سوگوار غزل 0

سوگوار غزل

پرویز مانوس

جنگلوں میں بھی بنا ڈالے ہیں تم نے اب مچان
تھرتھراتی ہے یہ دھرتی رو رہا ہے آسمان

بے گناہوں کا لہو تم نے بہا کر آج پھر
پھر سے لکھ ڈالی ہے وحشت کی نئی اک داستان

یاد رکھ یہ مٹ نہیں سکتےکسی بھی دورھ سے
آستینوں پر تری جو لگ گئے خوں کے نشان

صوفیوں سنتوں کی دھرتی ہو گئی بدنام پھر
آج اپنے ظلم سے تو نے اجاڑے خاندان

دیکھ کر کرتوت تیرے اے درندے آج پھر
سوگ میں ڈوبی ہے وادی شہر ہے ماتم کنان

ایک چیونٹی مارنے کو بھی نہیں کرتا ہے دل
ظالمو معصوم انسانوں کی تم نے لے لی جان

تجھ کو اک اک خون کے قطرے کا دینا ہے حساب
تیرے آقاؤں کا اب مٹ جائے گا نام و نشان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں