کرنل صوفیہ قریشی سے پریس بریفنگ کرانے میں بھارت کی وحدت کے مظاہرے کا اہم لمحہ اور قومی تعمیر میں ہر شہری کی شراکت داری کا پیغام 0

“سچائی کے ساتھ کشمیر کی پکار ۔۔۔قابل داد نہ کہ لائق پھٹکار”

شمشاد کرالہ واری

سقراط نے ایک بار کہا تھا “اگر کوئی گدھا مجھے لات مارے، تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا، شکایت کروں گا یا اسے واپس لات ماروں گا؟”
یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر بحث جیتنےکے قابل نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر مقابلہ کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ اصل حکمت یہ ہے کہ بحث کی اپنی توانائی کو ان لوگوں پر خرچ کیا جائے جو اس کے مستحق ہوں، نہ کہ ان پر جو صرف انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ ہیلی میرین نے بھی کہا ہے کہ
“کسی سے بحث کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں کیا وہ شخص ذہنی طور پر اتنا بالغ ہے کہ مختلف نقطہ نظر کو سمجھ سکے؟ اگر نہیں، تو بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
یہ فلسفہ آج کے دور میں اور بھی زیادہ اہم ہے، جہاں جہالت چیختی ہے اور عقل خاموش رہتی ہے۔ جب کسی کے پاس دینے کیلئے صرف توہین اور شور شرابے کے سوا کچھ نہ ہو، تو سب سے طاقتور جواب خاموشی ہوتا ہے۔سچی ذہانت کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اپنی روشنی سے خود بخود نمایاں ہو جاتی ہے۔ لیکن مصلحت کے تحت سچ بات کہنے سے گریز کرنا جھوٹ کو ساتھ دینے کے مترادف بھی ہے۔
اسی تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے 2005میں دئیے گئے بیان کو یاد کرانے کی اہمیت مزید واضح ہوکر ہم ضرورت کے وقت سچ بات کہنے کے سنہرے اصول پر کار بند رہ کر وزیراعظم کو ان کے الفاظ کی یاد تازہ کرانا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ
“میں اسلامی نظریے کے خلاف نہیں ہوں، بالکل بھی نہیں۔ اور کوئی بھی ہندو اگر اسلام کے خلاف ہے، تو وہ ہندو نہیں ہے، کیونکہ ہندو مت نے یہی سکھایا ہے سرو دھرم سمان بھاو (تمام مذاہب برابر ہیں)۔”
یہ الفاظ ہندوستان کے کثیر المذہبی تشخص کی اصل روح کو ظاہر کرتے ہیں، ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اتحاد اور باہمی عزت و احترام ہی ہماری اصل طاقت ہے۔لیکن عالمی تناظر میں اس اہم تبدیلی کے وقت جب ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور دنیا میں طاقتور ملکوں کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے، جس میں “تجارتی جنگ” نے نئے عالمی نظام کو جنم دیا ہےاور جب اس منظرنامے میں ہندوستان ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے کیونکہ عالمی کشمکش میں یہ ملک ایک بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ عین اسی موقع پر پرائم منسٹر صاحب کو ان کے ہی الفاظ یاد تازہ کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تاکہ ان حالات میں عاید ہونے والی ذمہ داری کو سمجھا جائے۔ یہ ذمہ داری اقتدار میں حصہ دار ہر کسی چھوٹے بڑے فرد کو محسوس کرنی ہوگی۔ ہمیں خود بھی بحیثیت ایک شہری کے اپنا حق ادا کرنا ہوگا کہ گمراہ افراد اور مخصوص بد ذہنیت کے میڈیا حلقوں کو عالمی قوتوں یا ہمارے قریبی پڑوسیوں کے ہاتھوں کا آلہ کار نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔
کشمیر، اپنی تاریخ اور عوام کے جذبے کے ساتھ، ہمیشہ ہندوستان کی رنگا رنگی کی نہ صرف پہچان رہا ہے بلکہ اسی کی سر زمین سے دنیا بھر میں مشہور نام ” ہندوستان” بھی ملا ہے ۔عربی زبان میں لکھی گئی ایک قدیم کتاب کے حوالے سے کہنا چاہوں گا جسکا ترجمہ ” عجائبا ت ہند کے نام سے فارسی زبان میں نظروں سے گزرا ہے جس میں مصنف نے سندھ سے لیکر موجودہ کشمیر جسمیں کشتواڑ تک کا علاقہ تھا کو کشمیر بالا اور کنوج تک کے پھیلے علاقے کا کشمیر پائین کے نام سے ذکر کیا ہے اور ساتھ یہی لکھا ہے کہ سندھ کے اسی علاقے کو ہندوستان بھی کہا جاتا ہے ۔ لیکن مفرور زمانہ نے کشمیر کو آج کی موجودہ حالت تک پہونچایا کہ کشمیریوں کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں ملا خاص طور سے سینتالیس تک اس کے بعد بھی کشمیری کبھی چین سے نہیں رہ سکا۔ پچھلے 35 سال کا حال تو کسی سے چھپا نہیں ہے جس دوران میں صدیوں سے چلی آئی وراثت کی بیخ کنی کرکے بھائی اور بھائی کے درمیان میں خلیج پیدا کی گئی جس میں بیرونی ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اندرونی ہاتھ بھی شامل رہا ۔ اس چکی میں کوئی اور نہیں بلکہ کشمیری مسلمان، پنڈت اور سکھ یکسان طور پر پسے گئے اور سیاست کاری میں فایدہ اٹھانے والے مجموعی طور پر کشمیریوں کے جذبات سے کھیل کر اپنی روٹیاں سینکتے گئے۔ کشمیری متاثرین نے اس ساری افراتفری میں سبھوں کو دیکھا پرکھا اور سمجھ لیا کہ ان کا کوئی ہمدرد نہیں ہے بلکہ وہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے جاتے ہیں۔ اس غرض سے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کی سعی کی گئی اور کشمیریوں نے ملکی سطح پر کیے گئے ہر قدم کا ساتھ دیا یہاں تک کہ چوبیس کے چناؤ میں اپنے دشمنوں کا منہ توڑ جواب دیا اور ایک سازگار ماحول بنانے میں بھرپور کردار نبھایا جو کشمیر کو سیاسی اور تجارتی نگاہ سے بیچنے والوں کی نظروں میں کھٹکتا رہا اور پہلگام سانحہ پیش آیا۔اس میں بھی کشمیری عوام نے جس طرح سے انسانیت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ لیکن زخمیوں کو بچانے میں ان کی طرف سے کی گئی پہل، خوفزدہ سیاحوں کو گھروں میں پناہ دے کر انکی مہمان نوازی اور ان سیاحوں کو عزت و احترام سے نوازنے کی کوششوں کو غلط رنگ دے کر اس عمل کو کشمیریوں کی خود غرضی کے تعبیر کیا گیا نہ کہ ایک بدلی ہوئی فضاء کے طورپر ۔یہ وہ اعمال ہیں جو کسی منقسم قوم کے نہیں، بلکہ ان شہریوں کے ہوتے ہیں جو ملک میں اپنی جگہ کو پہچانتے ہیں مانتے ہیں۔ ہر کشمیری نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو سخت سزا دی جائے نہ کہ عام شہریوں کو جنہوں نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔
مگر، اس کے باوجود کشمیریوں کو بغیر کسی وجہ کے وفاداری کے امتحان سے گزارا جارہا ہے، جبکہ وہ عناصر جو کشمیر کے خلاف کھلے عام نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ یہ نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ملک کے ساتھ ناانصافی ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ سچا اتحاد دباؤ یا شک کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتاہے۔یہ تو اعتماد، انصاف اور باہمی احترام پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
انصاف اور حکمت کی ضرورت کے خلاف عمل کیا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے چاہا کہ اپنی رائے کو ظاہر کرنا چاہیے کیونکہ
جیسے جیسے ہندوستان عالمی اسٹیج پر اپنے کردار کو آگے بڑھا رہا ہے، اسی طرح سےداخلی چیلنجز کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ایسا ماحول تیار کیا جائے کہ ملک کے کسی بھی فرد کے ساتھ نا انصافی نا کی جائے خاص طور سے کشمیری عوام کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو رائیگاں نہ ہونے دیا جائے ۔ ہر کسی کے ذہن میں بالعموم اور کشمیریوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو دیش دروہی نہیں بلکہ جمہوریت کی آبیاری سمجھا جائے۔سیکیورٹی کی ناکامی، جوابدہی میں کمی، اور انتشار پھیلانے والے عناصر کا کرداربھی جیسے سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ماتم کے ماحول میں کشمیر کا دورہ کرنے کے بجائے خود وزیر اعظم کی طرف سے بہار کی چناوی ریلی میں نتیش کمار کے ساتھ کہکہوں سے چہرے پر کھلکھلا ہٹ آنے جواز پر سوال اٹھائے جانے والوں کو ملکی آئین کے حامی سمجھ کر شاباشی ملنی چاہیے نہ کہ دھونس اور دباؤ۔
یہ وقت ملک کی آبادی کو تقسیم در تقسیم کرنے والوں کی آوازوں کو روکنے اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے۔ اگر لوگ واقعی ایک مضبوط ہندوستان چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے تمام شہریوں کو برابر سمجھنا ہوگا، اور کشمیریوں کو بھی وہی عزت دینی ہوگی جو باقی ملک کے عوام کو حاصل ہے۔ جو ان لوگوں کو حاصل ہے جو ملک میں افراتفری اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور دہشت گردوں سے آگےبڑھ کر ملک کی بنیادوں کو ہلانے کے کام سر انجام دینے کے باوجود کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں ۔ایک کی طرف سے گالی گلوج ، دھمکی۔ جان سے مارنے ، مارپیٹ کرنے ،مال لوٹنے ، دکانوں کو بند کرانےکو کیسے دیش بھگتی اور دوسرے کے خلوص کو غداری اور دیش دروہی مانا جائے ۔ کشمیری نے ٹورازم کے بغیر بھی زندگی گزاری ہے اور اقتصادی ناکہ بندی میں بھی بھیک نہیں مانگی ہے ۔ اس وقت اسکی صدیوں پرانی وراثت کو بھیک مانگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے جو عام کشمیری کے عزت نفس کو ٹھیس پہونچاتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ لوگ کشمیریوں کی صدیوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں ۔ علامہ اقبال نے اسی کے پیش نظر کہا ہے کہ ”
ایران و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشان ہمارا
کشمیریوں کو مہاراجہ اشوک، للتادتیہ اور بادشاہ کی وراثت اور شہدائے کربلا کے جانبازوں کی حرارت والا خون رگوں میں روان دواں رہا ہے جس وجہ سے پورس نے الیکزینڈر کو اور عام کشمیریوں نے مغلوں کو چنے چبوائے ہیں۔ یہ کلہن غنی اور صرفی کے خوشہ چین ہیں جو علم وحلم و فضل کے پروردہ ہیں جنہوں نے کبھی بھی دانشمندی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے ۔ یہاں پر غنی کشمیری کا زکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کو بادشاہ وقت اورنگزیب نے دربار میں حاضر ہونے کےلئے دعوت بھیج دی اور غنی کشمیری نے اس دعوت کو مسترد کردیا اگرچہ بعد میں لوگوں کے بٹھکے جانے کی بہت ساری مثالیں بھی موجود ہیں لیکن بہ ایں ہمہ علامہ اقبال کا ہی یہ شعر کشمیری نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے جسمیں اس نے کہا ہے ۔
“اے طاہرِ لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
” لہذایہ وقت نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستان کے لئے ایک تبدیلی کا موقع ہے۔ کشمیری کو موقع دیکر معاشرے کی تعمیر وترقی میں حصہ لینے دیاجائے نہ کہ مفلوک الحال بنائے جانے کے منصوبے بنا کر اس کی صلاحیتوں کو دبایا جائے۔ صاحبان اقتدار کو آگے بڑھنے کے لئے سچائی، انصاف اور حکمت کے راستے کو اپنانا ہوگا۔ اگر ہم ایک پُرامن اور متحدہ ہندوستان چاہتے ہیں، تو ہمیں نفرت پھیلانے والوں کو مسترد کرنا ہوگا اور ان عناصر کو پہچاننا ہوگا جو ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں ہماچل پردیش کی کانگریس سرکار کو بھی پرکھا جارہا کہ وہ بدامنی پھیلا نے والوں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے ورنہ کانگریس کا دوگلا پن بھی وقت آنے پر بے نقاب ہوگا ۔ سیاسی اور تجارتی مفادات سے بالاتر ہوکر اس سوچ کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ہیں، اور اسی یکجہتی میں ہماری اصل طاقت ہے۔ورنہ دہشتگردی کسی بھی دھرم کی طرف سے کی جائے دہشت گردی ہی کہلائی جا ئیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں