی ایک اور انتہائی علامتی پہلو بھی سامنے لاتاہے جو بیان دینے والوں کی مختلف مذہبی وابستگیوں اور ان کے لسانی تنوع میں نظر آیا۔لیفٹیننٹ کرنل صوفیہ قریشی نے ہندی میں بیان کی ابتداء کی۔ ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے انگریزی میں گفتگو کی جبکہ مسٹرویکرم مصری نے ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں کا استعمال کرنے سے ثابت کردیا ہے کہ کوئی زبان کسی مخصوص مذہب، نسل، یا خطے سے منسلک نہیں۔ زبان محض ایک ذریعہ ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، نہ کہ انہیں تقسیم کرتا ہے۔
یہ انتخاب دانستہ طور پر کیا گیا ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ سکیں۔ اس فوجی اقدار کی سراہنا کی جا نی چاہیے کیونکہ اس سے ایک جڑوں تک اترنے والا سنجیدہ قومی درس ملتا ہےوہ باور کراتا کہ ہر زبان کی اہمیت ہے، اور قومی بیانیہ میں ہر زبان کا کردار ہوتا ہے۔
فرقہ وارانہ چالیں چلانے والوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس میں واضح ہے کہ قومی بحران کو سیاسی مفاد میں بدلنا کسی طور پر ملکی مفادات میں نہیں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کچھ عناصر ہمیشہ سےقومی سانحات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ پہلگام حملے کے بعد ایسے ہی ، چند گروہوں نے فرقہ وارانہ بیانیہ کو ہوا دینے کی کوشش کی، اور کشمیر کے مسلمانوں کو بالخصوص بلاجواز نشانہ بنایا گیا جسمیں کئ لوگ طرح طرح کی روٹیاں سینکتے رہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ سے نہتے لوگوں کو دہشت گردوں کی طرف سے نشانہ بنانے کی مخالفت میں بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ چاہے وہ وندہ ہامہ ہو، چھٹی سنگھ پورہ کی واردات ہویا پلوامہ کاسانحہ رہا ہو انہوں نے بھی اس دہشت گردی کے خلاف بند اور مظاہرہے کئے اور اسی طرح سے انہوں نے پہلگام کے اس حملے کی بھی شدید مذمت کی۔ایسی حرکتوں کو کشمیری کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا۔ پہلے فقط بند اور ہڑتال سے اپنے غم کا اظہار کرتے تھے لیکن آج زبان کے تالے بھی توڑ دئے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب بھارتی عوام کو چاہیے تھا کہ اس یکجہتی کے جذبے کو سلام کرکے فروغ دینے کی بات کرتے نہ کہ اندرونی تقسیم کو ہوا دیتے۔جبکہ کئی لوگوں نے جو کبھی نہ چاث تھے نہ ہی کبھی چاہیں گے کہ کشمیر میں امن قائم ہو کیونکہ ان کی دکانوں پر تالے چڑھ جائیں گے۔ لیکن بھارتی فوج نے کرنل صوفیہ قریشی کو بھی پریس بریفنگ کی ذمہ داری دے کر واضح پیغام دیا کہ بھارت کی سالمیت میں ہر شہری برابر کا حصہ دار ہے۔
قوم کی تعمیر ہر کسی کی شمولیت کے ذریعے ہوتی ہے، تنہا کسی ایک طبقے کے ذریعے نہیں۔
دنیا کے کامیاب ممالک ان ہی اصولوں پر قائم ہوتے ہیں اور بھارتی فوج نے ثابت کر دیا ہم کسی سے کم نہیں ۔اور وقت کے نبض کو پہچانتے ہیں ۔اعتماد، تنوع، اور مشترکہ مقصد کے لئے فرقہ واریت کو نہیں، بلکہ اجتماعیت کو فروغ دینا ہوگا ۔
بھارت کی فوج نے اس حقیقت کو ثابت کر دیاکہ کوئی بھی شخص، کسی بھی مذہب یا شناخت سے تعلق رکھتا ہو، بھارت کے دفاع میں برابر کا کردار ادا کرتا ہے۔
میڈیا کی ذمہ داری: سچائی بمقابلہ سنسنی خیزی۔
اگرچہ جناب ویکرم مصری نے نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں بھارتی فوج کی شفافیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کچھ میڈیا ادارے بالکل اسکے برعکس اچھل کود کرنے کے ساتھ ناحق کی اچھل کود کرتے رہے یہاں تک کہ اعداد و شمار تک غلط پیش کرنے لگے۔کچھ نے سندور حملے کے نث میں 90 ہلاکتوں کی خبر دی جبکہ کچھ نے اعدادوشمار کو 900 تک پہنچا دیا، جب کہ فوج نے واضح طور پر بتایا تھا کہ کوئی شہری علاقہ نشانہ نہیں بنایا گیاہے۔ اورکسی ہلاکت کا زکر بھی نہیں کیاگیا تھا۔
غلط معلومات عوام کے ذہنوں کو مسموم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ غلط معلومات قومی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
اس لیے میڈیا کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور سرکاری حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرے، تاکہ قوم سچائی پر کھڑی ہو، نہ کہ افواہوں پر۔ بھارت نے بین الاقوامی برادری کو سچائی کے ساتھ بتایا تھا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کا اس کے پاس جواز ہے لیکن چند میڈیا چینلوں نے ،مور لائل دین کنگ، ثابت کرنے کے لئے بے سرو پیر ویڈیوز پر اچھل کود کرکے پار کے ہینڈلرس کو بھی اسی میدان میں بے تکی مارنے کی راہ بتا دی۔ یہاں تک کہ دیکھنے والے اوب گئے ۔اللہ بھلا کر Alt News کے زبیر کو جس نے دونوں طرف کی جھوٹی کہانیوں کو ننگا کیا اور اپنی حب الوطنی کا حق نبھایا جبکہ آرام دہ کمروں میں بیٹھنے والے کئی نکمے مسخرےyeh dil mangay more کی خواہش سے اپنی بیمار ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کو کہاں معلوم کہ ایسی کاروائیوں کیلئے حکمت عملی سے کام لیا جاتا ہے تاکہ دشمن کو سر اٹھانے کا موقعہ نہ ملے۔ حالانکہ جنگ کیلئے کسی کو بھی خوش ہونا نہیں چاہئے۔ شاید اسی وجہ سے گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر جنگوں میں امیروں کے بچے مر جاتے تو دنیا سے جنگیں ختم ہوجاتیں۔
ایک مضبوط بھارت کی تشکیل کے لئے اجتماعیت واحد اہم ذریعہ ہے جو ہمیں کرنل قریشی، ونگ کمانڈر سنگھ، اور مسٹر ویکرم مصری نے سمجھایا ہے۔ یہ محض ایک بریفنگ نہیں تھی بلکہ انہوں نے قوم کو یہ سکھایا کہ سچا حب الوطنی مذہب یا نسل سے نہیں مانپا جاتا ہے، بلکہ اجتماعیت اور ذمہ داری کا احساس اسکے مانپنے کا میزان مانا جاتا ہے۔
محبت وطن ہونے کے لیے کسی خاص مذہب سے تعلق ہونا ضروری نہیں۔ غداری تو ہم مذہب اور ہم وطن بھی کرتے ہیں ۔ کئی لوگ اپنی چاپلوسی سے اپنے لئے عیش کوشی میں لگے رہتے ہیں اور وقت ضرورت مورچہ چھوڑ کر بھی چلے جاتے ہیں ۔
محب وطن ہونے کے لیے کسی خاص علاقے ، مذہب، ذات اور برادری سے تعلق ہونا ضروری نہیں۔بھارتی فوج نے وقت وقت پر اس کا ثبوت پیش کیا ہے۔
وطن کی محبت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ملک کے دفاع اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں نہ دھوپ چھاؤں کی تلاش میں اپنی غیرت تک کو نیلام کر کے موچھوں کو تاؤ دیا جائے ۔ اسکے لئے بہادری کے ساتھ جان دینے کا بھی حوصلہ ہونا چاہیے تب جاکر معرکے سر کئے جاتے ہیں جو ہماری فوج نے بار بار سر کر کے دئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں