ہائے وہ لمحے جب دل ٹوٹ گیا 0

ہائے وہ لمحے جب دل ٹوٹ گیا

الطاف جمیل شاہ سوپور

عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

قاتل و غارت گری کے سوداگروں کو کیا وہ تو اپنی وحشت کے سائے میں جی رہے ہوتے ہیں انہیں تو لہو کی بو سے ہی سکون ملتا ہے، اب ان کے ظلم و تشدد سے کس کی زندگی ۔دنیا برباد ہوتی ہے یہ احساس و مروت سے خالی دل و دماغ والے اس کو نہیں سمجھتے وہ تو بس اپنی پیاس لہو سے بجھانے کی تلاش کرتے ہیں خون خواہ کسی بھی رنگ و نسل مذہب و ملت کے معصوم و مظلوم کا گرے، اسے ظلم سے ہی تعبیر کیا جائے گا پھر جب یہ عام انسانوں کا ہو تو ظلم کی حد بڑھ جاتی ہے، انسان گر اپنی انسانیت سے عاری ہوجائے تو اس میں۔ درندگی اور وحشیانہ خصائل پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ خصائل عام لوگوں میں کم اور خواص میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں ہم اس لہو کے رنگ سے آشناء ہیں کہ اس کی بو کس قدر اذیت ناک ہوتی ہے یہ صرف وہ جانتے ہیں جن کے اپنوں کا لہو گرتا ہے گرانے والے کا کیا وہ پل بھر رکا اور چل دیا اور جس کا لہو گرا اس کے عزیز و اوقارب کے لئے تو یہ تمام زندگی کے لئے ایک بربادی کی ابتداء ہوتی ہے نا ممکن ہوتا ہے وہ اس اذیت و المیہ کے غم سے چھٹکارا پاسکیں کیوں کہ اپنوں کا درد تا زندگی رلاتا رہتا ہے۔۔ ہنستے کھیلتے ہوئے لوگ کل جب اپنی اڑان بھرنے کے لئے خوشیوں کو سمیٹ رہے تھے وہ اپنی زندگیوں کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہورہے تھے جب ان کی تمنائیں امیدیں آسمان کو چھو رہی تھیں جب وہ اپنی دنیا کے حسیں و دلکش لمحات کو یادگار بنا رہے تھے کہ اچانک کہیں سے درندہ صفت وحشت و بربریت کے سوداگروں نے آکر زندگی کے لطف کو مٹی میں ملا دیا ہر طرف چینخ و پکار کی المناک صدائیں گونجنیں لگیں آہ و بکا بلند ہوئی اپنے اپنوں سے لپٹ کر چیخنے لگے،، پل بھر پہلے جس کے ساتھ زندگی گزارنے کی قسمیں اٹھائی جارہی تھی اب انہیں کی میت پر غم و الم کی تصویر بنے آبدیدہ نگاہوں سے اپنی اجڑی دنیا دیکھ رہے تھے یہ خبر جوں ہی عام ہوئی پوری وادی میں جیسے شام غم چھا گئی ہر کوئی حیران و ششدر رہ گیا کیوں کہ یہ المیہ ہی ایسا تھا جس نے میتوں کے ساتھ ساتھ زندوں کو بھی بربادیوں کی اور دھکیل دیا۔
ایک تصویر جو عام ہوئی اس میں ایک خاتون اپنے شوہر کی میت کے سامنے بیٹھی گم صم تھی جس نے دیکھی وہ اداسیوں کا ہیولہ بن گیا دل افسردہ اور نگاہ نمدیدہ ہوگئی میں نے بھی دیکھی پر یہ تصویر دیکھ کر بہت زیادہ اداس ہوں، اس بہن کے کرب و اذیت کا اندازہ کرنا دشوار نہیں بلکہ ناممکن ہے، اس کے پورے وجود میں کس شدت کا کرب و الم کروٹیں لے رہا ہوگا یہ سوچ و سمجھ سے بہت دور ہے، یہ کس اذیت و المیہ سے ٹوٹ پھوٹ رہی ہوگئی ہم سوچ بھی نہیں سکتے ، سنا ہے چند یوم پہلے ہی اس کی خوشیوں کا جہاں آباد ہوا تھا اس نے اپنی دنیا میں الفت و محبت کی اک نئی اڑان بھرنے کو پر کھول لئے تھی یہ مانند چاند اپنے وجود کو مسرت و شادمانیوں کے سمندر میں ڈوبو رہی تھی اس نے اپنے شریک حیات کے ساتھ خوشیوں کو دو بالا کرنے کے لئے وادی کشمیر کی خوشبوؤں میں سما جانے کے لئے وادی کے دلفریب و دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے وادی کا رخ کیا تھا اسے کیا خبر تھی کہ اس کی خوشیوں مسرتوں کو آنسوؤں اور سسکیوں میں بدلنے والا کوئی درندہ وحشی اس کے انتظار میں کھڑا اس کے جہاں کو برباد کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ہے جس نے اپنے انسانیت سوز ظلم و فساد سے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے کہ اک نہتے انسان کی خوشیوں کو غم والم میں بدل دیا یہ وحشت و بربریت کے سوداگر کسی کے اپنے نہیں ہوتے ان کا کوئی رنگ نسل مذہب قوم نہیں ہوتی یہ بس وحشت و بربریت کے بدترین وجود کے ساتھ انسانی ہیولے کے ساتھ ہوتے ہیں، اک مظلوم پر ظلم کی یوں برسات کردینا انسانی وجود کے لئے ممکن نہیں میدان حشر میں ان مظلوموں کی طرف سے جب ظلم و فساد کے ان بدترین سوداگروں سے یہ مظلوم بدلہ مانگیں گئے کیا جواب ہوگا ان کا ،، خون ہے ابال تو آیے گا ظلم ہے پکارے گا ہی تو ایسے وحشت و بربریت کے تاجر کیا کریں گے جب مظلوموں کی صداؤں سے مظلوموں کا خالق و مالک قہر برسائے گا،
خون ناحق کہیں چھپتا ہے چھپائے سے امیرؔ
کیوں مری لاش پہ بیٹھے ہیں وہ دامن ڈالے
ان بے بس انسانوں کی چینخ و پکار کی صدائیں کو دل و جان میں لرزہ طاری کررہی تھی جس نے بھی سنا دیکھا ممکن نہیں کہ اس نے آرام کی نیند کی ہوگئی جس کے سینے میں دل ہوگا ۔
عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
میں اس تصویر کو دیکھ کر اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پارہا ہوں، میں مطمئن بھی نہیں ہو پارہا ہوں، اس تصویر کے اندر چھپے کرب و اذیت کا احساس کیسے کیا جاسکتا ہے، ایسا لگتا کے کہ کوئی اپنی خوشیوں و مسرتوں شادمانیوں کو کفن پہنا کر خاموش بیٹھا اپنی بربادیوں کا کرب بتا رہا ہے سوچ رہا ہوں کہ کیسے اس قدر کوئی وحشی ہوسکتا ہے، عجیب کرب و الم ہے کہ جو لوگ ہواؤں میں بسی خوشبوؤں کو محسوس کرنے آئے تھے، جو لوگ ہواؤں کی ہلکی ہلکی سی تسکین پیدا کرنے والی مسرت سے محظوظ ہونے کو آئے تھے جو قدرت کے حسین و دلفریب مناظر سے لطف اندوز ہونے کو آئے تھے انہیں کسی وحشی نے خون کی مہک سے آشنائی کرادی۔ ایسا ہی لگا کہ جیسے بادلوں کی بوندا باندی سے قلب و جان کو تسکین دینے والے کو اچانک احساس ہو کہ بارشوں کے بجائے یہاں بادلوں سے خون کی بوندا باندی ہونے لگی ہے الفاظ جس لمحے مرجاتے ہیں نا یہ ایسا ہی لمحہ ہے جب زبان گنگ ہوجائے جب قلب و جگر کا اضطراب تڑپا دے جب پورا وجود لرزنے لگے ایسے ہی وحشیانہ مناظر ہوتے ہیں وہ، ،،،،،
مجھے ہر اس انسان سے ہمدردی ہے اس کا کرب و الم کروٹیں بدلنے پر مجبور کرتا ہے لیکن نہ جانے کیوں یہ تصویر مجھے جیسے کہہ رہی ہے میں بہن ہوں تمہاری بیٹی ہوں میری کیا خطا تھی کہ میری دنیا کو اجاڈ دیا گیا،، پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا حال گر یہ کل میدان حشر میں میرے ہادی میرے پیارے نبی ﷺ کو سنا دے تو ان کی مبارک نگاہوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہے گا گر اس نے اپنی مظلومیت کی روداد سنا دی اپنے خالق و مالک کو سنا دی تو کیا ہوگا ہائے، میں اس انسانی المیہ پر کیا لکھوں اس میں لکھا نہیں جاسکتا بس اس کرب کو محسوس کیا جاسکتا ہے اور اس ظلم و بربریت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کاش یہ وحشت و بربریت کی بھی موت آتی شاید انسان کو سکون میسر آجاتا بس یہ حسرت ہے قلب مضطرب کی،،، مجھے اپنے آس مظالم و مجبور غریب بھائی کا وحشیانہ قتل اداس کر رہا ہے جو اپنی دنیا کا ایک ایک لمحہ ایک ایک خوشی کی تلاش میں دن بھر محنت ومشقت کرتے ہوئے جی رہا تھا جس کا وجود محنت و مشقت کا عادی ہوگیا تھا اس مظلوم نے آخر کس کا کیا اجاڑا تھا وہ تو اپنی دنیا میں خوشی سے جھوم رہا تھا اس نے انسانیت کو شرمسار ہونے سے بچانے کے لئے اپنی زندگی لٹا دی اس کی قربانی قابل رشک ہے پر اس کے کنبے کا کیا ہوگا اس کے گھر میں کیسا سماں ہوگا یہ سب ایسا ہے کہ ہم خوشیوں کے اس قبرستان میں ہیں جہاں خوشیوں کی مہِک مہلک ہے جہاں مسرت و شادمانی کا قبرستان ہے جہاں قہقہے نہیں بلند ہوتے۔۔ جہاں سوائے چینخ و پکار سسکیوں کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں۔ دیتا یہ ہمارا وجود کیسا وجود ہے جہاں انسانیت دم بخود ہے بس ہم المیوں میں جی رہے ہیں اب تک اللہ اب نجات دے۔
������

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں